Header Ads

Breaking News
recent

ہماری سبز جنت خطرے میں ہے

ویت نام ایک خوبصورت ملک تھا،اس کا زمینی رقبہ صرف اٹھارہ فیصد تھا، چالیس فیصد علاقہ پہاڑوں پر مشتمل تھا جبکہ باقی بیالیس فیصد رقبے پر گھنے جنگلات پائے جاتے تھے۔ ویت نام کے یہ گھنے جنگلات کسی ملک کی ترقی کیلئے کم از کم درکار جنگلات سے بھی دوگنا زیادہ رقبے پر واقع تھے۔ چالیس فیصد پہاڑوں کا بڑا حصہ بھی شنگریلا (سرسبز) پہاڑی سلسلوں پر مشتمل تھا۔ ویت نام کے ’’ہالانگ بے‘‘ اور ’’پھونگ نہاکی بینگ نیشنل پارک‘‘ جیسے سرسبزو شاداب مقامات کو عالمی قدرتی ورثہ کی حیثیت جبکہ چھ دیگر مقامات کو عالمی حیاتیاتی ذخیرے کی حیثیت حاصل تھی۔

 ویت نام کے اسی حیاتیاتی و نباتاتی حسن کی وجہ سے اسے دنیا کی ’’سبز جنت‘‘ بھی کہا جاتا تھا، لیکن اس سبز جنت کو اُس وقت نظر لگ گئی جب ساٹھ کی دہائی میں امریکہ نے ویتنام پر چڑھائی کردی۔ اِس چڑھائی کے جواب میں ویتنامیوں نے بے مثال مزاحمت کا مظاہرہ تو کیا لیکن اس مزاحمت کی قیمت انہیں لاکھوں انسانی جانیں دیکر چکانا پڑی۔ اس جنگ میںانسانی ہلاکتوں کی تعداد کے اندازے اور دعوے 8 لاکھ سے 31 لاکھ کے درمیان سامنے آئے۔
امریکہ کی اس جارحیت کے نتیجے میں جانی نقصان کے علاوہ ویت نام کو سب سے زیادہ نقصان جنگلات کی تباہی کے نتیجے میں ماحولیات کو پہنچا۔مزاحمت کار چونکہ جنگلوں میں پناہ لیتے تھے، اس لیے امریکہ نے جنگلات میں چھپے مزاحمت کاروں کو کچلنے اور مزاحمت کاروں کی پناہ گاہیں ختم کرنے کیلئے جنگلات کو آگ لگانا شروع کردی، جہاں آگ نہ لگائی جاسکی، وہاں سبزہ کش کیمیائی ہتھیاروں کی بمباری (ہربی سائیڈزکا چھڑکاؤ) کیا گیا، جس سے جنگلات کا بڑا حصہ پت جھڑ کا شکار ہوکر ختم ہوگیا۔ ماحولیاتی مسائل کے حل کیلئے کام کر نیوالے ادارے ’’پیسٹی سائیڈ ایکشن نیٹ ورک نارتھ امریکا‘‘ کیمطابق ویت نام میں صرف بموں کی وجہ سے 20 لاکھ ایکڑ پر مشتمل جنگلات تباہ ہوگئے 

جبکہ تباہ ہونیوالے جنگلات میں 50 فیصد مینگرووز (دریائی و سمندری ساحلی گھنے) جنگلات بھی تھے جو ماحولیات کی بقاء میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایک اندازے کیمطابق امریکہ نے ویت نام کے جنگلات میں دو کروڑ گیلن ہربی سائیڈز کا چھڑکاؤ کیا۔ ان کیمیائی ہتھیاروں کا اثر صرف سبزے پر ہی نہیں ہوا بلکہ جنگلی حیات پر بھی اس کا انتہائی منفی اثر پڑا، مثال کے طور پر جنگ سے قبل متاثرہ علاقوں میں جہاں پرندوں کی 145سے 170 اقسام پائی جاتی تھیں، وہاں صرف 24قسم کے پرندے باقی رہ گئے جبکہ چھڑکاؤ سے قبل اِن جنگلات میں 30سے 55اقسام کے ممالیہ جانور موجود تھے لیکن جنگ کے بعدوہاں صرف 5 اقسام کے ممالیہ جانور باقی رہ گئے۔
جنگ سے صرف ویتنام ہی متاثر نہیں ہوا تھا بلکہ بیسویں صدی کے بعد جہاں بھی جنگ لڑی گئی، وہاں ماحولیات کو اسی طرح شدید اور ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ مثلا روانڈا کی خانہ جنگی اور شورش کے نتیجے میں جہاں 8 لاکھ افراد ہلاک ہوئے، وہیں تقریبا بیس لاکھ افراد کو نقل مکانی کا سامنا بھی کرنا پڑا، نقل مکانی کرنے والوں کو رہائش اور انہیں ایندھن کی فراہمی کیلئے جنگلات کا ایک بڑا حصہ کاٹ کر ماحولیات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا۔ 90ء کی دہائی میں خلیجی جنگ میں عراق کی جانب سے تیل کے کنووں کو آگ لگانے سے جہاں عمومی درجہ حرارت میں اضافہ ہوا وہیں خلیج فارس میں تیل بہائے جانے سے سمندری و آبی حیات کو بھی نقصان پہنچا۔’’اکیڈمی آف نیچرل سائنسز آف فلاڈلفیا‘‘ کی رپورٹ کے مطابق کمبوڈیا کی دو دہائیوں پر محیط خانہ جنگی میں قدرتی جنگلات کا 35 فیصد حصہ تباہ کردیا گیا۔

ماحولیاتی مسائل سے ہونیوالی ہلاکتوں میں سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں انگولا، برکینا فاسو اور مالی شامل ہیں جبکہ چار دہائیوں سے غیر ملکی جارحیت اور خانہ جنگی کے نتیجے میں مسلسل کارزارِ جنگ بنا افغانستان ماحولیاتی مسائل سے ہونیوالی ہلاکت خیزی اور تباہ کاریوں میں دنیا میں چوتھے نمبر پرہے۔اقوام متحدہ کے مطابق افغان صوبے، بادغیس اور تخار میں پستہ کے 50 فیصد سے زائد جنگلات گزشتہ کچھ دہائیوں سے تباہ ہو چکے ہیں۔ خانہ جنگی کے دوران شمالی اتحاد کی جانب سے مخالفین کے چھپنے کی جگہ کیلئے استعمال ہونیوالے جنگلات کو بھی کاٹا جا چکا ہے۔
دنیا میں جنگوں سے ماحولیات کو براہ راست ہی نقصان نہیں پہنچ رہا بلکہ بالواسطہ طور پر بھی ماحولیات نشانے پر ہے۔ مثال کے طور پر ایک رپورٹ کیمطابق میانمار، کمبوڈیا، انڈونیشیا، لائبیریا،سینی گال، کولمبیا اور کانگو میں جاری خانہ جنگی میں جنگلات کی لکڑی سے حاصل ہونیوالے وسائل کا استعمال کیا جارہا ہے۔ انگولا کی جنگ میں تیل اور ہیرے، میانمار کی جنگ میں لکڑی، ٹن، قیمتی پتھر اور افیون ، کمبوڈیا کی خانہ جنگی میں لکڑی اور ہیرے جبکہ کولمبیا کی جنگ میں تیل، سونا، کوکا، لکڑی اور زمرد بیچ کر جنگی اخراجات پورے کیے جارہے ہیں۔ اسی طرح کانگوکی خانہ جنگی میں تانبہ، کولٹن، ہیرے، سونا ،کوبالٹ، لکڑی ، تیل اور ٹن، آئیوری کوسٹ میں ہیرے اورکوکا ،آچے (انڈونیشیا) کی لڑائی میں لکڑی اور قدرتی گیس جبکہ ویسٹ پاپوا (انڈونیشیا) میں تانبے، سونا اور لکڑی کے قومی معدنی وسائل پر ہاتھ صاف کیا جارہا ہے۔

لائبیریا میں جنگجو لکڑی ، ہیرے ، لوہا ، پام آئل، کوکا، کافی، ربڑ اور سونا، پیرومیں کوکا ، سینی گال میں لکڑی اور کاجو، سری لیون میں ہیرے، کو کا اور کافی، صومالیہ میں مچھلی اور چار کول جبکہ سوڈان میں تیل بیچ کر اسلحہ خریدتے ہیں اور لڑنے والوں کو تنخواہوں کی ادائیگی کرتے ہیں، یوں قدرتی و معدنی ذخائر بھی چند لوگوں کی ہفت کشور کشائی کی ہوس کا نشانہ بن کر ختم ہورہے ہیں۔

ماحولیات کے تحفظ کیلئے کام کرنیوالے اقوام متحدہ کے ادارے یو این ای پی کی ایک رپورٹ کیمطابق گزشتہ چھ دہائیوں میں مختلف ممالک کی حدود میں ہو نیوالے تنازعات کا تعلق قدرتی وسائل سے ہے جبکہ 1990ء سے اب تک 18متشدد تنازعات میں قدرتی وسائل کا بہت نقصان ہوچکا ہے۔ جنگوں، لڑائیوں اور متشدد تنازعات کے دوران ارادی طور پر دریائی پانی چھوڑ کر سیلابوں سے دشمن کی زرخیز زمینوں کو بنجر اور تباہ کردینے سے بھی ماحولیات کو نقصان پہنچتا ہے۔ جنگوں میں بڑے پیمانے پر معدنی ایندھن(فوسل فیول) استعمال ہوتا ہے، یہ ایندھن بھی ماحولیات کیلئے انتہائی تباہ کن ہوتا ہے کیونکہ معدنی ایندھن گوبل وارمنگ کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ 

عالمی ادارہ صحت نے تو یہاں تک متنبہ کردیا ہے کہ کچھ ممالک میں ایک تہائی بیماریاں اور دنیا بھر میں ہر سال ایک کروڑ 30 لاکھ اموات کو صرف ماحول بہتر بنا کر روکا جاسکتا ہے، یوں یہ کہنا کچھ بے جا نہ ہوگا کہ جنگوں سے انسان اور ماحولیات یکساں نقصان پہنچا ہے۔

ماہرین کے نزدیک جنگوں کو روکنا اور تنازعات کا پرامن حل تلاش کرنا ازحد ضروری ہے اور اگر ایسا نہ کیا گیا تو بصورت دیگر آبادی کے بڑھتے ہوئے دبائو کے پیش نظر آئندہ دہائیوں میں قدرتی وسائل پر قبضے کیلئے تنازعات میں اضافے کا خدشہ رہے گا۔ اسکے علاوہ موسمی تبدیلیوں کے نتیجے میں پانی کی فراہمی متاثر ہونے، خوراک کی کمی اور بیماریوں میں اضافے سے موجودہ تنازعات کے بڑھنے اور نئے تنازعات پیدا ہونے کے بھی خدشات ہیں۔سیاچن میں موجود بھارتی افواج کی بڑی تعداد میں موجودگی کی وجہ سے خود پاکستان اس قسم کے سنگین خطرات سے دوچار ہے، پاکستان اس حوالے سے سیاچن کو غیر فوجی علاقہ قرار دینے کا مطالبہ بھی کرچکا ہے، لیکن بھارت کو شاید آنیوالے خطرات کا اندازہ نہیں ہے۔

قارئین کرام!! چار دہائی پہلے 30اپریل 1975ء کو ویتنام نے امریکہ کو ’’سقوطِ سیگان‘‘ میں ہزیمت سے دوچار کرکے جارحیت کیخلاف آزادی کی جنگ تو جیت لی لیکن امریکہ کے کیمیائی حملوں (ہربی سائیڈز کی بمباری) کے بعد متاثرہ علاقوں میں سبزے کی ایک کونپل پھوٹ سکی نہ ہی ویتنام سے امریکہ کی وحشت ناکیوں کے اثرات ختم ہوسکے۔ اس وقت بھی دنیا کے مختلف ممالک میں جتنے متشدد تنازعات جاری ہیں،اگر ان تنازعات کو حل کرنے کی راہ نہ نکالی گئی تو خدشہ ہے کہ آنیوالی چند دہائیوں میں دنیا میں موجود گھنے جنگل ، اونچے اونچے پہاڑ، سر سبز مرغزار، اٹھلاتی بل کھاتی ندیاں ،شور مچاتے آبشار اور گنگناتے جھرنے دم توڑ دیں گے۔

اگر دنیا سے جنگوں اور ہتھیاروں کے خاتمے کیلئے سنجیدہ قدم نہ اٹھایا گیا تو پھر دن بھر کی جسمانی تھکن اور ذہنی کلفتوں کو دور کرنے کا بڑا ذریعہ قسم ہا قسم کے چرند و درند، خوبصورت رنگوں اور دلنشین آوازوں والے پرند، سرسبز و شاداب درخت اور رنگ برنگے پھول اپنی آخری سانسیں لے لیں گے۔ اس لیے اگر بین الاقوامی برادری نے وسائل غصب اور ہڑپ کرنے کی ہوس میں ڈوبی عالمی طاقتوں کے سیاہ عزائم کے راستے میں بند نہ باندھا تو سمجھیں کہ دنیا کے شیطانوں کے ہاتھوں ہماری سبز جنت خطرے میں ہے۔  

نازیہ مصطفیٰ
بشکریہ روزنامہ 'نوائے وقت'

No comments:

Powered by Blogger.