Header Ads

Breaking News
recent

طالب علموں کی خود کشی، معاشرتی اقدار پر سوالیہ نشان

یکم ستمبر کی صبح کا آغاز اِس اندوہناک خبر کے ساتھ ہوئی کہ کراچی کے اسکول میں دسویں جماعت کے طالبِ علم نے اپنی ہم جماعت طالبہ کو گولی مار کر خودکشی کرلی۔ یہ خبر صرف خبر نہیں بلکہ پاکستان کے اربابِ اختیار، علماء، اساتذہ کرام اور ثقافت کے نام پر کام کرنے والی این جی اوز کے لئے ایک بڑا چیلنچ ہے۔

چیلنج اِس لیے کہ پاکستانی معاشرہ تیزی سے روبہ زوال ہے۔ یہ واقعہ سوال پوچھنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا اساتذہ علم کی ترسیل کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں یا پھر علماء نے فقہاء پر کام کرنا چھوڑ دیا ہے؟ کیا اربابِ اختیار کا دھیان جنرل سیلز ٹیکس تک محدود ہوچکا ہے یا والدین بجلی کے نرخوں اور مہنگائی کی چکی میں پِس کر اپنے بچوں سے غافل ہوچکے ہیں، آخر مسئلہ ہے تو کہاں ہے؟
خودکشی کا مذکورہ واقعہ ہماری آئندہ نسل کی ذہنی کیفیت کا عکس لئے ہوئے ہے۔ اِس واقعہ کا منظر نامہ تو یہ ہے کہ دو محبت کرنے والوں نے پستول کے ذریعے خود کو گولی مار کر زندگی کا خاتمہ کرلیا، جبکہ اس واقعہ کا پسِ منظرمعاشرتی ناہمواری اور اجتماعی غفلت کو قرار دیا جاسکتا ہے۔
یہاں اس واقعہ میں قصور کس کا ہے اس کا تعین کرنا مشکل نہیں، اصل نکتہ اس واقعے میں انسانی حقوق کا غصب ہونا ہے۔ اسلام سے زیادہ انسانی حقوق کسی مذہب نے نہیں دئیے لیکن ان حقوق کے ساتھ اسلام نے کچھ فرائض بھی لازم کئے ہیں، ان حقوق و فرائض کی معرفت ہی تربیت کہلاتی ہے۔ سوال تو یہ ہے کہ اس تربیت کے فقدان میں کس کا کردار ہے؟ درسگاہوں میں استاد علم دینے کے بجائے مزدوری کررہا ہے اور  رٹے رٹائے اسباق، زبانی کلامی علم، عملی ترغیب کہیں نہیں۔ کیا اسکول کے نصاب میں عقائد سے متعلق اسباق نہیں؟ کیا بچوں کو یہ نہیں سکھایا جانا چاہیے تھا کہ زندگی سب سے عظیم نعمت ہے اور اس تحفہِ خداوندی کا شکر کس طرح ممکن ہے؟

اگر بات کی جائے فقہاء کی تو انہیں نئی نسل کے مسائل، معاشرتی ضروریات اور ان سے جڑے مسائل کا ادراک ہی نہیں۔ معذرت کے ساتھ، لیکن اگر علماء اور فقہا کی تفرقہ بازی اور سیاست سے توجہ ہٹے تو معاشرتی اقدار کی پامالی کا اندازہ ہوسکے۔ سب سے اہم ذمہ داری والدین کی ہے، اللہ نے اولاد کو آزمائش قرار دیا ہے اور اِسی لیے اِس کی تربیت ناگزیر ہے۔ حالاتِ زندگی کتنے ہی تلخ کیوں نہ ہوں، اگرچہ معاشی مسائل بھی ہوں لیکن انہیں ہر حال میں اپنی اولاد کی طرف توجہ رکھنی چاہئے، اور ان کی ضروریات، تقاضوں، سرگرمیوں کا خیال رکھنا چاہئے۔

ہمارے معاشرے میں فطرت انسانی پر اثر انداز ہونے والے پہلوؤں کا خیال نہیں رکھا جاتا، بچپن سے ہی مخلوط تعلیمی نظام میں بچوں کو تعلیم کے لئے داخل کرادیا جاتا ہے اور اس کے بعد پھر پیچھے مُڑکر ایک بار بھی نہیں دیکھا جاتا کہ ان تعلیمی اداروں میں کس انداز میں بچوں کی کردار سازی کی جاتی ہے۔ بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ لڑکا اور لڑکی جو کچی عمروں میں اتنا قریب رہتے ہوئے فطرت کے زیرِ اثر ایک دوسرے کی جانب متوجہ نہ ہوں؟ کیا بچپن ہی سے مخلوط تعلیمی نظام میں تعلیم دینی چاہیے یا پھر یہ عمل کالج اور جامعات میں آنے کے بعد ہی ہونا چاہئے، تاکہ طالبعلم شعور کی منزل پر پہنچتے ہوئے جذباتی فیصلوں کے بجائے عقل کا استعمال کرکے فطرت کا ادراک کرسکے۔

حکومت سے میں اس لئے مخاطب ہوں کیونکہ ثقافت کے ہر معاملے کو دیکھنے کے لئے حکومت میں با قاعدہ وزارتیں ہوتی ہیں جو ان معاملات کو دیکھتی ہیں۔ پھر ہمارے اُن اداکاروں کا ذکر کیوں نہ ہو جو سستی شہرت حاصل کرنے کے پاکستان مخالف بننے والی بھارتی فلم کی تو مخالفت کرتے ہیں مگر اُسی بھارت کی جانب سے رام لیلا، عاشقی، اور عشق ذادے جیسی فلموں سمیت وہاں کے کلچر کی پروموشن پر پابندی کی بات کبھی نہیں کرتے، شاید اُس کی وجہ یہ ہو کہ اگر وہ ایسا کریں گے تو عوام کی طرف سے گالیاں پڑیں گے۔ مگر جناب اگر نئی نسل کو بے راہ روی سے روکنے کے لیے گالی بھی کھانی پڑے تو کھا لیجیے کہ اِس طرح کم از کم کسی کی جانب ضائع ہونے سے بچائی جاسکتی ہے۔

اِس لیے اربابِ اختیار سے التماس ہے کہ تھوڑی توجہ اس طرف بھی کریں کہ ثقافتی یلغار کے نتیجے میں ہمارے گھروں میں چلنے والی فلموں کے ذریعے کیا پیغام پہنچ رہا ہے؟ کیا کہیں بھارتی فلموں سمیت ہمارے اپنے ملک میں بننے والے اشتہارات اور فحش قسم کے ڈراموں نے تو ان نوعمروں کو اس مقام پر لا کھڑا نہیں کردیا کہ اگر وہ زندگی میں نہ مل سکے تو کیا بعد از مرگ ملنے کی امید لیے وہ جلدی دوسرے جنم میں چلے گئے! اگر ہم نے آج نہیں سوچا تو خدشہ ہے کہ کل پھر کوئی ایسی ہی بریکنگ نیوز دیکھنا نصیب نہ ہوجائے۔

سید عون عباس

No comments:

Powered by Blogger.