Header Ads

Breaking News
recent

افغانستان میں پاکستان دشمنی کے بڑھتے ہوئے جذبات

افغانستان میں طالبان کے حالیہ حملوں کے بعد صدر اشرف غنی کی طرف سے پاکستان پر کی گئی شدید تنقید سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس مخلوط حکومت کے حامیوں اورحریفوں نے پاکستان پر چڑھائی کرنا اپنا من پسند مشغلہ بنالیا ہے۔ افغان حکومت کے افسروں، سیاست دانوں اور سول سوسائٹی اور میڈیا کے حلقوں نے افغانستان میں سیکورٹی کے بڑھتے ہوئے مسائل اور اس جنگ زدہ ملک کو درپیش بہت سی مشکلات پر اسلام آباد کو مورد ِالزام ٹھہرانے کی پالیسی اپنا رکھی ہے۔ 

افغان علما کے ایک حلقے نے کابل میں فتویٰ جاری کرتے ہوئے پاکستان کے اندر جہادی کارروائیاں کرنا جائزقرار دیا ہے۔ صدر غنی کی پاکستان پر شدید تنقید نے ان دونوں ریاستوں کے درمیان اُس غیر اعلانیہ معاہدے کوسبوتاژکردیا ، جس کے مطابق وہ ایک دوسرے کو عوامی سطح پر تنقید کا نشانہ نہیں بنائیں گی اور نہ ہی میڈیا کے ذریعے ایک دوسرے کو آڑے ہاتھوں لیں گی۔ درحقیقت ایک دوسرے کے خلاف شکایات کا میڈیا پر برملا اظہار کرنے سے گریز کی پالیسی نے پاک افغان تعلقات کے درمیان نہ صرف تلخی کم کرنے میں مدد دی بلکہ اس سے ان دونوں ریاستوں کے درمیان دوستانہ روابط بھی پروان چڑھتے دکھائی دیئے۔
افغان صدر کے مزاج کے بارے میں بہت سی باتیں کی جاتی ہیں، لیکن زیادہ تر لوگ سوچتے تھے کہ اُن پر ایسے رویے کا الزام درست نہیں کیونکہ وہ پاکستان کے علاوہ افغانستان میں اپنے حریفوں کو برداشت کرنے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ تاہم ایسا لگا جیسے دس اگست کو اُن کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور کابل میں کی جانے والی ایک پریس کانفرنس میں اُنھوں نے کھلے الفاظ میں پاکستان کی بھرپور مذمت کی۔گزشتہ دس ماہ، جب سے وہ صدر کے منصب پر فائزہوئے تھے، یہ پہلا موقع تھا جب اُن کے لہجے میں پاکستان کے لئے تلخی دکھائی دی۔ یہ بات مزید حیران کن اس لئے بھی تھی کہ افغان صدر نے اس سے پہلے ، گزشتہ شام، پاکستانی وزیر ِاعظم نواز شریف اور آرمی چیف، جنرل راحیل شریف سے فون پر بات کرتے ہوئے اُن تک اپنے جذبات پہنچائے اور اُن وعدوں کی یاددہانی کرائی جو وہ (پاکستانی سول اور ملٹری قیادت) افغانستان میں قیام ِعمل کو پروان چڑھانے کے لئے کرتے رہے ہیں۔

درحقیقت ٹیلی فونک گفتگو میں اس بات پر اتفاق کیا گیا تھا کہ بہت جلد ایک اعلیٰ سطحی افغان وفد اسلام آباد کا دورہ کرے گا اور تمام متعلقہ معاملات زیر ِ بحث لائے جائیں گے۔ اس کے باوجود صدر غنی نے پریس کانفرنس کے دوران پاکستان پر الزامات عائد کرنے کی ضرورت محسوس کی۔ ایسا لگتا ہے کہ اُن پر داخلی طور پر دبائو تھا کہ وہ پاکستان کو آڑے ہاتھوں لیں تاکہ وہ اپنے افغان حریفوں کی طرف سے پھیلائے گئے اس تاثر کی نفی کرسکیں کہ وہ (اشرف غنی) افغانستان میں قیام ِامن کے لئے اسلام آباد پرضرورت سے زیادہ انحصار کررہے ہیں۔ صدر غنی پاکستان سے اس قدر ناراض دکھائی دیئے کہ اُنھوں نے برملا سوال اٹھادیا کہ اسلام آباد کے ساتھ تعلقات جاری رکھنے کی کیا ضرورت ہے اگر پاکستانی سرزمین سے ہونے والے حملوں میں افغانوں کا خون بہنا ہے۔

اُنھوں نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ اس ’’غیر اعلانیہ جنگ ‘‘ کو فوری طور پر بند کرتے ہوئے اس وعدے کی پاسداری کرے کہ ’’افغانستان کے دشمن اس کے دشمن تصور ہوں گے۔‘‘ اُنھوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسلام آباد ایسی سرگرمیاں روکنے میں ناکام رہا تو وہ پاکستان سے تعلقات منقطع کرکے ’’دیگر آپشنز ‘‘ پر غور کرسکتے ہیں۔
یہ بات واضح تھی کہ طالبان کے نئے منتخب ہونے والے امیر، ملاّ اختر محمد منصور کی طرف سے افغان حکومت کے ساتھ پرامن مذاکرات کو مسترد کرتے ہوئے شریعت کے نفاذ کے لئے فتح تک جدوجہد جاری رکھنے کے بیان پرصدر غنی سخت برافروختہ تھے۔ افغان صدر نے اشارہ کرتے ہوئے کہا یہ بیان منصور کے پاکستانی ٹھکانے کی طرف سے آیا ہے۔ وہ چاہتے تھے کہ اسلام آباد طالبان کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لئے قائل کرے، اور اگر وہ اس کے لئے تیار نہ ہوں تو اپنی سرزمین سے اُن کے محفوظ ٹھکانے ختم کردے ۔ نیز پاکستان طالبان کمانڈروں کو میٹنگ اور زخمی طالبان جنگجوں کو علاج معالجے کی سہولت فراہم کرنے سے انکار کردے۔ جذباتی پریس کانفرنس کے اگلے روز ، صدر اشرف غنی نے کئی ایک ممالک کے سفارت کاروں سے ملاقات کرکے پاکستان کی ز یادتیوں اور افغانستان کی مظلومیت کی داستان سنائی۔

اس سے شہہ پاتے ہوئے افغان حکومت کے دیگر عہدیداروں نے بھی تنقید کی توپوں کے دہانے پاکستان کی طرف وا کردیئے۔ کہا گیا کہ پاکستان ہی افغانستان کی پسماندگی اور تباہی کا ذمہ دار ہے۔

چیف ایگزیکٹو عبداﷲ عبداﷲ،جن کی پاکستان دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، نے بھی اس آواز میں آواز ملانا ضروری سمجھا۔جب صدر غنی، جو اُس وقت تک پاکستان کی طرف جھکائو رکھتے محسوس ہوتے تھے، پاکستان پر چڑھ دوڑے تھے تو ڈاکٹر عبداﷲ کیسے پیچھے رہ سکتے تھے؟ اُنھوں نے پاکستان پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا افغانستان میں عدم استحکام اور سیکورٹی کے مسائل کی اصل ذمہ داری پاکستان پر عائد ہوتی ہے۔

 سابق افغان صدر ، حامد کرزئی ، جن کے دور میں افغانستان کا جھکائو ہندوستان کی طرف زیادہ ہوگیا تھا، نے اشرف غنی سے بھی ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے کہا دنیا اسلام آباد کی مدد سے ہاتھ کھینچ لے کیونکہ وہ دہشت گردی کی پشت پناہی کررہا ہے۔ اُنھوں نے اپنا پرانا بیانیہ دہرایا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ وہاں لڑی جانی چاہئے جہاں دہشت گردوں کے اصل ٹھکانے ہیں اور جہاں سے وہ افغان سرزمین پر حملہ آور ہوتے ہیں۔

صدر غنی کے نمائندہ خصوصی برائے اصلاحات اور گڈ گورننس، احمد ضیا مسعود نے پاکستان پر الزام عائد کیا کہ وہ افغانستان میں ترقی کا راستہ روکنے کی کوشش میں ہے۔ احمدضا مسعود، جو سابق افغان کمانڈر احمد شاہ مسعود مرحوم کا بھائی ہے، نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی افغانستان اپنی معیشت اور سیکورٹی کو بہتر بناتے ہوئے آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے ، پاکستان اُس کے لئے مسائل کھڑے کردیتا ہے، چنانچہ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کو سخت جواب دیا جائے۔ سابق ازبک جنگجو سردار،جنرل عبدالرشید دوستم، جو اب افغانستان کے پہلے نائب صدر ہیں، کا کہنا تھا کہ ایک طرف تو آئی ایس آئی افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی سہولت فراہم کررہی ہے تو دوسری طرف یہ داعش کو شہہ دے کر افغانستان میں حالات خراب کرارہی ہے۔ اُنھوں نے غصیلے جذبات بھری تقریر کرتے ہوئے افغان حب الوطنی کو پاکستان کے خلاف بھڑکانے کی کوشش کی۔

پاکستان پر تنقید کرنا افغانستان میں ایک معمول کی بات ہے اور بہت سے افغانوں کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے افغانستان کا 96 واں یوم ِ آزادی انیس اگست کو منایا ۔ اس کا مقصد پاکستان کو زک پہنچانا تھا۔ کابل میں مقیم افغان علما کے وفد نے ملاّ عبدالبصیر کی قیادت میں شاہ شہید کے علاقے کا دورہ کیاجہاں حالیہ بم دھماکوں میں پندرہ افراد ہلاک اور چارسو سے زائدزخمی ہوگئے تھے۔ اُنھوں نے پاکستان کے خلاف جہاد کرنے کا فتویٰ جاری کیا۔اس فتوے نے طالبان سے اپنی راہیں جدا کرنے والے ایک گروہ ،جماعت الاحرار ، کو خوش کردیا کیونکہ یہ گروہ کئی برسوں سے پاکستان کے اندر دہشت گردی کی کارروائیاں کررہا ہے۔ وہ ان کارروائیوں کو جہاد کا نام دیتا ہے۔ اس کے جواب میں مولانا طاہر اشرفی کی قیادت میں پاکستانی علما کے وفد نے افغان علما کے فتوے کو باطل قراردیتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے تعلقات خراب کرنے اور افغان قیام ِ امن کے عمل کو متاثر کرنے کی کوشش قرار دیا۔

اس دھماکہ خیز صورت ِحال میں سرحد پر ہونے والی جھڑپ میں دونوں طرف کا جانی نقصان ہوا۔ افغان حکام نے دعویٰ کیا کہ صوبہ کنڑ میں ان کے کئی ایک سپاہی اور عام شہری ہلاک ہوئے ۔ ان جھڑپوں میں ایک پاکستانی فوجی بھی شہید ہوا۔ اگرچہ پاکستان میں لوگ افغانستان میں پاکستان مخالف جذبات سے بڑی حد تک ناواقف ہیں، لیکن اہم بات یہ ہے کہ حکومت سب کچھ جانتے ہوئے بھی اشتعال میں نہیں آتی۔ یہاں افغان مخالف جذبات بھڑکانے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ تاہم دورے پر ائے ہوئے افغان وفد، جس میں وزیر ِ خارجہ صلاح الدین رباّنی، ڈیفنس منسٹر معصوم ستنک زئی اور افغان انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ، رحمت اﷲ نبیل شامل تھے، کو آرمی چیف سے ملاقات کی اجازت نہ ملی۔ یہ پاکستان کی طرف سے خاموش غصے کا اظہا ر تھا۔

طالبان اور افغان حکومت کے درمیان ہونے والے مذاکرات ملاّعمر کی وفات کی خبر کے بعد سے معطل ہیں۔ اس دوران ملاّ عمر کے جانشین کے چنائو کے مسئلے پر طالبان کی صفوں سے اختلافات کی خبریں بھی سنائی دے رہی ہیں، چنانچہ مذاکرات کی بحالی کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔ تاہم افغان صدر، اشرف غنی کا یہ کہنا کہ وہ طالبان سے بات کرنے کے لئے اب اسلام آباد کی مدد قبول نہیں کریں گے،ان کےلئے فائدہ مند ثابت نہ ہوگا۔ ایسے بیانات سے پاکستان بھی افغانستان میں قیام ِ امن کے لئے اپنا کردار ادا کرنے سے قدم پیچھے ہٹالے گا۔ اس سے اُن طالبان کے ہاتھ مضبوط ہوں گے جو پہلے ہی افغان حکومت سے مذاکرات کے شدید مخالف تھے۔
 
رحیم اللہ یوسف زئی

بشکریہ روزنامہ جنگ 

No comments:

Powered by Blogger.