Header Ads

Breaking News
recent

سانحہ منی میں سعودی حکومت کا کیا قصور

حج کے دوران سانحوں کی ایک طویل تاریخ ہے اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی سانحے کی ذمے داری سعودی عرب کی حکومت پر ڈالی گئی ہو۔
بچپن میں ہم حاجیوں کو یا تو اپنے گائوں ہی سے الوداع کیا کرتے تھے، کچھ لوگ کراچی تک ساتھ جاتے اور بحری جہاز پر سوار کرانے کے بعد واپس آ جاتے، کسی حاجی کی موت راستے میں واقع ہو جاتی تو ہم لوگ ایک ہی فقرہ دہراتے، کہ حاجیاں دا حج قبول۔ ان حاجیوں کی میتوں کو بحیرہ عرب کی لہروں کی نذر کر دیا جاتا تھا۔

مگر ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ایک سانحہ ہو جائے اور اس سے سعودی حکومت کوئی سبق نہ سیکھے اور آئندہ کے لئے اس قسم کے سانحے یا حادثے کو روکنے کے لئے اقدامات نہ کرے، اب تو حرمین شریفین کی شکل و صورت ہر دو تین سال بعد اس قدر بدل جاتی ہے کہ دوبارہ جانے والا ایک لحاظ سے یہی سمجھتا ہے کہ وہ پہلی بار یہاں آ رہا ہے۔ ہر بار نت نئی سہولتیں، فراخی، کشادگی، اور چکا چوند، ایک تو الوہی نور کی بارش ، زمین سے آسمان تک نور ہی نور اور اوپر سے روشنیوں سے معمور کہکشائیں ہر قدم کو چومتی ہیں۔

یہ ایک ایسا سماں ہے جسے ایک حاجی ہی محسوس کر سکتا ہے یا بیان کر سکتا ہے، مجھ گناہ گار کو تو حج کی توفیق نہیں ہوئی، سرکاری حج کی دعوت حکومت پاکستان نے بھی دی اور سعودی عرب کی حکومت نے بھی مگر میں اسے تقوی کے خلاف سمجھتا ہوں۔ بہر حال اللہ کبھی بلائے گا تو انشا اللہ جائوں گا اور اپنے رب کے گھر اور اپنے رسول ﷺ کے نقوش پا کو پلکوں سے چوموں گا۔

اس سال حج پر دو سانحے ہوئے، یکے بعد دیگرے شہادتوں کی وجہ سے مسلم دنیا میں ایک کھلبلی مچی۔ پہلے تو کرین گری اور پھر وہی منی میں بھگدڑ جو ہمیشہ ہوتی ہے مگر اس سال اس کا امکان کم تھا، پھر بھی ہو گئی۔سعودی عرب نے جدید ترین اور فول پروف انتظامات کئے تھے، مگر ہم مسلمان نظم و ضبط سے عاری قوم ہیں ، یہ کسی نے نہیں سوچا اور ہر کوئی لٹھ لے کر سعودی عرب پر پل پڑا۔ ایران کو تو موقع چاہئے تھا، وہ یمن کی وجہ سے سعودی عرب کے ساتھ پراکسی جنگ میں الجھاہوا ہے، سعودی عرب تو براہ راست اس تنازعے کا فریق ہے مگر ایران پس پردہ رہ کر حوثیوں کی مدد کر رہا ہے اور زبانی کلامی بھی سعودی عرب کی مخالفت کا کوئی موقع ضائع نہیں جانے دیتا، حاجیوں کی شہادت پر ایران آپے سے باہر ہو گیا، آیت اللہ جیسے محترم اور اعلیٰ ترین منصب سے کہا گیا کہ سعودی عرب کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔

دنیا میں آئے روز مسافر طیارے تباہ ہو رہے ہیں مگر آج تک کسی ملک نے دوسرے ملک پر پروپیگنڈے کی یلغار نہیں کی اور نہ یلغار کرنے کی کوئی منطق ہے نہ کوئی حق بنتا ہے، ایران کے شہید حاجیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، اس پر ہر دل دکھی ہے لیکن اگر ہم یہ مانتے ہیں کہ حج کے دوران موت سب سے افضل ہے اور ہم تو ہر وقت دعا کرتے ہیں کہ یا اللہ! ہمیں اپنے رسول ﷺ کے شہر میں موت نصیب فرما اور جو لوگ حج کے دروان شہید ہوئے، ان کی فضیلت کے مرتبے کا تو کوئی اندازہ ہی نہیں لگا سکتا، ایران ایک بردار اسلامی ملک ہے، وہ اگرا س زاویئے سے دیکھے تو پھر اس کے غم و غصے میں کمی واقع ہو سکتی ہے، مجھے تو حیرت ہے اپنی سینٹ پر جس نے لاوا ابلنے کی کوشش کی ہے۔

یہی سینیٹ اور ساتھ ہی قومی اسمبلی اس سے پہلے سعودی عرب میں فوج
 بھیجنے کی مخالفت کر چکی ہے جس کی وجہ سے پاکستان عرب دنیا میں تنہا ہو گیا ہے، صرف سعودی عرب والے ہی نہیں، عرب امارات والے بھی ہم سے کھچے کھچے سے ہیں۔ہ میں اپنے ذہن سے یہ خناس نکال دینا چاہئے کہ یہ سعود ی عرب تو ان بدووں کا ملک ہے جو حجاج کے صدقے سارے سال کی روٹیاں کماتا تھا۔ نہ عرب امارات اب ان مچھیروں کی بستی ہے جو سمندر میں جال پھینک کر مچھلیوں کے پھانسنے کے انتظار میں ہلکان ہو جاتے تھے، ہم نے سعودی اور عرب شہزادوں کو تلور کے شکار کے لئے بھی بری طرح لتاڑا۔
ابھی کل ہی ہمارے ساتھی کالم کار فضل حسین اعوان نے صحیح لکھا ہے کہ تلو رتو پاکستانی پرندہ ہی نہیں ، یہ تو سائبیریا سے آتا ہے ا ور وہیں واپس چلا جاتا ہے، ان میں سے کچھ کو شکار کر بھی لیا جائے تواس پر اعتراض کا حق سائبیریا والوں کو ہونا چاہئے ، ہم کاہے کو ڈنڈا پکڑ کر غرانے لگ جاتے ہیں۔ ہماری عدلیہ کے بھی کیا کہنے جس نے تلور کے شکار پر پابندی عائد کردی، بھئی، اسے شکار نہیں کریں گے تو اس نے اسلام آباد کے ایوان وزیراعظم میں بسیرا تو نہیں کرنا، اسے تو اپنے اصل دیس کا ہی رخ کرنا ہے۔ مگر دیکھنے کی بات یہ ہے کہ جب ہمارے ملکی جانور کا نقصان نہیں ہو رہا تو ہم کاہے کو سیخ پا ہوتے ہیں۔ مگر ہماری اس تنک مزاجی نے ہمیں اپنے عرب دوستوں سے دور کر دیا ہے۔ اب حاجیوں کا سانحہ ہوا تو ہم اس بہانے سعودی عرب پر چڑھ دوڑے اور اس کی جان بخشی کرنے کا نام ہی نہیں لیتے۔

مجھے اس میں ذرہ بھر شک نہیں کہ ہمیں سعودی عرب کے خلاف بھڑکانے میں پس پردہ بھارت کا ہاتھ ہے۔ جوعناصر بھارت کا کھاتے ہیں، اسی کے گن گاتے ہیں، اسی کی زبان بولتے ہیں۔ بھارت کے حاجی بھی شہید ہوئے مگر خوداس نے وہ ہاہا کار نہیں مچائی جس طرح ہم نے آسمان سر پہ اٹھا رکھا ہے۔
سعودیہ کے خلاف امریکہ بھی پیش پیش نظر آتا ہے۔ گو کھلی دشمنی والی بات تو نہیں مگر ایک سرد جنگ کی کیفیت ضرور ہے اور جس دن سے ایران اور امریکہ کا ملاپ ہوا، اسلامی دنیا کو سعودیہ کے خلاف کسی نہ کسی بہانے بھڑکایا جا رہا ہے۔

کس قدر مضحکہ خیز مطالبہ ہے کہ حرمین شریفین کو اسلامی دنیا کے مشترکہ کنٹرول میں دیا جائے۔ اول تو اسلامی دنیا نے حرمین شریفین کا محل وقوع نہیں بنایا، یہ قدرت کا کام ہے۔اور خدائی عطیہ ہے۔دوسرے اگر ہم اس مطالبے کی حمائت کریں گے تو کل کو سکھ ہم سے مطالبہ کر سکتے ہیں کہ پنجاب میں واقع ان کے مقدس مذہبی مقامات ان کے کنٹرول میں دیئے جائیں، لاہور، ننکانہ صاحب، حسن ابدال کو وہ کیسے بھول جائیں، بھارت میں تو ایک امرتسر ہے، جبکہ پاکستان سکھ زیارتوں سے بھرا پڑا ہے اور ہندووں کے مقدس مقامات کی بھی یہاں کوئی کمی نہیں اور پیچھے جائیں تو بدھ مذہب والے ٹیکسلا پر حق جتائیں گے، اسلئے حرمین شریفین کے مشترکہ کنٹرول کی بات کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم بالواسطہ پاکستان کے حصے بخرے کرنا چاہتے ہیں۔ اسی لئے سیانے کہتے ہیں پہلے تولو ، پھر بولو!!!

اسد اللہ غالب
بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘

No comments:

Powered by Blogger.