Header Ads

Breaking News
recent

عدلیہ کا ضابطۂ اخلاق اور توہینِ عدالت

عدل کی کرسی ایسی ہے کہ جس پر بیٹھنے والے شخص سے جہاں عزت و احترام وابستہ ہے، اس پر اعتماد اور اس کے انصاف سے معاشرے کو دوام اور امن میسر آتا ہے، وہیں دنیا کے ہر معاشرے نے عدل کرنے والوں کے لیے کڑے معیار مقرر کیے ہیں۔ ان کے کردار‘ اخلاق‘ حسن سلوک‘ انصاف پسندی اور دوست دشمن کی پرواہ کیے بغیر عدل کرنے کو ہی جج کی صفات گردانا ہے۔

 یوں تو دنیا کا ہر شعبہ عدل کی بنیاد پر قائم ہے، گھر کے نظام سے لے کر کاروبار تک اور معاشرتی میل جول سے لے کر حکومتی انتظام تک اگر عدل نہ ہو تو ایسے معاشرے تباہ برباد ہو جایا کرتے ہیں۔ دنیا کی تاریخ میں جن قوموں پر زوال آیا ان میں ایک عیب ضرور تھا کہ انھوں نے عدل کو خیر آباد کہہ دیا تھا۔ یہاں تک کہ حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم صرف اس بات پر بدترین عذاب کا شکار ہوئی کہ وہ ناپ تول میں عدل نہیں کرتے تھے۔

عدالتوں کا نظام دنیا میں اس لیے وجود میں لایا گیا کہ اگر زندگی کے کسی بھی شعبے میں عدل نہ ہو رہا ہو‘ ناانصافی کی شکایت ہو تو لوگ عدالت کے پاس جائیں اور عدالت اس ناانصافی کرنے والے کو سزا دے اور حق دار کو انصاف فراہم کرے۔ عدل دراصل عدالت میں نہیں ہوتا‘ وہاں تو ناانصافی یا عدل کی عدم فراہمی کو اپنے فیصلوں سے درست کیا جاتا ہے اور سزاوار کو سزا سنائی جاتی ہے۔ عدل تو تھانے‘ پٹوار خانے‘ ٹیکس کے دفتر‘ کاروباری مرکز یا خاندان میں ہوتا ہے۔

 اگر تھانیدار مجرم کو پکڑے‘ صحیح تفتیش شروع کرے تو عین ممکن ہے کہ مدعی عدالت میں نہ جائیں‘ اگر لین دین میں انصاف کا اصول ہو تو لوگ عدالتوں کے دروازے نہ کھٹکھٹائیں۔ اگر خاندان میں وراثت‘ جائداد اور دیگر معاملات میں گھر کے لوگ انصاف سے کام لیں تو عدالت کو عدل کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ عدالت بنیادی طور پر حق دار کو حق دلانے‘ ناانصافی کو روکنے‘ مجرم کو سزا دینے اور ایسے قوانین کے خاتمے کے لیے وجود میں آتی ہے جو لوگوں کو انصاف فراہم کرنے سے روکتے ہیں۔

اسی لیے دنیا کے ہر معاشرے میں عدالت کا احترام لازم قرار دیا گیا ہے۔ توہین عدالت ایک ایسا قانون ہے جو صدیوں سے انسانی معاشرے میں نافذ ہے۔ یہ قانون کبھی بھی یک طرفہ نہیں رہا ہے۔ جہاں عوام کو عدالت کی کردار کشی کی اجازت نہیں‘ انھیں عدلیہ کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنے اور بے بنیاد الزامات سے روکا جاتا ہے وہیں عدلیہ کے اعلیٰ مقام اور مرتبہ کے ججوں سے بھی یہ توقع ہی نہیں بلکہ لازم قرار دیا جاتا ہے کہ وہ عدلیہ کا احترام کریں۔ یہ احترام نہ صرف ان کے رویے‘ ان کے کردار اور ان کی گفتگو سے نظر آنا چاہیے بلکہ عدلیہ کے اعلیٰ ترین ججوں پر یہ بھی لازم ہے کہ وہ بہترین لباس زیب تن کر کے آئیں۔

ایسا لباس جو عدالت کی عزت و توقیر کے مطابق ہو۔ بلوچستان کے ایک جج صاحب عموماً عدالت میں آنے کے بعد جوتے اتار کر چپل پہن لیتے تھے کہ پاؤں ذرا آرام سے رہیں۔ ان کے سامنے ایک وکیل پیش ہوا تو بحث ذرا گرما گرم ہو گئی جس سے لہجے میں تلخی آ گئی۔ جج نے کہا کہ میں تم پر توہین عدالت لگا دوں گا۔ اس پر وکیل فوراً بول اٹھے، آپ توہین عدالت کیسے لگا سکتے ہیں جب کہ آپ خود عدالت کی توہین کر رہے۔ آپ نے سوٹ کے نیچے چپل پہن رکھی۔ ایسا لباس اور چپل پہن کر آپ کسی عزت دار محفل میں نہیں جا سکتے لیکن آپ عدالت میں موجود ہیں۔ بھلے زمانے تھے جج صاحب کو غلطی کا احساس ہوا اور پھر بلوچستان کے لوگ گواہ ہیں کہ انھوں نے ہمیشہ مناسب اور مکمل لباس پہنا کہ کہیں ان کے اس رویہ سے عدالت کی توہین نہ ہو جائے۔

ہندوستان کے صوبے کیرالہ کی ہائی کورٹ کا 2005ء کا ایک کیس توہین عدالت کے ایک ایسے مقدمے کی نشاندہی کرتا ہے جس میں توہین عدالت کا مرتکب ایک معزز جج قرار دیا گیا۔ کیرالہ ہائی کورٹ کے اس معزز جج کے بارے میں ایک صحافی نے کچھ خبریں لگانا شروع کیں جو ان کے فیصلوں کے بارے میں تھیں۔ فیصلوں پر تبصرہ کرنا چونکہ توہین عدالت کے زمرے میں نہیں آتا، اس لیے جج صاحب اس کو کچھ کہہ نہیں سکتے تھے۔ اچانک ایک شخص نے اس صحافی کے خلاف ہتک عزت اور بلیک میلنگ کا دعویٰ کر دیا۔ صحافی ایک دو پیشیوں میں حاضر نہ ہوا۔ جج صاحب نے تھانیدار کو عدالت میں طلب کیا اور کہا وہ جہاں کہیں بھی ہے اس کو پکڑ کر ہمارے سامنے پیش کیا جائے۔ تھانیدار واپس آیا اور اس نے بتایا کہ صحافی تو اسپتال میں بستر پر ہے کیونکہ دس دن پہلے اس کا ایکسیڈنٹ ہوگیا۔

جج صاحب نے حکم دیا کہ اس کو اسٹریچر پر ڈال کر حاضر کرو۔ ایک گھنٹے کے بعد ایک اسٹریچر فاضل عدالت کے کمرے میں داخل ہوا اور اس کے تھوڑے ہی عرصے کے بعد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے فاضل جج پر توہین عدالت کی سماعت کا اعلان کر دیا۔ اور کہا کہ اس طرح ایک ملزم کو عدالت کے کٹہرے میں لا کر عدالت کی توہین کی گئی ہے۔ پاکستان میں سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس محمد علی سید اور شریعت کورٹ کے جسٹس شفیع محمدی کے کیسوں کی مثالیں بھی اسی زمرے میں آتی ہیں۔

 ججوں کو عدالت کے احترام کا پابند کرنے اور انھیں توہین عدالت سے روکنے کے لیے دنیا کے ہر ملک میں ایک ضابطہ اخلاق مقرر کیا جاتا ہے۔ پاکستان کی عدلیہ کا بھی ایک ضابطہ اخلاق ہے۔ اس کے ان چند نکات پر غور کریں تو آپ سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ جج بننا تو زندگی بھر پل صراط سے گزرنے کے مترادف ہے۔

-1 ایک جج خدا سے ڈرتا ہو‘ قانون پر عملدرآمد کرتا ہو‘ زبان کا سچا‘ رائے میں عقل مند‘ محتاط اور صبر سے کام لینے والا ہو۔ وہ ہر الزام سے مبرا اور اسے لالچ چھو کر بھی نہ گزرا ہو۔

-2 انصاف کرتے ہوئے اس کو مضبوط ہونا چاہیے، لیکن کھردرا نہیں‘ نرم خو ہونا چاہیے لیکن کمزور نہیں‘ اپنے الفاظ میں سچا اور پر اعتماد اور ہمیشہ اپنے سکون کو قائم رکھنے والا ہونا چاہیے۔

-3 جج تک پہنچنا نا ممکن ہو اور اس کا کردار اس چیز کا اظہار کرے۔ اسے اس بات کو ممکن بنانا چاہیے کہ انصاف ہو رہا ہے بلکہ انصاف ہوتا نظر آنا چاہیے۔ اسے ایسی تمام آراء سے دور رہنا چاہیے جس پر اس کے ذاتی فوائد کا شائبہ ہو۔

-4 اس کے تمام افعال لوگوں کی نظر میں ہوتے ہیں اور اسے وہ تمام شہرت مل جاتی ہے جس کا وہ مستحق ہے لیکن اسے زیادہ کا طلبگار نہیں ہونا چاہیے۔

-5 تحائف صرف رشتہ داروں اور قریبی دوستوں سے وصول کرنے چاہئیں اور وہ بھی رواج کے طور پر۔ اگر کوئی چیز جس کا تصور بھی آ جائے کہ یہ دفتری امور میں حائل ہو گی اس کا انکار کر دیا جائے۔

-6 جج کو مختصر ترین مدت میں فیصلے کرنا چاہئیں۔ جتنی جلد ممکن ہو سکے لوگوں کی مشکلات میں جلد انصاف فراہمی میں اپنے فیصلوں کے ذریعے کمی لانا چاہیے۔ یہ اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کے ضابطہ اخلاق کے چند نکات ہیں۔ کوئی جج جو ان نکات پر عمل درآمد نہیں کرتا وہ دراصل توہین عدالت کا مرتکب ہو رہا ہوتا ہے۔ اس لیے کہ اس کے اس عمل سے عوام میں عدلیہ کا وقار مجروح ہوتا ہے اور عدالت زیر بحث آ جاتی ہے۔ یہ سب اس لیے یاد آ رہا ہے کہ سپریم کورٹ کے معزز جج سرمد جلال عثمانی صاحب جو اب سپریم کورٹ سے رخصت ہو گئے ہیں، سود کے بارے میں اپیل نا منظور کرتے ہوئے انھوں نے فرمایا کہ ہم عدالت میں مدرسہ نہیں لگا سکتے‘ جو سود نہیں لیتا نہ لے‘ جو لے گا اسے اللہ پوچھے گا۔

 اللہ نے آئین پاکستان کے توسط سے آپ کو عدل کی کرسی پر سرفراز فرمایا تھا۔ آپ کے پاس آئین کی دفعہ 190 کے تحت یہ اختیار بھی موجود تھا کہ ملک کی تمام انتظامی اور عدالتی مشینری آپ کا حکم ماننے کی پابند تھی۔ آپ سوئس عدالت کو خط نہ لکھنے پر وزیراعظم کو گھر بھیجنے تک جیسا اختیار رکھتے تھے۔ آپ نے اٹھارہ کروڑ عوام کو سود کے معاملے میں عدالتی بے بسی کا اظہار کر کے کہیں توہین عدالت تو نہیں کی۔ کیا واقعی سپریم کورٹ اسقدر بے بس ہے کہ لوگوں کو اب صرف اللہ سے انصاف کی توقع اور امید رکھنا چاہیے۔ یہ سوال پاکستان کے چیف جسٹس کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ کیا عدالت کے بارے میں عوام کو ایسا تاثر دینے سے توہین عدالت نہیں ہوئی۔ کوئی سوؤ موٹو اس ضمن میں بھی مائی لارڈ۔

اوریا مقبول جان

No comments:

Powered by Blogger.