Header Ads

Breaking News
recent

سانحہ منى کے ذمہ داران کون ؟


میں اس وقت منی میں موجود ہوں ، سعودی وقت کے مطابق رات کے دس بج کر بیس منٹ ہوچکے ہیں ،یہاں کی خیمہ بستیوں میں گو معمول کی سرگرمیاں ہیں  تاہم صبح کے دلدوز اور افسوس ناک حادثہ کے باعث حاجیوں کے چہروں سے مسکراہٹ غائب هے جب کہ دکهه ، پریشانی اور کسی حد تک خوف کے آثار نمایاں نظر آتے ہیں ، وه سکون ، وه اطمنان جو میں نے آج سے پہلے کئ بار منی میں دیکها تها وه کہیں نظر نہیں آرہا هے 

 ہلکی سی آہٹ ، تهوڑی سی ہلچل سے حجاج کان کهڑے کردیتے ہیں ، شاید یہ صبح کے سانحہ کا وقتی اثر ہو ، اس سانحے کے چند لمحے ہی بعد سوشل میڈیا میں جہاں بہت سارے لوگوں نے اس واقعہ پر دکهه ، افسوس ،دعا اور تعزیت کا اظہار کیا وہی کچهه عاقبت نا اندیش لوگ اس سانحے کو سعودی عرب کے ساتهه اپنی دیرینہ اور نظریاتی دشمنی نبهانے کے واسطے بطور ہتهیار استعمال کرنے لگے ، بہت کم ظرف اور نہایت جلد باز لوگ تهے یہ ، ورنہ تو ایسے سانحات کے موقعوں پر دشمن سے بهی اظہار ہمدردی کی جاتی هے ، خیر ، مجهہ سے کئ دوستوں نے رابطہ کیا ،خیریت پوچهی 

اس حادثے کا سبب پوچها ،کچهه کو میں مصروفیات کے باعث جواب نہیں دے سکا  انہوں نے رسائل اور پیغامات چهوڑے تهے ، اب مختصر اس حادثے کا پس منظر بیان کرتا ہوں ، سب سے پہلے تو بطور مومن و مسلمان قضاء وقدر پر ہمارا ایمان هے سو ہم ایسی کوئی بات نہیں کریں گے جس سے ہمارا رب ناراض ہو ، جہاں تک حجاج کے لیے انتظامات کا سوال هے ، مجهے پانچ سے زائد بار یہ توفیق نصیب ہوئی کہ میں مشاعر مقدسہ میں حجاج کرام کے شانہ بشانہ مناسک حج بجا لاؤں ، میں ہر سال یہاں کے انتظامات کو بغور دیکهتا ہوں 

 میرا عمیق مشاہده هے ، جگہ جگہ حجاج کرام کی راہنمائی کے لئے لگے سائن بورڈز ، اہم مقامات پر آویزاں بڑی بڑی راہنما سکرینیں ، چاک و چوبند سپیشل فورس اور پولیس کے دستے ، ہر چند میٹر پر دفاع مدنی کے دفاتر ، کشادہ داخلی اور خارجی ان گنت راستے ، ان راستوں سے نکلتے ایمرجنسی راستے ، فضا میں گشت کرتے ہیلی کاپٹرز ، الغرض ایسا منظم اور مربوط انتظام کہ مجهه سمیت یہاں حج پر آنے والا ہر حاجی یہاں کی حکومت کو اس حسن انتظام پر دعائیں دیے بنا نہیں ره سکتا هے ، آج کا افسوس ناک واقعہ حجاج کرام کے ایک گروپ نے انتظامی تعلیمات کو پس پشت ڈالنے کے باعث رونما ہوا
 ، یہ گروپ اچانک ہی ون وے پر مخالف سمت سے چڑ دوڑا جس کی وجہ سے بھگدڑ مچ گئ ، یہ گروپ کون تها ؟ کہاں کا تها ؟ اس پر ابهی تحقیقات ہورہی ہیں ،   اوپر سے گرمی بهی بہت تهی ، حبس کا عالم تها ،جس کے باعث اتنا نقصان ہوا ، انتظامیہ کی طرف سے پیشگی اطلاع بهی تهی کہ گرمی کے باعث بہتر یہی ہوگا کہ حجاج کنکریاں عصر کے بعد مارے ، مگر قدر اللہ و ما شاء فعل ، واقعہ کے فوراً بعد چار ہزار سے زائد امدادی کارکن اور فوجی اہلکار جائے حادثہ پر موجود تهے 

، دو سو سے زائد ایمبولینس موقع پر پہنچ گئ تهیں ،اگر انتظامیہ بروقت اور بهرپور کردار ادا نہ کرتی تو اس سے زیاده نقصان ہوسکتا تها ، لاکهوں لوگ وقت حادثہ جائے حادثہ کے آس پاس میں تهے ، ضرورت اس امر کی هے کہ ہر ملک حج سے پہلے اپنے حجاج کرام کی معقول تربیت اور تدریب کا انتظام کریں ،بخدا حاجیوں کی تربیت اور ٹریننگ بالکل بهی نہیں ہوتی هے ، اللہ تعالیٰ مرحومین کو شهداء کے درجے میں فائز کرے ، زخمیوں کو شفا یاب کرے اور باقی حجاج کرام کو اپنی حفظ و امان میں رکهے

(فردوس جمال )
سوق العرب - منی - سعودی عرب

No comments:

Powered by Blogger.