Header Ads

Breaking News
recent

روس نیٹو میں۔۔۔؟

پیرس میں داعش کی دہشت گردی کا واقعہ دنیا بھر کے میڈیا پر چھایا ہوا ہے جو چیز نہیں چھائی ہوئی بلکہ چھپائی گئی معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ فرانس کی حکومت نے بدلہ لینے کیلیے شام میں بمباری تیز کر دی ہے اور صرف ایک دن کی بمباری سے ڈیڑھ سو شہری ہلاک اور ساڑھے تین سو زخمی ہو گئے۔ پیرس میں بھی اتنے ہی لوگ مارے گئے تھے تو بدلہ مساوات کے حساب کتاب سے پورا ہو گیا لیکن مغربی انصاف کا معیار ایک کے دائیں طرف صفر لگاتا ہے اور بدلہ پھر بھی پورا نہیں ہوتا۔

 نیویارک کے تجارتی کوٹھے پر القاعدہ کے حملے میں دو ہزار امریکی بھی مرے تھے۔ تین صفر کے حساب سے دو لاکھ افغان مار کر بدلہ پورا ہو جاتا لیکن امریکا نے دس لاکھ مارے اور بدلہ ابھی جاری ہے اور عراق پر حملہ بھی اسی زور میں کر دیا گیا۔ اب فرانس کیا کرے گا، کتنے بم برسائے گا۔ داعش کی کل نفری امریکی جاسوس اور فوجی اداروں کے مطابق 20،25 ہزار ہے۔ وہ سارے مارے جائیں تو بھی ایک لاکھ کا چوتھا حصہ بنتا ہے۔

ادھر روس نے کروژ میزائلوں کی بارش شروع کر دی ہے اور مغربی، میڈیا نے بتایا ہے کہ الرقہ شہر پورے کا پورا کھنڈر بن چکا ہے۔اس کے ہسپتال، سارے سکول، ساری مسجدیں، سارے رہائشی مکانات ، بازار ہر شے تباہ ہو گئی ہے۔ لیکن روس نے امریکا کو اطلاع دی ہے کہ وہ مزید کروژ میزائل مارے گا، اس لیے الیبو(حلب) اور ادلیب کے شہروں پر بھی کروز میزائل چلائے ہیں حالانکہ ان دونوں شہروں میں داعش کا کوئی وجود نہیں۔

 ہاں النصرہ فرنٹ اور دیگر مزاحمتی تحریکوں کا قبضہ ہے جنہوں نے کہیں پر کوئی بھی ایسی کارروائی نہیں کی اور شام پر امریکی، فرانسیسی، روسی بمباری پر پیرس حملوں سے بہت پہلے کی ہو رہی ہے ۔ پیرس حملے نے بمباری تیز کرنے کی ''دلیل'' فراہم کردی، بس یہی ہے۔
اور تاریخ کا دھارا دیکھو کیسے بدلا۔ امریکا کی قیادت میں نیٹو اور روس کا جھگڑا پچھلی صدی سے چل رہا ہے ۔ مغربی یورپ کی مشرقی سرحدوں پر نیٹو نے میزائل شیلڈ پروگرام نصب کرنا شروع کیا تو روس نے جنگ کی دھمکی دی۔ 

یوکرائن کے مسئلے پر تو روس اور نیٹو آمنے سامنے آ گئے اور لگا کہ پراکسی لڑائی آمنے سامنے کی لڑائی میں بدل جائے گی۔ اب دیکھو، فرانس نے امریکا اور نیٹو سے مطالبہ کیا ہے کہ شام پر پورا نیٹو حملہ کرے اور روس کو بھی اس حملے میں شامل کیا جائے۔ دشمنی، اتحاد میں بدل گئی۔ کل کو انضمام میں بھی تو بدل سکتی ہے۔ ایک روز پتا چلے گا کہ روس، نیٹو میں شامل ہو گیا ہے۔ داعش نے یورپی ٹھیٹر کی شکل ہی بدل دی۔ روس، امریکا، یورپ سب ایک ہی ملت بن گئے۔ اس سے پہلے ایران اور امریکا ایک ملت بن چکے ہیں۔ یہ عالمی ملی یکجہتی کونسل شام اور عراق کے بعد کہیں اور بھی گل کھلائے گی۔

بہرحال، پاکستان میں اس معاملے پر تشویش کرنے ولا کوئی نہیں ہے، یہاں تو ٹی پر جتنے بھی اینکر بیٹھے ہیں، ان میں سے آدھے سے بھی زیادہ کی تان شام سے شروع ہو یا عراق سے توٹتی اسی بات پر ہے کہ پاکستان میں مدرسوں کے خلاف آپریشن کب شروع ہو گا۔ حکومت نے کاسمیٹکس (اشیائے نکھار) پرایکسائز ڈیوٹی کم کر دی ہے۔ اشیائے سنگھار غریبوں کے لیے الگ اور محدود، امیروں کیلیے الگ اور لامحدود ہوتی ہے۔ غریب گھرانوں کی کاسمیٹکس پچاس روپے کی کریم ، دو روپے والی لپ سٹک اور خوشبو والے تیل کی سستی بوتل تک محدود ہے، مزید اضافہ کرنا ہو تو داتن(سک) کر لو جس کا رواج اب ختم ہوتا جا رہا ہے، وہی جو کبھی دمڑی میں آ جاتا تھا اور جسے مل کر کسی دیہاتی لرکی نے نازونعم سے پالے گئے نوجوان کا دل موہ لیا تھا۔
امیر یعنی مراعات یافتہ یعنی ایلیٹ طبقے یعنی وہ برادری جس میں سارے ہی تجمل حسین خان ہوئے ہیں اور عیش جن کیلیے اور جنکی وجہ سے بنا ہے، کاسمیٹکس پر اتنا خرچ کرتے ہیں کہ ان کے ایک مہینے کے بجٹ سے غریب آدمی کی پوری زندگی ''کھاتے پیتے'' کٹ سکتی ہے اور طبقہ امرا کی یہ کاسمیٹکس اب سے تین چالیس یا پچاس سال پرانی ہیں، اب تو اس کی فہرست میں ایسی ایسی اشیا کا اضافہ ہو گیا ہے کہ مڈل کلاس کے لوگ دیکھ دیکھ کر حیران ہوتے ہیں۔ لوئر مڈل کلاس اور غریب کلاس کی تو خیر فہم و عقل ہی سے یہ چیزیں بالاتر ہیں۔ اب سنگھار خانے کھل گئے ہیں۔

 کون گھر پرا پنے ہاتھوں سے سنگھار کرے۔ لوگ اب باہر جاتے ہیں، پارلر میں بیٹھتے ہیں اور مڈل کلاس ملازم کی پورے مہینے کی تنخواہ کے برابر ایک گھنٹے کے سنگھار کا بل دے کر لوٹتے ہیں۔ سنگھار عورتوں کیلیے ہے۔ یہ فقرہ ماضی بعید کا ہو چکا۔ اب مرد بھی سنگھار کرتے اور کراتے ہیں اور سپر سٹور ان کے حسن کی افزائش کے لیے بنائی گئی پراڈکٹس سے بھرے پرے ہیں۔ لمبی چوٹی والے نوجوان اب پوش علاقوں میں عام نظر آتے ہیں اور پیچھے پیچھے آنے والوں کو دھوکا ہو جاتا ہے جو روبرو آنے پر دور بھی ہو جاتا ہے۔

پاکستان میں چونکہ حکومتیں بنتی ہی اسی لیے ہیں کہ مراعات یافتہ طبقے کو مزید سہولتیں دی جائیں، اسی لیے اس نے کاسمیٹکس پر ڈیوٹی کم کر دی تو کچھ انوکھا نہیں کیا۔جو خاتون مہینے میں ساڑھے دس لاکھ کی کاسمیٹکس خریدتی تھی، کمی کے بعد صرف سوا دس لاکھ میں خریدے گی۔ اتنی سی رعایت پر احتجاج کرنا مڈل کلاس کو زیب نہیں دیتا۔

نیپال کے وزیراعظم نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس کی ناکہ بندی ختم کر۔ ایک اور اخباری رپورٹ کے مطابق نیپال میں اشیائے ضروریہ کی کمی ہو گئی ہے ،جس سے شہری پریشان ہیں۔ نیپال کی بدقسمتی اس کا محل وقوع ہے۔ اس کی سرحد صرف دو ملکوں یعنی بھارت اور چین سے لگتی ہے۔ اس کا بیشتر مال بھارت ہی کے راستے سے آتا ہے۔ اس لیے چین سے اس کی جو سرحد ملتی ہے وہ ساری کی ساری تبت کے ساتھ ہے اور تبت مین لینڈ چین سے دور اور سخت دشوار گزار علاقہ ہے۔ وہاں سے تجارت آسان نہیں بہرحال، کچھ نہ کچھ سامان چین سے آ رہا ہے۔ بہت برس پہلے بھارت نے سکم کی ریاست اپنے اندر ضم کر لی تھی جس کا نقصان نیپال کو ہوا۔

سکم کی سرحد ایک طرف نیپال سے، دوسری طرف چین کے اس علاقے سے لگتی ہے جہاں سے مال کی تجارت قدرے آسان ہے ۔ سکم الگ ملک رہتا تو اس کے راستے چین کا مال زیادہ اچھی صورتحال میں منگوا سکتا تھا اور اسی راستے سے وہ برما کے ساتھ بھی تجارت کر سکتا تھا لیکن بھارت نے اس ریاست کو ضم کر کے نیپال کا محاصرہ ہی کر دیا۔ اب تک کسی کو پتا نہیں کہ سکم کا انضمام کن حالات میں ہوا،۔سکم کی شاہی حکومت بھارت میں ضم ہونے پر کیوں تیار ہو گئی۔ سچی بات یہ ہے کہ یہ انضمام نہیں، قبضہ لگتا ہے۔

چین مین لینڈ سے ایک ریلوے لائن تبت کے دارالحکومت مہاسہ تک بچھا چکا ہے جو اپنی جگہ ایک عجوبہ ہے کہ دنیا کے سب سے اونچے اور دشوار گزار علاقے میں اس نے لائن بچھا دی۔ اب سنا ہے کہ مہاسہ سے نیپال کے دارالحکومت کٹھمنڈو تک پٹڑی بچھانے کا سوچا جا رہا ہے۔ ایسا ہو جائے تو نیپال کی کچھ مشکل اور آسان ہو جائے گی۔ خیر، یہ ناکہ بندی زیادہ عرصے تک نہیں چلے گی۔ بی جے پی کی حکومت کے ساتھ ہی رخصت ہو جائے گی۔

عبداللہ طارق سہیل
بشکریہ روزنامہ 'جہان پاکستان'


No comments:

Powered by Blogger.