Header Ads

Breaking News
recent

کیا شامی کاز کو فروخت کردیا گیا ؟

شامی صدر بشارالاسد کے بدستور اقتدار میں رہنے سے متعلق تجویز نے بہت
سوں کو پریشان کردیا ہے۔اس حوالے سے حال ہی میں سعودی ،ترک ،فرانسیسی اور روسی وزرائے خارجہ نے بیانات جاری کیے ہیں۔اسد رجیم اور اس کے اتحادی اس کو اس انداز میں بیان کررہے ہیں جیسے ان کے مخالفین ڈھیر ہوگئے ہیں اور روسی مداخلت نے جنگ کا ناک ونقشہ ہی تبدیل کردیا ہے۔اس لیے بشارالاسد اقتدار ہی میں رہیں گے۔

اس وقت اسد کی شام کے ایک تہائی حصے سے بھی کم پر حکومت ہے،ان کے تحت بہت تھوڑی فوج رہ گئی ہے اور سکیورٹی ادارے بھی سکڑ چکے ہیں۔جنگ کے نتیجے میں ایک کروڑ بیس لاکھ سے زیادہ شامی دربدر ہوچکے ہیں۔ان میں پچاس لاکھ سے زیادہ جانیں بچا کر بیرون ملک جاچکے ہیں۔ریاستی عناصر میں سے کچھ باقی نہیں بچا ہے۔بشارالاسد مقبروں کے درمیان میں رہ رہے ہیں جبکہ ان کا ہزاروں باغیوں سے سامنا ہے۔عملی طور پر ایک حکمراں کی حیثیت سے وہ صرف اپنے اتحادیوں روس اور ایران کے بیانات ہی میں زندہ ہیں۔
یہ کہنا بھی درست نہیں ہے کہ روس کی شام میں مداخلت سے بشارالاسد کو اقتدار میں رہنے کا حق حاصل ہوگیا ہے۔ان کی حمایت میں اب روسی ہی رہ گئے ہیں۔شامی صدر نے اپنی سکیورٹی فورسز اور ٹھگوں کو اپنا اقتدار بچانے کے لیے استعمال کیا ہے مگر وہ اس میں ناکام رہے ہیں۔پھر انھوں نے لبنانی جماعت حزب اللہ کی جانب رجوع کیا تھا جس کو گوریلا جنگ کا کافی تجربہ حاصل تھا لیکن وہ بھی ناکام رہی۔ پھر ایرانی شامی صدر کی مدد کو آگئے تھے مگر وہ بھی ناکامی سے دوچار ہوئے۔عراقی اور افغان شیعہ ملیشیاؤں کو بھی باغیوں کے خلاف جنگ میں اتارا گیا مگر وہ برسرزمین کوئی پیش قدمی نہ کرسکیں۔

بشارالاسد کی رخصتی

پھر روس اپنی فضائی قوت اور میزائلوں کے ساتھ جنگ میں شریک ہوگیا مگر نتیجہ کچھ مختلف نہیں ہے۔اسی ہفتے روس نے اللاذقیہ میں جنگی کارروائیوں پر اپنی توجہ مرکوز کی ہے۔یہ صوبہ ماضی قریب تک بشارالاسد کے لیے محفوظ تھا مگران کی اتنی قدر نہیں ہے کہ جس کی قیمت ان کے اتحادی اور شامی عوام چکا رہے ہیں۔اس سب سے کے باوجود اس بات کی کوئی امید نہیں ہے کہ وہ اقتدار میں بدستور رہیں گے۔
حتیٰ کہ ایرانی بھی اس بات سے آگاہ ہیں کہ بشارالاسد کا اقتدار سے مزید چمٹے رہنا ناممکنات میں سے ہے حالانکہ وہ انھیں بدستور اقتدار میں دیکھنا چاہتے ہیں۔تاہم وہ مذاکراتی عمل اور شام میں مستقبل کے نظم ونسق کو کنٹرول کرنا چاہتے ہیں۔وہ ایک اور ایسے اسد کو یہ ذمے داریاں سونپنا چاہتے ہیں جو ان کے احکامات کی تعمیل کرے تاکہ وہ عراق سے شام اور لبنان تک تزویراتی جغرافیائی اہمیت کے حامل علاقے پر اپنی بالادستی کو برقرار رکھ سکیں اور اس طرح خلیج کا محاصرہ کرسکیں۔

روسی مؤقف میں تبدیلی سعودی عرب کے نائب ولی عہد اور وزیردفاع شہزادہ محمد بن سلمان کے روس کے دورے کے بعد تبدیلی آئی تھی اور روس نے عبوری حکومت کے قیام کے لیے بات چیت شروع کی تھی۔یہ توقع کی جاتی ہے کہ اس عبوری حکومت کی تفصیل سے متعلق اختلافات پیدا ہوں گے۔اس کی ہیئت ترکیبی ،فوج اور سکیورٹی اداروں کے کردار اور بشارالاسد کی رخصتی کے وقت سے متعلق اختلافات ہوسکتے ہیں۔

اب بشارالاسد کے لیے یہ ناممکن ہے کہ وہ ایک قانونی صدر کی حیثیت سے برقرار رہ سکیں۔شامی کاز کو فروخت کیا گیا ہے اور نہ اس کو بیچا بھی جاسکتا ہے۔


عبدالرحمان الراشد العربیہ نیوز چینل کے سابق جنرل مینجر ہیں۔

No comments:

Powered by Blogger.