Header Ads

Breaking News
recent

مودی سرکار کی جڑیں ہل رہی ہیں

گجرات کی ریاست میں معاشی ترقی ہندوستان میں ماڈل تصور کی جاتی تھی۔ یہی وہ تاثر تھا جس کی وجہ سے نریندر مودی کو ہندوستان کے طول و عرض میں ایک عظیم مصلح اور نجات دہندہ تسلیم کیا گیا۔نریندر مودی ایک دہائی تک گجرات کے وزیر اعلٰی رہے اور بظاہر ان کے دور میں گجرات میں کافی تیز معاشی ترقی ہوئی ۔ ہندوستان کے سابقہ انتخابات میں عوام نے نریندر مودی کو یہ سوچ کر ووٹ دیا تھاکہ وہ گجرات کی طرح پورے ہندوستان کی حالت بدل کر رکھ دیں گے ۔

لیکن پچھلے کچھ دنوں میں گجرات میں اتنے شدید مظاہرے ہوئے ہیں کہ ہندوستانی فوج کو ریاست کے کئی شہروں کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے کر کرفیو لگانا پڑا۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب نریندر مودی کا ماڈل ہی زمین بوس ہو رہا ہے تو کیا وہ باقی ملک میں اپنی مقبولیت قائم رکھ سکیں گے؟ سوال تو یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر نریندر مودی کی مقبولیت میں خاطر خواہ کمی واقع ہوتی ہے تو کیا وہ اپنی داخلی اور خارجہ پالیسیاں جاری رکھ سکیں گے؟

گجرات میں موجودہ شدید ہنگاموں کا تعلق ذات پات کے مسئلے کا عکاس ہے۔ ریاست کی سب سے زیادہ خوشحال اور سیاسی طور پر غالب پٹیل ذات کے لوگ مطالبہ کر رہے ہیں کہ پچھڑی ہوئی ذاتوں کی طرح ان کا بھی کوٹہ مقرر کیا جائے۔ ریاستی حکام اس طرح کا کوٹہ مقرر کرنے سے اس لئے قاصر ہیں کہ ہندوستان کی سپریم کورٹ نے مختلف پچھڑی ہوئی ذاتوں کی نشاندہی کر کے ان کا کوٹہ مقرر کردیاہے۔ ریاستی حکام سپریم کورٹ کے فیصلے کی وجہ سے کوٹے میں رد و بدل نہیں کر سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ ریاستی حکام کو متشدد مظاہروں کے خلاف فوج اور پولیس کی طاقت کا استعمال کرنا پڑا۔

یہ مطالبہ اس پہلو سے عجیب و غریب ہے کہ اس وقت گجرات کی وزیر اعلٰی بھی پٹیل ذات کی ہیں اور ان کی صوبائی کابینہ میں اس ذات کی نمائندگی اس کی ریاست میں آبادی کے تناسب سے بہت زیادہ ہے۔ یعنی ریاست کی سب سے اعلٰی اور کامیاب ذات کے لوگ بھی معاشی ترقی سے فیضیاب نہیں ہوئے۔ اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر خوشحال تر ذات کے لوگ معاشی طور پر اتنے نالاں ہیں کہ وہ سڑکوں پر آکر شدید ہنگامے کر رہے ہیں تو پھر نچلی ذاتوں کے لوگوں کا کیا حال ہوگا۔ اس سے یہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ گجرات میں معاشی ترقی کا ماڈل نہایت غیر مناسب ہے۔ اس ماڈل کے تحت ایک چھوٹے سے امیر طبقے کی دولت میں تو کئی گنا اضافہ ہوا ہے لیکن یہ عوام کی معاشی حالت کو سنوارنے میں ناکام ہے۔ ہندوستان میں یہ کہانی کئی مرتبہ دہرائی جا چکی ہے۔ ستر کی دہائی میں مشرقی پنجاب ترقی کا ماڈل تھا تو اسی اور نوے کی دہائی میں کیرالہ۔ ان سارے ماڈلوں کا انجام ایک ہی تھا یعنی عوام کی حالت نہیں بدلی۔

وزیر اعظم نریندر مودی کے لئے گجرات میں اونچی ذات کے پٹیلوں کے متشدد مظاہرے تشویش کا باعث ہونا چاہئیں کیونکہ وہ ہندوتوا کے نعرے کے تحت ہندو ووٹ لے کر ہی منتخب ہوئے تھے۔ ان کی بھارتیہ جنتا پارٹی ہندو قوم پرستی کی عکاس تھی۔ بھارتی جنتا پارٹی راشٹریہ سیوک سنگھ (آر۔ ایس ۔ایس) کا سیاسی پلیٹ فارم سمجھی جاتی ہے اور آر ایس ایس اعلانیہ طور پر ہندوستان میں دوسرے مذاہب کے لوگوں کو ہندوستانی تسلیم نہیں کرتی۔ اس کا ایک ہی نعرہ ہے کہ ہندوستان ہندئووں کے لئے ہے اور اگر دوسرے مذاہب کے لوگوں کو ہندوستان میں رہنا ہے تو وہ ہندومت کے بنیادی اصولوں کی پیروی شروع کریں وگرنہ وہ تیسرے درجے کے شہری بن کر رہیں۔
ہندوستان میں سیکولرازم کو ایک مضبوط اصول کے طور پر تسلیم کیا جاتا رہا ہے۔ چنانچہ ملک بھر میں انتخابی جیت کے لئے اقلیتی مذاہب (اسلام، عیسائیت وغیرہ) کے ووٹوں کی بہت زیادہ اہمیت رہی ہے۔ نریندر مودی کے انتخاب سے قبل یہ تصور بھی نہیں کیا جاتا تھا کہ کوئی پارٹی صرف ہندو ووٹ لے کر اکثریتی پارٹی بن سکتی ہے۔ نریندر مودی کی زیر قیادت بھارتیہ جنتا پارٹی تاریخ میں پہلی مرتبہ صرف ہندو ووٹ لے کر اکثریتی پارٹی کے طور پر ابھری۔ انتخابی فتح کے بعد بھی بھارتیہ جنتا پارٹی ہندوتوا کے انتہا پسند رجحانات کی عکاس رہی ہے۔ پاکستان کے ساتھ غیر مصالحتی رویہ بھی اسی ہندوتوا فکر کی عکاسی تھی۔ لیکن اب لگتا ہے کہ نریندر مودی کے متحد ہندو ووٹ بٹ رہے ہیں اور ہندئووں کے اندر کی ذاتیں ایک دوسرے سے دست و گریباں ہوتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔ اس سے اقلیتی مذاہب کےلئے نظام میں اپنی جگہ بنانے میں آسانی پیدا ہو گی۔ اگر مستقبل میں بھارتی جنتا پارٹی کو مختلف ریاستوں کے انتخابات میں شکست سے دوچار ہونا پڑا تو ملک میں ہندوتوا کے حامیوں کا اثر و رسوخ کم ہوتا چلا جائے گا اور وہ اپنے انتہا پسندانہ تصورات کو عوام پر ٹھونسنے سے اجتناب کریں گے۔

گجرات کے ہنگامے پورے ہندوستان میں موجودہ معاشی اور سیاسی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کی شروعات نظر آرہے ہیں۔ نریندر مودی نے اپنے آپ کو ایسے قوم پرست ہندو کے طور پر پیش کیا تھا جو ملک میں معاشی ترقی کا تسلیم شدہ منیجر اور رہنما ہے۔ ان کے دور میں گجرات کی ظاہری ترقی نے ان کے ہندتوا کو ایک لبادے میں ملفوف کیا ہوا تھا۔ عام ہندو ووٹر کے ذہن میں یہی تھا کہ شاید گجرات کے معاشی اور نظریاتی ماڈل کے اپنائے جانے میں ان کی نجات ہے۔ لیکن اب اس کی نفی ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ اس سے یہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ مودی سرکار کی داخلی اور خارجہ پالیسی میں بنیادی تبدیلی رونما ہوگی۔ حکومتی حلقوں میں انتہا پسندانہ عناصر کا اثر و رسوخ کم ہوگا اور معتدل دھڑوں کی اہمیت میں مثبت تبدیلی آئے گی۔
 
ڈاکٹر منظور اعجاز

بہ شکریہ روزنامہ جنگ 

No comments:

Powered by Blogger.