Header Ads

Breaking News
recent

بھارتی گائے مسلمان کی زندگی سے قیمتی

بھارت اپنے آپ کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت سیکولرازم کا علمبردار
قرار دیتا ہے، میں گزشتہ دنوں پیش آنے والے واقع نے بھارت کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کردیا ہے۔ یہ واقعہ بھارتی ریاست اترپردیش میں پیش آیا جہاں گائے کا گوشت کھانے کے شبہ میں انتہا پسند ہندوئوں نے 50 سالہ اخلاق احمد کو تشدد کرکے شہید جبکہ بیٹے کو شدید زخمی کردیا۔ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب کچھ شرپسند ہندوئوں نے علاقے میں افواہ پھیلادی کہ اخلاق احمد کے گھر میں گائے کا گوشت کھایا جارہا ہے جو فریج میں رکھا ہے جس کے بعد ’’گائے بچائو تنظیم‘‘ کے 200 سے زائد انتہا پسند ہندوئوں نے اخلاق احمد کے گھر پر دھاوا بول کر اُنہیں بیٹے سمیت گھر سے باہر گھسیٹ کر تشدد کا نشانہ بنایا اور اینٹوں سے مارا۔

اس دوران دونوں باپ بیٹے اور اہل خانہ، انتہا پسند ہندوئوں کو یقین دلاتے رہے کہ اُن کے گھر میں رکھا گوشت گائے کا نہیں بلکہ بکرے کا ہے مگر انتہا پسند ہندوئوں نے ان کی ایک نہ سنی اور دونوں کو تشدد کا نشانہ بناتے رہے جس کے نتیجے میں اس نے موقع پر ہی دم توڑ دیا جبکہ بیٹے کو تشویشناک حالت میں اسپتال لے جایا گیا۔ واقعہ کے دوران پولیس خاموش تماشائی بنی سب کچھ دیکھتی رہی اور بعد ازاں گوشت قبضے میں لے کر ٹیسٹ کیلئے لیبارٹری بھیج دیا گیا جس کی رپورٹ میں مقتول اخلاق احمد اور اُن کے اہل خانہ کی یہ بات سچ ثابت ہوئی کہ گھر میں رکھا گوشت گائے کا نہیں بلکہ بکرے کا تھا۔

 بھارت میں کسی مسلمان کے ساتھ ایسا پہلی بار نہیں ہوا بلکہ اس سے قبل کئی واقعات پیش آچکے ہیں جن میں 2014ء میں پیش آنے والا واقعہ بھی شامل ہے جب پولیس نے گائے ذبح کرنے کے الزام میں ایک مسلمان کے خلاف مقدمہ درج کیا جس کے بعد ہندو انتہا پسندوں نے مسلمان کو قتل کر دیا۔ اسی طرح رواں سال مارچ میں ایک ایسی ویڈیو منظر عام پر آئی جس میں ہاتھ بندھے مسلمان کو تشدد کرتے ہوئے گائے کی پوجا پر مجبور کیا جا رہا تھا جس کا جرم صرف گائے خریدنا اور بیچنا تھا۔

بھارت میں کچھ ایسی ریاستوں جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے، میں گائے کے ذبیحہ پر پابندی عائد ہے جن میں ریاست اترپردیش اور مقبوضہ کشمیر بھی شامل ہیں جس کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر کے مسلمان اس بار عیدالاضحی میں گائے کی قربانی کرنے سے محروم رہے۔ بھارتی حکومت کی پابندی کے خلاف گزشتہ دنوں کشمیر اسمبلی کے اجلاس کے دوران رکن اسمبلی انجینئر راشد جب اپنے پیش کئے گئے بل پر بحث کیلئے کھڑے ہوئے تو ہندو انتہا پسند جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے اراکین نے اُنہیں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جبکہ دیگر مسلمان اراکین کو دھمکی دی کہ اگر انہوں نے بل کی حمایت کی تو ان کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا جائے گا۔

انجینئر راشد نے اس سے قبل کشمیر اسمبلی میں یہ انکشاف کیا تھا کہ نریندر مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد سے بھارت میں 600 سے زائد فرقہ وارانہ مسلم کش فسادات ہوئے ہیں جن میں کئی مسلمان شہید ہوچکے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ مودی حکومت اپنے اقتدار کے محل کو مسلمانوں کی لاشوں پر کھڑا کرنا چاہتی ہے۔

یہ بات بڑی تعجب خیز ہے کہ بھارت کے اُن علاقوں جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے، میں گائے ذبح کرنے اور گائے کا گوشت کھانے پر پابندی عائد ہے مگر بھارت کی عیسائی اکثریتی ریاست گوا میں گائے کا گوشت کھانے پر کوئی پابندی نہیں۔ یہ بھی دلچسپ امر ہے کہ بھارت کا شمار دنیا میں گائے کا گوشت ایکسپورٹ کرنے والے ممالک میں سر فہرست ہوتا ہے جو بڑی مقدار میں خلیجی و عرب ممالک کو گائے کا گوشت ایکسپورٹ کرتے ہیں جس سے بھارت اور دیگر ممالک کو کثیر زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے مگر بھارتی حکومت نے گائے کے گوشت کی ایکسپورٹ پر کبھی پابندی عائد نہیں کی۔

بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے جب مسلمانوں کیلئے علیحدہ وطن کی جدوجہد کا آغاز کیا تو انہوں نے بڑے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ ’’برصغیر میں مسلمان اقلیت نہیں بلکہ قوم کی حیثیت رکھتے ہیں اور ہندوستان میں مقیم دو بڑی قومیں یعنی مسلمان اور ہندو کبھی ایک قوم بن کر نہیں رہ سکتیں کیونکہ اُن کے مذہب اور زندگی گزارنے کے طریقے ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہیں لہٰذا مسلمانوں کا الگ وطن کا مطالبہ ان کا بنیادی حق ہے، مسلمان ایسی مملکت چاہتے ہیں جہاں انہیں مکمل مذہبی آزادی حاصل ہو اور وہ اپنے مذہبی عقائد پر بلاخوف و خطر عمل کرسکیں۔‘‘ آج کئی دہائیاں گزرنے کے بعد قائداعظم کا یہ قول سچ ثابت ہورہا ہے اور بھارت کے مسلمان یہ سوچنے میں حق بجانب ہیں کہ بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ کم تر درجے کے شہریوں جیسا سلوک کیا جارہا ہے اور انہیںمذہبی آزادی حاصل نہیں۔ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی مذہبی عصبیت ایسے پاکستانیوں کیلئے سبق آموز ہے جو تقسیم ہند کو قائداعظم کی سنگین غلطی قرار دیتے ہیں۔

اترپردیش میں پیش آنے والا حالیہ واقعہ امت مسلمہ کیلئے باعث تشویش ہے جس سے بھارت میں رہنے والا ہر مسلمان خوف کا شکار ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی جن کے ہاتھ مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں، کی مسلم دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ وہ جب گجرات کے وزیراعلیٰ تھے تو ان کے دور میں ہونے والے فسادات کے دوران ایک ہزار سے زائد مسلمانوں کو شہید کیا گیا مگر نریندر مودی نے آج تک اس کی مذمت نہیں کی۔ اسی طرح مودی نے جنونی ہندوئوں کے ہاتھوں اخلاق احمد کے سفاکانہ قتل کی ابھی تک مذمت نہیں کی ہے بلکہ ان کی انتہا پسند جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر رہنما اور وزراء گائے کا گوشت کھانے کے شبہ میں ہندوئوں کے ہاتھوں مسلمان کے قتل کو درست قرار دے رہے ہیں جبکہ انہوں نے یہ کھلم کھلا کہنا شروع کردیا ہے کہ ’’جو بھارتی مسلمان گائے کا گوشت کھائے بغیر نہیں رہ سکتا، وہ پاکستان چلا جائے۔‘‘

اپنے آپ کو سیکولر ریاست کہلانے والے ملک بھارت کیلئے یہ ضروری ہے کہ وہ ملک میں آباد تمام اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنائے اور ایسے اقدامات کرے کہ ملک کی تمام اقلیتیں اپنے مذہبی عقائد کے مطابق بلاخوف و خطر زندگی گزار سکیں۔ سمجھوتہ ایکسپریس کو واہگہ بارڈر پر روکنا، شیوسینا کی مخالفت پر بھارت میں پاکستانی گلوکار غلام علی کے کنسرٹ کی منسوخی اور حال ہی میں ممبئی میں پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کی کتاب کی تقریب رونمائی کے آرگنائزر سدھیندرا کلکرنی کے چہرے پر شیوسینا کے انتہا پسندوں کی جانب سے کالک ملنا جیسے واقعات دنیا میں نام نہاد بھارتی سیکولرازم کا چہرہ بے نقاب کررہے ہیں جس سے یہ پیغام ملتا ہے کہ انتہا پسند ہندوئوں اور طالبان میں کوئی فرق نہیں اور مودی کے بھارت میں گائے مسلمان کی زندگی سے زیادہ قیمتی ہے۔

اشتیاق بیگ
بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

No comments:

Powered by Blogger.