Header Ads

Breaking News
recent

حج، قربانی اور دانشوروں کی منطقیں

کسی قوم کے چہرے پر جب منافقت‘ جھوٹ اور ریاکاری اس قدر نمایاں ہو جائے کہ اس کے صاحبان علم و دانش اور قوم کو راستہ دکھانے والے ادیب‘ دانشور اور قلم کار اپنے زندگی کے روز مرہ معمول میں ایک طرز عمل اختیار کریں اور ان کی گفتگو میں پائے جانے والی اخلاقیات بالکل اس سے مختلف ہو تو اسے کم سے کم جس اصطلاح سے یاد کیا جا سکتا ہے وہ منافقت ہے۔

ہمارے ہاں یہ چلن مدتوں سے چلا آ رہا ہے‘ روس میں کیمونزم کے انقلاب سے پہلے ہی برصغیر پاک و ہند میں کیمونسٹ پارٹی وجود میں آ چکی تھی اور انھی خیالات کو پروان چڑھانے کے لیے انجمن ترقی پسند مصنفین بھی بن چکی تھی۔ 1920 میں جب نئے نئے کیمونسٹ روس نے آذربیجان میں قومیتوں کی کانفرنس بلائی تو برصغیر پاک و ہند سے بھی قومی کیمونزم کی بنیاد پر جدوجہد کرنے والے گروہ اس میں شریک ہوئے۔

ان میں بلوچ قومی جدوجہد کرنے والوں کا بھی ایک وفد شامل تھا۔ وہ کیمونزم جس کا ایک ہی نعرہ تھا کہ دنیا بھر کے مزدورو! ایک جاؤ یہ رنگ‘ نسل‘ زبان اور مذہب کے نعرے تم کو تقسیم کرنے کے لیے ہیں۔ تمہارا اصل دشمن سرمایہ دار ہے جو تمہارے خلاف متحد ہے۔ اسی کیمونزم نے اپنے نفاذ کے بعد پہلا نعرہ یہ بلند کیا کہ سوویت روس قوموں کی آزادی کی تحریکوں میں ان کا ساتھ دے گا۔ یہی وجہ ہے کہ مظلوم بلوچ کا لیڈر وہ سردار بن گیا جو صدیوں سے اسی پر ظلم روا رکھے ہوئے تھا۔
جانب ان تمام عظیم کمیونسٹ رہنماؤں‘ بڑے شاعروں‘ ادیبوں اور لکھاریوں کا طرز زندگی ایسا تھا کہ انھیں مزدور کے پسینے سے بو آئی تھی‘ وہ اس کے میلے کچیلے کپڑوں سے نفرت کرتے تھے‘ انھیں گھن آئی تھی۔
ان کی طبع نازک پر گراں گزرتا تھا۔ آپ سجاد ظہیر‘جاں نثار اختر‘ فیض احمد فیض‘ ساحر لدھیانوی یا ان جیسے مزدوروں کے خیرخواہ کسی بھی شاعر‘ افسانہ نگار یا ادیب کی مرنجا مرنج‘ نفیس اور بورژوا زندگی کو دیکھ لیں‘ ان میں نہ مزدور کی زندگی کی تلخی آپ کو ملے گی اور نہ ہی ویسا دکھ اور کرب۔ لیکن سوویت یونین کے ٹوٹنے نے ان لوگوں پر ایک بہت بڑا احسان کیا۔ انھیں اس منافقت کے بحر بیکراں سے نکال دیا۔

اب یہ قومی سیکولر‘ سرمایہ دارانہ معیشت اور جمہوریت کے علمبردار اور دعوے دار بن گئے ہیں۔ چلو ایک بات تو طے ہوئی کہ ستر سال میں جمہوریت کے خلاف جو عظیم دانشور‘ شاعروں‘ ادیب سے بڑے بڑے لیکچر سناتے تھے‘ وہ اس کو سرمایہ دارانہ جمہوریت کہہ کر گالیاں دیتے تھے‘ آج وہ جمہوریت کو پوری دنیا کے لیے نجات کا واحد ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ایک منافقت سے جان چھوٹی۔ جس امریکا کو ساری زندگی گالیاں دے کر زبانیں بدمزہ کیں‘ اسی کی تعریف میں رطب اللسان ہو کر جی خوش کر لیا۔
لیکن ان کے دونوں ادوار میں ایک چیز مشترک تھی‘ وہ کیمونسٹ تھے تب بھی اور آج کل لبرل سیکولر ہیں تب بھی اسلام اور شعائر اسلامی سے نفرت‘ ان کی تضحیک‘ ان کو سائنسی اعتبار سے غلط ثابت کرنے کی کوشش اور انھیں معاشرے کے لیے ناسور قراردینا ان کی خاص پہچان بن چکی ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال ٹی وی چینلوں‘ اخباری کالموں اور مضامین میں حج اور قربانی کے بارے میں شروع کی جانے والی بحث ہے۔ یوں تو سنت ابراہیمی اور حج کے بارے میں یہ بحث گزشتہ ایک سو سال سے سائنس اور ترقی کے نام پر چھیڑی گئی تھی لیکن آج کا سوشل میڈیا اور اس پر جلوہ گر دانشور طرح طرح کی درفنتنیاں چھوڑ رہے ہیں۔

یہ میڈیا پر بھی جلوہ گر ہیں اور کالم بھی تحریر کرتے ہیں۔ حج کے بارے میں ان کا پہلا جواز یہ ہوتا ہے کہ جو رقم حج پر خرچ کی جاتی ہے اس سے کسی غریب کی مدد کی جانی چاہیے۔

اس کے لیے وہ دلائل کا انبار لاتے ہیں‘ غریبوں کی حالت زار پر آنسو بہاتے ہیں‘ لیکن ان کی منافقت کا عالم یہ ہے کہ ان میں اکثر یورپ کے سفر پر روانہ ہوتے ہیں اور وہاں کی سیر و تفریح اور ان کے نظام کی تعریف پر کالم بھی لکھتے ہیں۔ کیا ان کے ہر سال کے اس عیاشانہ ’’ ٹوڑ‘‘ کے خرچے سے کئی گھرانے اپنی بھوک نہیں مٹا سکتے تھے‘ کتنوں کے جسموں پر ملبوس آ سکتے ہیں‘ کوئی قریب المرگ دوائی سے زندگی پا سکتا تھا۔ پوچھو تو کہتے ہیں وہ تو ہمارے مداحین اور ’’فین‘‘ ہمیں بلاتے ہیں۔ اگر تم اتنے ہی غریبوں کے خیرخواہ ہو تو اپنے مداحین سے کہو کہ جو رقم میری ’’عیاشی‘‘ پر خرچ کرتے ہو وہ کسی غریب کو دے دو۔ وہ یہ سب عیاشی ہر سال کرتے ہیں مگر ٹیلی ویژن ٹاک شو اور کالم میں حج کے بارے میں ان کی دوغلی منطقیں عروج پر ہوتی ہیں۔

دوسری منطق قربانی کے بارے میں دی جاتی ہے۔ ان میں کچھ جانوروں کے حقوق کے علمبردار بھی شامل ہو گئے ہیں۔ انھیں دنیا میں صرف ایک دن مسلمانوں کے ہاتھوں ذبح ہونے والے جانور نظر آتے ہیں۔ دنیا کی آبادی سات ارب ہے جن میں ڈیڑھ ارب کے قریب مسلمان ہیں۔ ان میں قربانی کرنے والوں کی تعداد دس فیصد سے زیادہ نہ ہو گی لیکن ان کو روزانہ لاکھوں ٹن گوشت نظر نہیں آتا جو آسٹریلیا‘ نیوزی لینڈ‘ برازیل‘ چین بلکہ دنیا کے ہر ملک میں روز جانوروں کو ذبح کرکے سپلائی کیا جاتا ہے۔ امریکا میں اس سال صرف آسٹریلیا سے تین لاکھ ستانوے ہزار آٹھ سو نواسی (3,97889) ٹن بیف درآمد ہوا ہے۔

یہ صرف ایک ملک سے دوسرے ملک تک بیف کی تجارت کا حال ہے‘ جب کہ انگلینڈ سے لے کر فرانس اور یورپ کے ہر ملک اور افریقہ سے لے کر لاطینی امریکا تک ہر جگہ روزانہ کروڑوں جانور ذبح ہوتے ہیں جن کی کل تعداد عیدالاضحی کے ایک روز میں قربان کیے جانے والے جانوروں سے کہیں زیادہ ہے۔ کیا کسی دانشور‘ تجزیہ نگار اور جانوروں کے حقوق کے علمبردار کو اس بات کا دکھ ہوا۔ چین میں بیش بہا کتوں کے فارم ہیں جہاں سے روزانہ لاکھوں کتے ذبح کیے جاتے ہیں اور ان کا گوشت سپلائی کیا جاتا۔ کوئی دانشور چیخا۔ ان سب کا علم و فضل اور دانشوری 365 دنوں میں سے صرف ایک عیدالاضحی پر نظر آتی ہے۔

کہتے ہیں جانور کو ذبح کرنا ایک جاندار کو تکلیف دینا ہے اور یہ ظلم عظیم ہے۔ کاش یہ لوگ تھوڑی سائنس سے آشنائی رکھ لیتے۔ اگر انسان گوشت نہیں کھائے گا تو پھل‘ سبزیاں اور اناج کھائے گا۔ کیا یہ زندہ اشیا نہیں ہیں۔ کیا یہ درد محسوس نہیں کرتیں۔کیا ان میں سوچنے سمجھنے اور ردعمل دکھانے کی اہلیت نہیں۔کل تک ہمارے یہ صاحبان علم انھیں بے حس اشیا سمجھتے ہوں گے۔ لیکن آج یہ مکمل طور پر زندہ‘ جاندار چیزیں ہیں جو درد بھی محسوس کرتی ہیں اور اپنے بچاؤ کے لیے ردعمل بھی دکھاتی ہیں۔
 
دو سائنس دانوں  نے جب تحقیق شروع کی تو حیران رہ گئے کہ بجلی کے جھٹکے لگانے سے پودا کیسے درد کا ردعمل دکھاتا ہے۔
مشی گن اسٹیٹ یونیورسٹی کی تازہ ترین تحقیق کے مطابق ہر پودے کا ایک اعصابی نظام ہوتا ہے اور یہ پودے نہ صرف درد کی شدت کو محسوس کرتے ہیں بلکہ یہ آپس میں ایک دوسرے سے اس کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ اسی تحقیق کی بنیاد پر سوئزر لینڈ میں پودوں کے حقوق کا بل پاس ہوا۔ برڈن سینڈن نے تحقیق کو آگے بڑھایا اور کہا کہ پودے بھی اسی طرح درد سے تڑپتے ہیں جس طرح جانور درد میں بلبلاتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ درد اس وقت اور شدید ہو جاتی ہے جب ان سے جسم کا کوئی حصہ جدا کیا جائے، جیسے درختوں سے کیلے‘ آم‘ کینو اور سیب توڑے جائیں اور درخت دیکھتا رہ جائے۔ فصلوں پر دارانتی چلا کر کاٹا جائے۔

یہ سبزیاں‘ پھل اور دیگر چیزیں کٹ کر بھی زندہ ہوتی ہیں۔ ہم انھیںچیرتے ہیں‘ کاٹتے ہیں‘ ابالتے ہیں‘ بھونتے ہیں اور پھر کھاتے ہیں۔ لیکن کسی دانشورکو ان کی چیخیں سنائی نہیں دیتیں۔ اس لیے ان کی زبان اور فریاد سے ہم آشنا نہیں ہیں‘ ہم سن نہیں پاتے۔ اس کے باوجود ہم منطقیں دیتے پھرتے ہیں کہ گوشت کھانا ظلم اور سبزی کھانا انسانیت ہے۔

یہ تو ایسے ہی ہے کہ ایک آدمی کے دو بیٹے ہوں ایک نارمل اور دوسرا گونگا بہرا۔ گونگا بہرا اپنا دکھ نہ بتا سکے اور ہم یہ سمجھتے رہیں کہ اسے تکلیف ہی نہیں ہوتی۔ لیکن میں کیا کروں میرے یہ دانشور اکثر تکے کباب‘ چانپ کڑاہی کی دکانوں پر بھی نظر آتے ہیں‘ کھا کھا کر پیٹ میں درد کروا لیتے ہیں‘ توندیں بڑھالیتے ہیں اور پھر سبزیوں اور سلاد پر آ جاتے ہیں۔دونوں صورتوں میں نہ انھیں جانوروں کی چیخیں سنائی دیتی ہیں اور نہ پودوں کے نوحے۔

اوریا مقبول جان

No comments:

Powered by Blogger.