Header Ads

Breaking News
recent

آرمی چیف اورامریکی سی آئی اے چیف کی ملاقات

گوکہ قومی نقطہ نظر سے توآج کے کالم کا موضوع فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کا دورہ واشنگٹن ہونا چاہئے تھا لیکن تادم تحریر اس دورہ واشنگٹن کا آغاز امریکی سی آئی اے ہیڈکوارٹرز میں امریکی سی آئی اے کے تجربہ کار سربراہ اور خطے کے حالات ومعاملات سے ذاتی طور پر بخوبی واقف اور انسداد دہشت گردی کے تسلیم شدہ ماہر جان برینن اورجنرل راحیل شریف کی ملاقات سے ہوا ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ پاکستانی میڈیا کے بیشتر نمائندے واشنگٹن سے یہ خبریں بھیجتے رہے کہ جنرل راحیل شریف اپنے ہم منصب امریکی فوج کے چیف آف اسٹاف اورسیکرٹری دفاع وغیرہ سے ملاقاتیں کرچکے ہیں حالانکہ حقیقت میں ایسی اہم ملاقاتیں 17 نومبرسے شرو ع ہوئیں اور16 نومبر کوامریکی سی آئی اے کے سربراہ سے ملاقات ہوئی جس کی تصدیق آئی ایس پی آر کے ترجمان جنرل عاصم باجوہ کے ٹوئٹ سے ہوئی۔

البتہ پنٹاگون کے ترجمان راجر کیبی نس   نے میرے استفسار کے جواب میں یہ بات واضح کہہ دی تھی کہ جنرل راحیل کی امریکی وزیردفاع، امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف امریکی نائب وزیردفاع وغیرہ سے ملاقاتیں 16نومبر کو نہیں بلکہ منگل17نومبرکوہوں گی (ملاحظہ ہو جنگ 17نومبرصفحہ اول)امریکی ترجمان کے اس بیان کی ’’جنگ‘‘ میں اشاعت کے بعدپاکستانی صحافیوں میں ایک نئی بحث چھڑگئی کہ اگر یہ ملاقاتیں 17نومبر کوہونی تھیں توپھر 16نومبر کادن آرمی چیف نے کیسے اورکہاں گزارا؟اتنے میں آئی ایس پی آر کے ترجمان جنرل عاصم باجوہ نے سی آئی اے کے سربراہ اور جنر ل راحیل شریف کی ملاقات کی تصویر کے ساتھ ٹوئٹ پیغام سے اس بات کاثبوت فراہم کرڈالا کہ آرمی چیف نے اپنے دورے کا پہلا دن کیسے گزارا۔
 جوحضرات جنرل راحیل شریف کی پنٹاگون میں امریکی فوجی عہدیداروں سے ملاقات کی خبریں دے چکے تھے وہ خاموشی سے جواز ڈھونڈنے میں مشغول ہوگئے ۔

باقی کو دورہ واشنگٹن کے پہلے روز جنرل راحیل شریف کی ملاقات ومصروفیات کاجواب مل گیا ۔اب رہی بات کہ سی آئی اے کے سربراہ جان برنین سے جنرل راحیل شریف کی ملاقات میں انسداد دہشت گردی کے علاوہ اورکونسے موضوعات، معاملات اوراقدامات زیربحث آئے؟اس بارے میں بھی آئی ایس پی آر اورجنرل راحیل شریف ہی کچھ بتانے کی پوزیشن میں ہیں یا پھر امریکی نظام کی اپنی ضرورت کے مطابق جب انکشافاتی خبروں کامرحلہ درپیش ہواتو پتہ چل سکے گا۔قیاس آرائی کی گنجائش ہی نہیں ہے ۔امریکی سی آئی اے کے سربراہ سے ملاقات کی خبرخو دواشنگٹن کے پاکستانی صحافیوں کیلئے جس قدر بڑا’’سرپرائز‘‘ثابت ہوئی ہے وہ ناقابل بیان ہے اوراس کا پس منظر اوروجوہات جاننے کی ضرورت ہے۔

یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اگرسی آئی اے کے سربراہ سے ملاقات اورمعاملات کسی اختلافی نقطہ نظر کے بغیر دوطرفہ اتفاق رائے سے طے پائے ہیں تو پھر باقی تمام ملاقاتیں اور معاملات بھی ٹھیک رہیں گے اور دورہ بھی کامیاب رہے گا۔جنرل راحیل شریف کادورہ واشنگٹن 20 نومبر کو مکمل ہو گا اوردونوں طرف کے موقف، تشریحات اورتفصیلات سامنے آنے میں ابھی وقت لگے گا۔ جنرل راحیل شریف کی آمدسے قبل بعض حلقوں کی جانب سے اس دورے کی دعوت، پروٹوکول اور دیگر ثانوی مسائل کے اعتبارسے جوسوالات اٹھادیئے گئے تھے اور بھارتی ذرائع ابلاغ نے بھی اسے بنیاد بنا کر جو خبریں اورتبصرے شائع کئے تھے۔ پنٹاگون کے ترجمان راجرکیبی نس نے16نومبر کوہی میرے استفسار کا جواب دیتے ہوئے پاکستان مخالف لابی کی ان خبروں کی اصلیت کو ظاہر اورغلط تاثر کوزائل کرتے ہوئے یہ الفاظ کہے’’ہم اس بات پر مشکور ہیں کہ چیف آف آرمی اسٹاف خودوقت نکال کرذاتی طور پر گفتگو میں حصہ لے رہے ہیں۔کسی نوعیت کے ابہام سے بچنے کیلئے انگریزی سطر یوں ہے۔

 WE ARE GRATEFUL THAT COAS .RAHEEL SHARIF IS TAKING TIME TO HOLD CONSULTATION IN PERSON 
امریکی ترجمان کے ان الفاظ اور پہلے روز امریکی سی آئی اے کے سربراہ سے ملاقات سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ جنرل راحیل شریف کے دورہ واشنگٹن کی امریکیوں کو خود بھی کتنی ضرورت تھی۔ محض دعوت دورہ اور پروٹوکول کی بجائے دورے کے مقاصد، نتائج ‘مذاکرات اور اثرات زیادہ بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ گزشتہ 14سالوں میں امریکہ کے فوجی کمانڈروں، مشیران سیکورٹی اورسفارتکاروںنے کابل اوراسلام آباد کے بے شمار دورے امریکی اخراجات پرکسی دعوت دورہ یاپروٹوکول کے بغیر کئے اور بڑے اہم فیصلے اورمقاصدبھی حاصل کئے۔ صدر اوباماکی موجودہ مشیر برائےنیشنل سیکورٹی سوزن رائس کا دورہ اسلام آباد اس کی ایک مثال ہے۔

 سابق صدر ضیا الحق کے دورمیں امریکی سی آئی اے کے سربراہ کے متعدد خاموش دورے اسلام آباد کی تاریخ کا حصہ ہیں کہ نہ کوئی دعوت دورہ نہ کوئی پروٹوکول ہوتامگر اہم ترین معاملات اورفیصلے ہوئے۔ لہٰذا دورے کی مقصدیت اور عملی افادیت بنیادی حقیقت ہے نہ کہ وہ امور جن کو بھارتی ذرائع ابلاغ اورپاکستان مخالف لابی نے بنیاد بنا کر جنرل راحیل شریف کے دورہ واشنگٹن کے بارے میں سوالات کھڑےکرنے کی ناکام کوشش کی۔امریکی سی آئی اے کے سربراہ سے جنرل راحیل شریف کی ملاقات کے’’سرپرائز‘‘پرمبنی خبر نے جہاں متعدد حقائق کے بارے میں سوچنے کاموقع فراہم کیا ہے وہاں پنٹاگون کے امریکی ترجمان کے مختصربیان نے بھی یہ کہہ کر واضح کردیا ہے کہ ’’امریکی وزیر دفاع، نائب وزیر دفاع، چیئرمین (جوائنٹ چیفس آف اسٹاف) اور سینٹ کام  کے کمانڈر (پاکستان آرمی کے) چیف آف اسٹاف کاخیرمقدم کرتے ہیں اورہمارے دو طرفہ تعلقات کے بارے میں بامقصد مذاکرات کے منتظر ہیں‘‘۔

امریکی ترجمان کے اس بیان اورآئی ایس پی آر کی جانب سے امریکی سی آئی اے کے سربراہ سے جنرل راحیل شریف کی ملاقات کی تصدیق نے اس دورہ واشنگٹن کے بارے میں قیاس آرائیوں اورپروٹوکول دعوت دورہ کے بارے میں بھارتی میڈیا کے تبصروںکی ہوانکال دی ہے۔ دورے کے پہلے روز 16نومبر کو ہونے والی اس ’’سرپرائز‘‘ ملاقات نے جوسمت مقررکردی ہے۔اس دورہ کی باقی ملاقاتوں اورمذاکرات کانتیجہ بھی اسی سمت میں جائے گا۔ یہ ملاقات پاکستان کی سیکورٹی اور پاک افغان تعلقات، پاک بھارت سرحدی کشیدگی سمیت تمام پہلوئوں پراثرات مرتب کرے گی ۔

اگرجان برینن اور راحیل شریف اس ملاقات کے بعد ’’ایک ہی پیج ‘‘پر ہم خیال ہیں تو پھر یہی ایک ملاقات دورے میں ہونے والی ملاقاتوں کی کامیابی کی کنجی ثابت ہوگی۔دیکھنایہ ہے کہ جنرل راحیل شریف پاک افغان تعلقات‘ پاک بھارت کشیدگی داخلی عدم استحکام اورپاکستان کے مستقبل کے حوالے سے اس دورہ واشنگٹن سے کیا کچھ لیکرلوٹتے ہیں۔ 11نومبر کا سانحہ پیرس پاکستان سمیت مسلم دنیا کے ممالک اورامریکہ، کینیڈا اوریورپی ملکوں میں آباد مسلمانوں کیلئے نئی آزمائش مزیدمشکلات اور پیچیدہ مسائل کی نشاندہی کررہاہے۔ابھی تک مسلم دنیا سانحہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے14سال بعد بھی مشکلات کے بھنور سے نہیں نکل پائی تھی کہ11نومبر 2015 کے سانحہ پیرس نے مزید مسائل کا نیااضافی باب کھول دیاہے۔ پاکستان کی عسکری اور سویلین قیادت اس صورتحال سے پاکستان اور پاکستانی عوام کو کتنا اورکس طرح بچاتی ہے؟یہ فیصلہ آنے والا وقت ہی کرے گا۔ 

عظیم ایم میاں
بشکریہ روزنامہ  جنگ 



No comments:

Powered by Blogger.