Header Ads

Breaking News
recent

’راحیل شریف کا موڈ اچھا رکھنے کی ڈیوٹی‘

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی امریکہ روانگی سے پانچ روز پہلے ہونے والی کور کمانڈر کانفرنس (دس نومبر) کی جو تفصیلات فوج کے شعبہِ تعلقاتِ عامہ نے جاری کی ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ فوج دہشت گردی کے تدارک کے لیے اپنائے گئے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کی رفتار سے خوش نہیں۔

فوجی قیادت نے زور دیا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن سے حاصل ہونے والی کامیابیاں برقرار رکھنے کے لیے سویلین سائیڈ سے بھی ہم پلہ اقدامات کی ضرورت ہے۔
آپریشن کے بھرپور نتائج کے لیےگورننس بہتر کی جائے: آرمی چیف
فوجی قیادت نے مطالبہ کیا ہے کہ وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں کے ڈھانچے میں اصلاحات کی رفتار تیز کی جائے اور دہشت گردوں سے پوچھ تاچھ کرنے والی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیمیں اپنا کام ترجیحاتی بنیاد پر مکمل کریں۔

اطلاعات کے مطابق فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کور کمانڈر اجلاس سے قبل یہ تحفظات وزیرِ اعظم نواز شریف کے سامنے بھی رکھے۔ پھر بھی واضح نہیں کہ ان تحفظات کو پریس ریلیز کے ذریعے عام کرنے کا سبب کیا ہے؟
جہاں تک نیشنل ایکشن پلان پر سست رفتاری سے عمل درآمد کا معاملہ ہے تو فوج کا یہ دیرینہ شکوہ دور کرنے کے لیے کہ اسے دہشت گردی سے لڑنے کے لیے بھرپور سیاسی حمایت درکار ہے گذشتہ فروری میں سیاسی جماعتوں اور پارلیمنٹ نے فوج کو دہشت گردی کے خلاف آپریشنز کے لیے مکمل مینڈیٹ دیا۔
پارلیمنٹ نے تحفظات کے باوجود فوجی عدالتوں کا قیام بھی منظور کر لیا۔ کراچی میں جرم اور سیاست کا گٹھ جوڑ توڑنے کے لیے فوج اور رینجرز نے جو بھی اقدامات مناسب سمجھے کیے۔ متذبذب ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی سمیت اہم سیاسی جماعتوں اور وفاقی حکومت کی جانب سے اس آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کی اصولی حمایت بھی برقرار ہے۔
جہاں تک یہ مطالبہ ہے کہ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیمیں دہشت گردی کے ملزموں سے پوچھ تاچھ کا کام تیزی سے مکمل کریں تو یہ مطالبہ اس لیے عجیب لگتا ہے کہ ان ٹیموں میں پولیس کے علاوہ فوج کی انٹیلیجینس ایجنسیوں کے نمائندے بھی شامل ہیں۔ مزید براں صوبائی حکومتیں وفاقی وزارتِ داخلہ کے توسط سے ’جیٹ بلیک‘ دہشت گردوں کے مقدمات بھی فوجی عدالتوں کو ارسال کر رہی ہیں۔ پھر بھی سست رفتاری محسوس ہو رہی ہے تو اس کا تدارک کسی ایک فریق کی زمہ داری ہے یا مشترکہ ذمہ داری؟

دہشت گردی کو جہاں جہاں سے مالیاتی آ کسیجن ملتی ہے اس کا پتہ لگانے کے لیے انٹیلیجینس اداروں کے علاوہ نیب اور ایف آئی اے بھی پہلے سے زیادہ متحرک نظر آتے ہیں۔

جہاں تک فاٹا میں اصلاحات کا معاملہ ہے تو فوج کی جانب سے اس بارے میں سست رفتاری پر تحفظ جائز معلوم ہوتا ہے۔اس وقت ایک 19 رکنی پارلیمانی کمیٹی کی جانب سے فاٹا میں انتظامی و سیاسی اصلاحات سے متعلق گیارہ نکاتی سفارشات حکومت کے پاس پڑی ہیں۔پارلیمنٹ میں اس بابت دو بل بھی بحث و منظوری کے منتظر ہیں۔

مگر آئین کے آرٹیکل247 میں ترمیم کیے بغیر یہ کام مکمل نہیں ہوسکتا۔ اس آرٹیکل کے تحت فاٹا سے متعلق قانون سازی کا اختیارِ صدرِ مملکت کو حاصل ہے۔ فاٹا پشاور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے دائرہِ اختیار سے بھی باہر ہے اور پولٹیکل ایجنٹ ہی یہاں مدعی بھی ہے اور منصف بھی۔

اس وقت قبائیلی ایجنسیوں میں دہشت گردی کے خلاف یا تو آپریشن جاری ہے یا کچھ ایجنسیاں بعد از آپریشن بحالی کے مرحلے میں ہیں۔
لگ بھگ 20 لاکھ قبائلی پچھلے چھ برس کے دوران ان آپریشنز کے سبب در بدر ہوئے ہیں۔ کور کمانڈر اجلاس نے لاکھوں متاثرین کی ترجیحی بحالی و واپسی کا بھی عہد کیا۔عین ممکن ہے کہ فوج کی جانب سے تازہ تحفظات کے کھلے عام اظہار سے اب فاٹا اصلاحات کی فائیل کو پہئیے لگ جائیں۔

یہاں سوال ہو سکتا ہے کہ جب امریکہ پاکستانی فوجی قیادت سے ’ڈو مور‘ کا مطالبہ کرتا ہے تو جواب ملتا ہے اور کتنا ’ڈو مور‘ کریں۔ لیکن جس سویلین حکومت سے اب فوج ’ڈو مور‘ کا مطالبہ کر رہی ہے کیا واقعی اس حکومت کے پاس ’ڈو مور‘ کی گنجائش بچی ہے؟ اس کے لیے ہمیں دیکھنا ہوگا کہ حکومت کو اپنے آئینی و اختیاراتی بازو اور ٹانگیں پھیلانے کے لیے آج کتنی جگہ میسر ہے۔
تصویر یوں بن رہی ہے گویا ریاست کے سکوٹر پر نواز شریف راحیل شریف کے پیچھے بیٹھے ہیں۔

بطور نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر سرتاج عزیز کی جگہ جنرل ناصر جنجوعہ کی ہنگامی تقرری ہو، نیشنل سیکورٹی پلان پر آپریشنل عمل درآمد ہو، بلوچستان کے بحران سے نمٹنے کی حکمتِ عملی ہو، کراچی آپریشن کی شدت گھٹانے بڑھانے کا اختیار ہو، افغان امور سلٹانے کا سوال ہو، بھارت سے تعلقات کی نہج طے کرنے کا معاملہ ہو، روس اور چین سے سٹرٹیجک تعاون کو اپ گریڈ کرنے کا ٹاسک ہو کہ سعودی عرب سے تعاون کی حدود طے کرنے کا اختیار، کم ازکم جوہری توازن برقرار رکھنے کا نظریہ ہو کہ امریکہ سے فوجی و علاقائی ساجھے داری کی مقدار طے کرنے کی تمنا۔ تمام معاملات طے کرنے کے لیے سویلین حکومت آج کتنی بااختیار ہے؟ ( یہ بحث اپنی جگہ کہ یہ اختیارات سویلین حکومت نے خود چھوڑے یا طرح طرح سے مرحلہ وار چھڑائے گئے )۔

فوجی قیادت کو اس پے بھی تو تحفظات ہونے چاہئیں کہ ڈھائی برس بعد بھی نواز شریف کو ایک کل وقتی وزیرِ خارجہ کیوں نہیں مل سکا؟ نیشنل ایکشن پلان کے تحت سویلین عدالتی نظام کو جدید اور موثر بنانے میں کیا رکاوٹ ہے تاکہ دو برس بعد فوجی عدالتوں کی معیاد میں توسیع کی ضرورت نہ پڑے۔ الیکشن کمیشن کیوں با اختیار نہیں بنایا جا رہا اور انتخابی اصلاحات کب تک مکمل ہوں گی؟ اچھے اور برے دہشت گردوں میں تمیز ختم کرنے کے عہد پر عمل درآمد کس مرحلے میں ہے؟

ہو سکتا ہے فوجی قیادت نے فی الوقت اپنی تحفظاتی لسٹ اس لیے مختصر رکھی ہو کہ جس حکومت کے وزیر آپس میں ہی گھتم گھتا ہوں اور جہاں وزیرِ داخلہ ( نثار علی ) سینہ ٹھونک کے کہیں کہ میں جی ایچ کیو سے براہ ِراست رابطے کے لیے وزیرِ دفاع (خواجہ آصف) کا محتاج نہیں۔ ایسی حکومت پر اور کتنا دباؤ ڈالنا۔
شو بزنس کی معروف شخصیت عمر شریف سے منسوب ایک اکاؤنٹ سے حال ہی میں ٹویٹ کیا گیا 

وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام 

No comments:

Powered by Blogger.