Header Ads

Breaking News
recent

پیوتن آگے گلی بند ہے

روس کے صدر پیوٹن مہم جو اور دلیر لیڈر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ایک آدھ نہیں، بلکہ کئی ایک معاملات میں انہوں نے اپنی غیر معمولی قوت فیصلہ اور ایکشن کا مظاہرہ کر کے پوری دنیا پر اپنی دھاک بٹھائی۔ شام میں جاری حالیہ لڑائی کو ہی لے لیں کہ کس طرح بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے آخری مراحل کے موقع پر روسی افواج دھم سے میدان جنگ میں کود پڑیں اور پھر ایسی بمباری کی کہ خدا کی پناہ۔ داعش اور النصرۃ فرنٹ تو نشانے پر تھے ہی، لیکن ان تمام تنظیموں کو بھی نشانہ بنایا گیا جو امریکہ، سعودی عرب سمیت عالمی برادری کی حمایت سے آزادی کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ اگرچہ روسی کارروائی میں زیادہ تر عام شہری ہی مارے گئے لیکن یہ تاثر عام ہونے لگا تھا کہ پیوٹن کی مداخلت کے بعد لڑائی کا پانسا پلٹنا شروع ہو گیا۔

شام پر حملوں کے بعد ہمسایہ ممالک کو دھمکانے کی سوچی سمجھی پالیسی کے تحت خصوصاً ترکی کی فضائی حدود کے قریب روسی طیاروں نے اشتعال انگیز پروازیں کیں۔ ترک حکام نے فوری طور پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے باز رہنے کی وارننگ دی۔’’ریچھ ‘‘مگر کس کے قابو میں آنے والا تھا؟ روسی فوج نے شام میں اپنی جارحیت کا سلسلہ دراز کرنے کے ساتھ ساتھ ترکی کی فضائی حدود سے بھی چھیڑ چھاڑ جاری رکھی۔ اس لڑائی میں اب تک روس کی یہی سب سے بڑی غلطی تھی۔ ترک افواج نے فضائی حدود کی محض چند سیکنڈ کے لئے خلاف ورزی کرنے والے روس کے جدید ترین سخوئی 24 جہاز کو مار گرایا۔
 وقت ہی خراب تھا۔ ایک پائلٹ پیراشوٹ کے ذریعے کودا تو شامی علاقے میں موجود جنگجوؤں نے فضا میں گولیوں سے چھلنی کر دیا۔ مدد کے لئے آنے والے روسی ہیلی کاپٹر کو بھی میزائل سے اڑا دیا گیا۔ روس کا اشتعال میں آنا یقینی امر تھا، لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ ترک حکام نے کسی بھی قسم کی لچک دکھانے سے انکار کر دیا۔ پیوٹن اس معاملے پر جذباتی ہو گئے اور ترکی کی حکومت پر براہ راست الزامات کی بوچھاڑ کر دی۔ جنگ کی دھمکیاں دی گئیں مگر فریق مخالف کے تیور دیکھ کر واپس لینا پڑیں۔

 ترک صدر طیب اردوان کا موقف واضح تھا کہ سرحدی یا فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہمارا حق ہے اور یہ حق استعمال کیا جاتا رہے گا۔ اس سے بھی بڑھ کر انہوں نے واضح کیا کہ روسی طیارہ مار گرانے کی کارروائی اس لئے بھی کی گئی کہ اپنے بھائیوں کو حملوں سے بچایا جائے۔ طیب اردوان واضح الفاظ میں ان ترکمان جنگجوؤں کی مکمل حمایت کر رہے تھے جو ترک سرحد کے اس پار شام میں بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے لئے برسرپیکار ہیں۔ اس واقعہ میں پیوٹن کی ساکھ اور رعب کو زبردست دھچکا لگا۔
حال میں ہی فوربز میگزین نے روسی صدر کو دنیا کی سب سے طاقتور شخصیت قرار دیا تھا۔ ترکی کے ساتھ ایک ہی جھڑپ نے یہ تصور پارہ پارہ کر دیا۔

 خود روسی عوام اس واقعہ پر بھونچکے رہ گئے۔ ماسکو میں نوجوانوں نے ترک سفارت خانے کے باہر احتجاج کیا۔ انڈے اور پتھر برسائے۔ بالکل اسی طرح جس طرح کبھی تہران میں امریکہ کے خلاف مظاہرے ہوتے تھے۔اب تک کی اطلاعات تو یہی ہیں کہ بدترین ہزیمت کے باوجود روس ترکی پر براہ راست حملے کی حمایت نہیں کرے گا۔ البتہ پڑوسی ممالک کی مدد سے ’’شرارتیں‘‘ ضرور کرائی جا سکتی ہیں، لیکن پیوٹن کو بھولنا نہیں چاہئے کہ موجودہ ترک قیادت ایسی سازشوں سے نمٹنے کا بھرپور تجربہ اور صلاحیت رکھتی ہے۔

 اگر ایسا نہ ہوتا تو فتح اللہ گولن ظفر یاب ہو کر کب کا انقرہ میں براجمان ہو چکا ہوتا۔ جنگی طیارے کی تباہی کے بعد روس شام کے ساحلی علاقے میں میزائلوں کی بھاری کھیپ لے آیا ہے، لیکن اصل بات تو یہ ہے کہ وہ کس جانب چلائے جائیں گے۔ ترک علاقوں کو نشانہ بنانے کی کوشش پر جواب آنے میں ایک سیکنڈ کی بھی تاخیر نہیں ہوگی۔ایک امکان یہ بھی ہے کہ آبنائے باسفورس میں جنگی بیڑے کھڑے کر دئیے جائیں تو ایسی کسی صورت میں بھی ترکی کے جنگی بحری جہازوں کو آگے بڑھ کر سمندری گزر گاہ میں محفوظ بنانے سے کوئی روک نہیں پائے گا۔

اصل معاملہ تو یہ ہے کہ اب شام میں کیا ہو گا، جہاں پہلے ہی سے 55 ہزار بچوں سمیت 4 لاکھ شہری بشار الاسد کی فوج کے ہاتھوں مارے جا چکے ہیں۔ جہاں امریکہ، فرانس کے علاوہ پورا نیٹو اور دوسری جانب روس کی قیادت میں ایران بھی لڑائی میں شریک ہے۔ اس لڑائی میں مارے، مگر عام شہری ہی جارہے ہیں۔ شام میں لگائی گئی آگ کے شعلوں نے فرانس کو اپنی لپیٹ میں لیا تو یورپی ممالک میں ہڑبونگ مچ گئی۔

 اب یہ ترقی یافتہ ممالک خود کو محفوظ بنانے کیلئے کبھی سکول بند کر رہے ہیں، کبھی تھیٹر، کبھی میٹرو سروس معطل کی جاتی ہے تو کبھی بس سروس، اس کے باوجود پورے یورپ میں کسی ایک کو بھی یہ یقین نہیں کہ ان کی حکومتیں اپنے ہی ممالک میں انتہا پسند تنظیموں کے حملوں کو روک پائیں گی۔ تازہ ترین پیش رفت کے بعد شام میں لگائی گئی آگ مزید بھڑکنے کا اندیشہ ہے۔ جنگجوؤں پر مختصر وقت میں مؤثر طور پر قابو پانا تو مشکل تھا ہی، لیکن نوٹ کرنے کی بات یہ ہے کہ اس لڑائی میں شامل بیرونی ممالک اپنے اپنے مفادات کے لئے الگ الگ چالیں بھی چل رہے ہیں۔ بیرونی قوتوں کے ایجنٹ شدت پسند تنظیموں میں بھی موجود ہیں جو انہیں آپس میں لڑوانے کی کئی کامیاب سازشیں کر چکے ہیں۔

داعش کو ہی لے لیں وہ کس بنا پر مسلمان شہریوں کو قتل کر رہی ہے۔ کرد پر حملہ آور ہے۔ اقلیتوں کو موت کے گھاٹ اتارا جارہا ہے اور تو اور القاعدہ سے منسلک النصرۃ فرنٹ جس نے اس پوری لڑائی کے دوران خصوصاً شام کے علاقے میں غیر معمولی جنگی کامیابیاں سمیٹیں اس کے آدھے سے زیادہ جنگجو داعش کے حملوں میں مارے گئے۔ جنگی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ شدت پسند تنظیمیں آپس میں برسرپیکار نہ ہوں تو داعش اب تک بغداد پر بھی قبضہ کر چکی ہوتی۔ دوسری جانب النصرۃ فرنٹ والے کب کا دمشق کو تاراج کر کے بیروت میں گھس کر اسرائیلی سرحدوں پر تباہی مچانے کے لئے کھڑے ہوتے۔شام اور عراق میں آگے کیا ہو گا۔

 پوری دنیا ایک جانب ہو جانے کے بعد داعش اور النصرۃ فرنٹ کے لئے کارروائیاں پہلے کی طرح سے جاری رکھنا ممکن نہیں رہے گا، لیکن اس کا مطلب ہر گز نہیں کہ شورش رک جائے گی۔ اس کی سب سے بڑی مثال افغانستان میں امریکی قیادت میں نیٹو افواج کی کارروائیاں ہیں۔ 10سال سے بھی زیادہ عرصے کے دوران جدید اور مہلک ترین اسلحے سے پورے افغانستان کو نشانہ بنایا گیا۔ جنگ کے بالواسطہ مضمرات کو بھی شامل کر لیں تو ایک محتاط اندازے کے مطابق 49 لاکھ افغانی لقمہ اجل بن گئے، مگر آج کیا صورت حال ہے۔ افغانستان میں ہر جگہ طالبان ہی طالبان ہیں اور خود امریکہ ان سے مذاکرات کے لئے بے تاب نظر آتا ہے۔ مغربی میڈیا میں ایسی کئی رپورٹیں آچکی ہیں ،جن میں اعتراف کیاگیا ہے کہ طالبان اس وقت جتنی قوت رکھتے ہیں وہ ماضی میں بھی انہیں کبھی حاصل نہیں ہوئی تھی۔

داعش اور القاعدہ کی جنگی حکمت عملی جہاں ایک جانب گوریلا کارروائیاں ہیں وہیں لڑائی کے فریق اور علاقے بڑھانے کے لئے بھی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ داعش کے اپنے جنگجوؤں کا پیرس میں حملہ ہو یا پھر میدان جنگ کے قریب روس اور ترکی کی مڈبھیڑ ہو جائے ان انتہا پسند تنظیموں کی چاندی ہی چاندی ہے۔ وہ چاہتی ہیں کہ پوری دُنیا میں ایسا گھمسان کارن پڑے کہ فوجیں آپس میں ہی اُلجھ پڑیں۔ بڑی تباہی آئے، ان تنظیموں کی یہی حکمت عملی پوری دُنیا کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ آج شام ،عراق اور گردونواح میں لڑائی جاری ہے اور دوسری جانب فرانس کو نشانہ بنائے جانے کے بعد دیگر یورپی ممالک میں بھی حملے کرنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔

 سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے شام پر حملے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ عسکری کارروائی کا آپشن موجود ہے۔ ایسا ہو گیا تو پوری جنگ کا نقشہ ہی بدل جائے گا اور وہ ممالک بھی فریق بننے پر مجبور ہو جائیں گے، جو اب تک دامن بچاتے نظر آرہے ہیں۔اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے سفیر نے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ شام میں روسی فوج کی موجودگی کے باوجود طاقت استعمال کر سکتے ہیں۔ ادھر یوکرائن نے روس کے لئے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں۔ ان حالات میں سب کو چوکنا رہنا ہو گا۔ پوپ نے بالکل درست کہا کہ دُنیا تیسری عالمی جنگ کی جانب بڑھ رہی ہے۔

 کیا محض طاقت کے استعمال سے یہ مسئلہ حل ہو جائے گا، یقیناً نہیں۔ عالمی برادری کو منافقت ترک کر کے انصاف پر مبنی اقدامات کرنے ہوں گے۔ جنگ میں شامل گروپوں کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے والوں کے لئے بھی جلد ہی بری خبریں سننے کو مل سکتی ہیں۔ اب یہ پوری طرح واضح ہو گیا ہے کہ دُنیا بھر میں لڑائی، جنگ و جدل آخر کس کی حکمت عملی ہے۔ اس حوالے سے اب صرف سپر پاور امریکہ کی ہی اجارہ داری نہیں،بلکہ شدت پسند تنظیمیں بھی یہی ایجنڈا رکھتی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ دونوں کے مقاصد الگ الگ ہیں۔

نوید چودھری 

No comments:

Powered by Blogger.