Header Ads

Breaking News
recent

وزیراعظم واشنگٹن میں؟ سمت و حقائق

اپنے گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ دورہ واشنگٹن وزیراعظم کیلئے بڑا
چیلنج ہوگا قرائن یہی بتارہے ہیں ان سطور کی اشاعت تک وزیراعظم نواز شریف واشنگٹن پہنچ کر اپنے تین روزہ امریکی دورے کی مصروفیات کا آغاز کرچکے ہوں گے۔ پاکستانی کمیونٹی کے اجتماع کی تاریخ اور مقام میں ردوبدل کے بعد 20 اکتوبر کی سہ پہر پاکستانی سفارتخانہ میں پاکستانیوں کے اجتماع میں شرکت کے بعد آرام کر کے وزیر اعظم بدھ 21 اکتوبر کی صبح (پاکستان میں بدھ کی شام) امریکہ کے وزیر خارجہ، آئی ایم ایف کے سربراہ ، امریکی وزیر خزانہ سے ملاقاتیں اور امریکی پاک بزنس کونسل سے خطاب کے علاوہ سینیٹ کی امور خارجہ کمیٹی کے چیئرمین اور اراکین اسی طرح ایوان نمائندگان کی عالمی تعلقات کی کمیٹی کے چیئرمین اور ار اکین سے ملاقاتوں پر مبنی مصروفیات نمٹائی جارہی ہوں گی

اور اس سے اگلی صبح یعنی 22 اکتوبر کو امریکی نائب صدر جوزف بائیڈن سے ملاقات کے بعد ’’سب توں وڈی تے اصلی ملاقات‘‘ یعنی صدر اوباما سے پاکستانی وزیراعظم کی بڑی اہم ملاقات ، امریکی صحافیوں سے ناشتے پر ملاقات اور پھر یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس سے خطاب کے ساتھ ہی وزیراعظم کی طے شدہ مصروفیات بظاہر ختم ہو جائیں گی جس کے بعد وزیراعظم واشنگٹن سے وطن واپسی کیلئے روانہ ہونے کا پروگرام رکھتے ہیں۔

گو کہ مصروفیات کی فہرست اتنی طویل نہیں مگر یہ دورہ امریکہ نواز شریف اور پاکستان دونوں کیلئے بہت سے نتائج کا حامل ہوگا۔ گو کہ وزیراعظم کے مشیر اور معاون بڑی وضاحت کے ساتھ کہہ رہے ہیں کہ نہ تو ہم کوئی ’’ڈیل‘‘ کریں گے نہ ہی ہم شرائط ماننے یا منوانے کیلئے تیار ہیں اور نہ ہی مانیں گے بلکہ پاک۔ امریکہ تعلقات کو تجارت اور معاشی خوشحالی کے لئے وسعت دینے کے لئے امریکہ سے مذاکرات کریں گے۔ مگر ملاقاتوں اور مذاکرات کے زمینی حقائق کبھی یکطرفہ نہیں ہوتے۔
لہٰذا فی الحال وزیراعظم نواز شریف کے دورے کے بارے میںپاکستانی موقف اور توقعات کا پتہ تو چل سکتا ہے لیکن حتمی نتیجہ تو ملاقات و مذاکرات کے بعد ہی سامنے آئے گا البتہ وزیراعظم کی واشنگٹن آمد سے قبل مشیر خارجہ سرتاج عزیز ، سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری اور پاکستانی سفیر برائے امریکہ جلیل عباس جیلانی سے فرداً فرداً تبادلہ خیال کا بھی موقع ملا تو وزیراعظم کے دورے کی سمت اور مقاصد زیادہ واضح ہو کر سمجھ میں آئے۔ اگر کچھ معاشی اور معاشرتی ،دفاعی اور سیاسی دشواریاں ہمیں لاحق ہیں تو طاقت ور امریکہ کے صدر اوباما کی بھی صدارت کی آٹھ سالہ میعاد ختم ہونےمیں صرف ایک سال باقی ہے۔ مخالف ری پبلکن پارٹی ڈیموکریٹ صدر اوباما پر مسلسل وار کررہی ہے۔ صدر اوباما کو محدود اور تنقید سے دوچار کیا جارہا ہے۔

اپنی صدارت کے آخری سال میں عالمی سپر پاور کا صدر اوباما غیر فعال اور بے اختیار ہونے جارہا ہے۔ وہ کوئی طویل مدتی اقدام نہیں کرسکتے کیونکہ نیا کھیل تو امریکہ کا نیا منتخب صدر 2017ء سے شروع کرے گا۔ صدر اوباما نے اعلان کیا تھا کہ وہ2016 ء تک افغانستان میں تمام امریکی فوجی واپس بلالیں گے لیکن حالات کے ہاتھوں وہ ناکام رہے اور اب اچانک افغانستان میں دہشت گردوں کی سرگرمیاں پھر بڑھنے لگی ہیں۔ جس پاکستان سے تعلقات کے اتار چڑھائو اور دہشت گردی کی جنگ میں 13سال تک اتحادی رکھ کر امریکہ نے لاتعلقی اور بھارت کیلئے ترجیحی پالیسی اختیار کرلی تھی آج ایک بار پھر امریکہ کو اسی پاکستان کی ضرورت پڑگئی ہے۔

امریکہ کو پاکستان کی ایک بار پھر ضرورت اور پاکستان کے مذکورہ سفارت کاروں اور ترجمانوں کے اس واضح اعلان کے باوجود کہ ہم اپنے ایٹمی اور میزائلوں کے پروگرام اور قومی سلامتی پر نہ تو کوئی شرط قبول کریں گے اور نہ ہی کوئی ڈیل ہوگی، حقائق کچھ مختلف نظر آتے ہیں۔ امریکہ بھارت کے ساتھ اپنی ترجیحات و مراعات کی نوازشات کی پالیسی کے ساتھ ساتھ اس کی قومی سلامتی کے محافظ کا رول بھی اپنا رہا ہے۔ گویا جنوبی ایشیا میں امریکہ نے توازن کی پالیسی کی بجائے اپنی حمایت کا وزن بھارت کے پلڑے میں ڈال دیا ہے جو پاکستان کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ میرے محترم دوست اور پاکستان کے مایہ ناز سابق سفارت کار منیر اکرم نے اپنے مضمون میں گزشتہ ماہ اقوام متحدہ میں نواز شریف ، جان کیری ملاقات کا ذکر کرتےہوئے لکھا ہے کہ امریکہ پاکستان پر ’’ڈومور‘‘ کا دبائو بڑھائے ہوئے ہے۔

اس مذکورہ میٹنگ کے آغاز سے اختتام بلکہ اس کے بعد، امریکی بریفنگ تک میں اسی فلور پر موجود تھا۔ میٹنگ کے اختتام پر دونوں طرف کی ’’باڈی لینگویج‘‘ بہت کچھ بتا رہی تھی اور ذرائع بھی جو زبان بول رہے تھے وہ ’’ڈومور‘‘ پر ہی مرکوز تھی۔ منیراکرم نے سالہا سال تک انتہائی ذہانت اور تخلیقی ڈپلومیسی کے ذریعے پاکستان کی بڑی خدمت کی ہے اور آج بھی وہ ایک اثاثہ ہیں۔ ان کی تجزیاتی تحریر اور بیان کردہ حقائق پر توجہ کی ضرورت ہے کہ وہ ہمارے ملک کے ماہر سفارت کار رہے ہیں۔ سلامتی کونسل میں توسیع اور بھارت کا راستہ روکنے کیلئے حکمت عملی منیر اکرم نے ہی مرتب کی ہے جو تاحال کامیاب نظر آتی ہے۔

لہٰذا اپنے سابق قابل فخر سفارت کار کی رائے اور تجزئیے کو غوروفکر کی نگاہ سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ میں نے گزشتہ کالم میں ’’ڈومور‘‘ کے حوالے سے جو معروضات پیش کی تھیں وہ بھی اسی تناظر میں تھیں۔ ان کی رائے ہے کہ پاکستان۔ امریکہ تعلقات ایک بار ’’شوڈائون‘‘ یعنی ناراضی اور اختلافات کی جانب جا رہے ہیں۔ امریکہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام اور میزائل پروگرام کو اس انداز میں محدود دیکھنا چاہتا ہے کہ پاکستان جنگ کی صورت میںبھارت کے خلاف سیکنڈ اسٹر ائیک نہ کرسکے۔

گویا پاکستان سے اس کی قومی سلامتی پر ’’کمپرومائز‘‘ کرنے کیلئے کہا جارہا ہے۔ پاکستان پر ایٹمی مواد کی پیداوار محدود کرنے پر زوراور بھارت کو کھلی چھٹی دی جارہی ہے۔ منیر اکرم کی یہ سنجیدہ معلومات دعوت فکر دیتی ہیں۔ اس میں قطعاً کوئی شک نہیں کہ پاکستان کو ہر طرف سے گھیرنے اور ہر طرح کے بحران میں مبتلا کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں۔ اگلے چند دنوں میں واضح ہو جائے گا کہ وزیراعظم نواز شریف اور ان کے معاونین نے کیا موقف اپنایا اور اس دورے سے امریکہ کو کیا مقاصد اور پاکستان کو کتنا مفاد حاصل ہوا۔

خدا کرے پاک۔ امریکہ تعلقات میں ماضی قریب کی طرح پھر کوئی ’’شو ڈائون ‘‘ نہ ہو اور پاکستان امریکہ ڈائیلاگ میں انگیج رہیں۔ وزیراعظم کا دورہ امریکہ مختصر مگر اہم ہے۔ سمت درست نظر نہیں آتی مگر احتیاط اور تدبر کے ساتھ انہیں ٹکرائو سے بچا کر توازن میں رکھنے کی ضرورت ہے۔ ’’ڈومور‘‘ اور اپنی قومی سلامتی اور دشمن سے حفاظت کیلئے بنائے گئے ’’ڈیٹرنس‘‘ کو محدود کرنے کا مطالبہ وزیراعظم کو سننے یا ماننے کی ضرورت نہیں۔ وزیراعظم کا دورہ واشنگٹن واقعی ایک بڑا چیلنج ہے۔
عظیم ایم میاں
بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

No comments:

Powered by Blogger.