Header Ads

Breaking News
recent

میجرجنرل باجوہ کا بس ایک ٹویٹ

پی ٹی آئی نے لاہور کے انتخابی دنگل میں جنرل راحیل شریف کی تصویر والا سیاسی پوسٹر شہر کے چوکوں میں آویزاں کر دیا لیکن اس پر فوج کی طرف سےابھی تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا جوحیران کن بات ہے۔ میڈیا میں اس انتہائی متنازع پوسٹر کو دیکھایا گیا جس کا مقصد متعلقہ حکام کی اس جانب توجہ دلانا تھا۔سوشل میڈیا میں تو اس موضوع پر خوب بحث ہورہی ہے اور ہر قسم کے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔عوامی نیشنل پارٹی کی بشریٰ گوہر صاحبہ نے تو اپنے ایک ٹویٹ میں یہ تک کہہ دیا  (کیا آرمی چیف نے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کر لی؟) کچھ سینئیر صحافیوں نے اس متنازع عمل پریہ سوال اٹھایا کہ کیا آرمی چیف جنرل راحیل اس سیاسی پوسٹر کے معاملے پر ایکشن لیں گے؟

ہوسکتا ہے کہ پی ٹی آئی کے کسی لیڈر یا سپورٹر نے آرمی چیف کی مقبولیت کو پارٹی کے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی خاطر یہ کارنامہ سر انجام دیا ہو جس میں فوج یا جنرل راحیل کو دور دور کا بھی واسطہ نہ ہو۔ لیکن یہ وہ عمل ہے جو فوج اور آرمی چیف کو متنازع بناتا ہے جس وجہ سے اسے ignore کرنا کوئی دانشمندی نہیں ہوگی۔

 کوئی جس نیت سے بھی یہ عمل کر رہا ہے درحقیقت یہ فوج اور آرمی چیف سے دشمنی کرنےکے مترادف ہے۔کوئی سیاسی جماعت، کوئی سیاسی رہمنا یا پارٹی ورکر کیسے آرمی چیف کی تصویر کو انتخابی سیاست کے لیے استعمال کر سکتا ہے؟ ہاں یہ کام جنرل مشرف کی فوجی حکومت میں خوب زوروں پر رہا۔ اُس دور میں تومشرف فوجی وردی پہن کر ق لیگ کے جلسوں سے خطاب کیا کرتے تھے۔

جنرل مشرف ایک ڈکٹیٹر تھے جنہوں نے ق لیگ کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے بنایا اور خوب استعمال بھی کیا لیکن اس سب نے فوج کے ادارے کو بہت متنازع بنا دیا۔ مشرف کی برعکس جنرل راحیل کوئی ڈکٹیٹر نہیں۔ مشرف کی سیاست نے فوج کو بدنامی دی جبکہ جنرل راحیل نے اپنے کام سے فوج کی عزت اور احترام میں بے پناہ اضافہ کیا۔ کچھ عرصہ سے میڈیا میں کچھ خوشامدی جنرل راحیل کو سیاست میں ملوث کرنے کے فتنہ پر کام کر رہے ہیں۔انہیں کسی نے نہ روکا نہ ٹوکا جس کے نتیجے میں آج حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ اب انتخابی سیاست میں پی ٹی آئی نے جنرل راحیل کی تصویر اور ان کی مقبولیت کا سہارا لینا شروع کر دیا۔

 سونے پر سہاگہ یہ کہ اب تو تحریک انصاف کے اتھرے کپتان نے بھی چوہدری شجاعت اور پرویز الٰہی کی طرز سیاست شروع کر دی۔ جنرل مشرف کے دور میں ایک فوجی ڈکٹیٹر کا ساتھ دینے پر معافی مانگنے والے عمران خان جنہوں نے گزشتہ سال ایمپائر کے اشارہ پر اسلام آباد میں تماشہ لگائے رکھا اور پورے سسٹم کے لیے خطرہ بن گئے کی بے چینی کی یہ حالت ہے کہ اب انہوں نے رینجرز کو دعوت دے ڈالی کہ وہ سندھ کی طرح پنجاب میں بھی کرپشن کے خلاف کارروائی کریں۔

اس بیان کے دوران کپتان صاحب نے جنرل راحیل شریف کی مقبولیت کا بھی تذکرہ کیا۔ویسے تو فوج اور آرمی چیف کی مقبولیت کا سیاستدانوں سے تقابلہ کرنا ہی غلط ہے لیکن محسوس ایسا ہوتا ہے کہ خان صاحب اُس مہم سے مرعوب ہو گئے جو اس سلسلے میں میڈیا میں سول حکومت اورسیاستدانوںکو نیچا دیکھانے کےلیےچلائی جارہی ہے۔ویسے آرمی چیف کی مقبولیت تو کپتان سے بھی زیادہ ہے تو کیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ دونوں کا آپس میں تقابلہ کیا جائے۔
 کپتان نے اگر کرپشن کے خلاف کچھ کرنا ہی ہے تو اس کےلیے ایک آزاد اور خودمختار احتسابی کمیشن بنانے کی بات کریں جو ہر کرپٹ چاہے اُس کا کسی بھی ادارے یا محکمے سے تعلق ہو کو پکڑے اور سزا دے۔ رینجرز کا وہ کام نہیں جو کپتان صاحب فوج کو خوش کرنے کےلیے اُسے سونپنا چاہ رہے ہیں۔ یہ کام تو کپتان صاحب سمیت سیاستدانوں اور پارلیمنٹ کا ہے جس کا پی ٹی آئی بھی حصہ ہے کہ احتساب کےلیے ایک بہترین نظام وضع کریں۔

لیکن خان صاحب شاید ابھی بھی شارٹ کٹ کی تلاش میں ہیں۔ لیکن کوئی کپتان سے پوچھے کہ اگر فوج نے اُن کی یا میڈیا میں شامل خوشامد برگیڈ کے کہنے پر عمل کرتے ہوے کوئی غیر آئینی اقدام اٹھا بھی لیا تو کیا وہ ایسا خان صاحب کو اقتدار تھالی میں پیش کرنے کےلیے کرے گی؟؟ خان صاحب سے گزارش ہے کہ وہ اپنے آپ کو اصغر خان اور تحریک انصاف کو ق لیگ بننے سے بچائیں۔ فوج کو وہ کام کرنے دیں جو اُس کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے اور جسے وہ اس وقت خوش اسلوبی سے کر رہی ہے۔ فوج کو سیاست میں گھسیٹنے سے فوج کی ہی بدنامی ہوتی ہے اور جس کا پاکستان کو بار بار تجربہ ہوچکا۔ جنرل راحیل اور فوج کو غیر آئینی رستہ دکھانے والوں کی مہم جوئی نے آج یہ حالات پیدا کر دیے کہ سینیٹ کو اس معاملے پر بات کرنا پڑی اور ان خدشات کا اظہارکیا گیا کہ کہیں ملک میں ایک اور مارشل لا تو نہیں لگنے والا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ نظام کا بہترین دفاع بہترین کارکردگی کے علاوہ کچھ نہیں جس کی ذمہ داری سول حکومت اور سیاستدانوں پر مشتمل پارلیمنٹ پر آتی ہے۔ لیکن اگر حکومت کی کارکردگی اچھی نہیں تو فوج اس کا علاج نہ پہلے تھی اور نہ اب ہے۔ ان حالات میں اگر ایک طرف حکومت اور سیاستدانوں کو اپنی اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوے عوام اور ملک کے مسائل حل کرنے کی ضرورت ہے تو دوسرے طرف فوج کی ساکھ کے لیے ضروری ہے کہ وہ جنرل راحیل کو سیاست میں گھسیٹنےوالےمفاد پرستوں اورخوشامدیوںکی حوصلہ شکنی کرے۔ اس سلسلے میں آئی ایس پی آر کے ڈی جی میجر جرنل عاصم باجوہ جو ٹویٹ کرنے کے معاملے میں بڑے فراخ دل ہیں کا ایک ٹویٹ ہی کافی ہوگا کہ فوج اور جنرل راحیل کوسیاست میں نہ گھسیٹا جائے۔

انصار عباسی

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

No comments:

Powered by Blogger.