Header Ads

Breaking News
recent

دنیا میں 800 ملین بھوک کا شکار، پاکستان کا 11واں نمبر....

گلوبل ہنگر انڈیکس 2015 کے مطابق دنیا بھر میں مسلح تصادم کے
باعث 800 ملین لوگوں تک پوری خوراک نہیں پہنچ رہی ہے۔
2015 کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا میں 52 ممالک ایسے ہیں جن میں سے زیادہ تر میں مسلح تصادم جاری ہونے کے باعث صورتحال یا تو پریشان کن ہے یا پھر تشویشناک۔

ان ممالک میں آٹھ ممالک ایسے ہیں جہاں پر صورتحال خوفناک حد تک ہے اور ان میں سینٹرل افریقن ریپبلک 46.9 پوائنٹس کے ساتھ سرِ فہرست ہے۔
اس فہرست میں پاکستان گیارہویں نمبر پر جبکہ بھارت 25 ویں نمبر پر ہے جہاں صورتحال تشویشناک ہے۔

خوفناک حد تک صورتحال کی فہرست میں افغانستان بھی شامل ہے۔
تاہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنہ 2000 سے ترقی پذیر ممالک میں بھوک میں 27 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

یہ رپورٹ انٹرنیشنل فوڈ پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ، جنسرن ورلڈ وائیڈ اور ویلٹ ہنگرالف نے تیار کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پہلے نمبر پر سینٹرل افریقن ریپبلک، دوسرے پر چاڈ اور تیسرے پر زیمبیا ہے۔
انڈیکس کے مطابق 2005 کے مقابلے میں پاکستان میں بھوک کی صورتحال میں 4.4 پوائنٹس کمی آئی ہے۔
دوسری جانب بھارت میں 2005 کے مقابلے میں بھوک کی صورتحال میں 9.5 پوائنٹس کمی آئی ہے۔

اس انڈیکس میں بہت سے ممالک شامل نہیں کیے گئے کیونکہ ان ممالک سے تصدیق شدہ اعداد و شمار نہیں لیے جا سکے۔ ان ممالک میں جنوبی سوڈان، کانگو اور شام شامل ہیں۔

تاہم ان ممالک کے بارے میں یہ معلوم ہے کہ بھوک کی صورتحال کافی خوفناک ہے۔

کنسرن ورلڈ وائیڈ کے چیف ایگزیکٹو ڈومنک میکسورلی کا کہنا ہے ’تصادم ترقی کو پیچھے کی جانب دھکیل دیتا ہے۔ امن کے بغیر مفلسی اور خوراک کی کمی کو 2030 تک ختم کرنے میں کامیابی حاصل نہیں کی جا سکے گی۔ وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری تصادم کو ہونے سے روکنے اور مسائل کے حل کو اولین ترجیح بنائے۔‘

No comments:

Powered by Blogger.