Header Ads

Breaking News
recent

معروف ادیب اورانسپکٹر جمشید سیریز کے خالق اشتیاق احمد انتقال کرگئے

اشتیاق احمد کراچی میں ہونے والے کتب میلے میں شرکت کے بعد واپس اپنے آبائی شہر جھنگ جانے کے لئے ایئرپورٹ پر موجود تھے کہ اچانک انہیں دل کا دورہ پڑا جس کے باعث وہ جانبر نہ ہوسکے۔ وہ کراچی  میں اپنے ناولز کے حوالے سے ایک ادبی تقریب میں شرکت کے لئے آئے ہوئے تھے اور گزشتہ روز ایکسپو سینٹر میں ہونے والے عالمی کتب میلے میں بھی انہوں نے شرکت کی تھی۔

اشتیاق احمد 1944 میں بھارت کی ریاست پانی پت کے ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے اور قیام پاکستان کے بعد ان کا خاندان پاکستان کے شہر جھنگ میں آکر آباد ہوا۔ ان کی پہلی کہانی 1960 میں ہفت روزہ قندیل میں چھپی جس کا عنوان تھا ’بڑا قد‘۔ ان کے پہلے ناول کا نام ’ پیکٹ کا راز‘ تھا جو ایک رومانوی ناول تھا اور اس کا معاوضہ 50 روپے کی صورت میں ملا تھا۔
اشتیاق احمد اپنی زندگی کی 71 بہاریں دیکھ چکے تھے ،وہ بچوں سے متعلق رسالوں کے مدیر بھی رہے، آپ بچوں اور بڑوں میں یکساں مقبول تھے اور انہوں نے  ہزاروں کہانیاں اور سیکڑوں ناول  لکھے جنہیں بھرپور پذیرائی اور مقبولیت حاصل ہوئی لیکن ان کی وجہ شہرت ان کے تحریر کردہ جاسوسی ناولز ہیں جن میں سے “انسپکٹر جمشید سیریز” نے بے پناہ مقبولیت حاصل کی۔ محمود، فاروق، فرزانہ اور انسپکٹر جمشید کے کردار پڑھنے والوں کے ذہن میں ہمیشہ جاگزیں رہیں گے جب کہ ان کی انسپکٹر کامران سیریز اور شوکی سیریز کو بھی خاصی پذیرائی ملی۔ ان کے تحریرکردہ ناولوں کی مجموعی تعداد 8 سوسے بھی زائد ہے۔

No comments:

Powered by Blogger.