Header Ads

Breaking News
recent

ایک اور جنگ کی ضرورت

سوچتا ہوں کہ دنیا ہمیں دیکھ کر ،کیا سوچتی ہوگی۔ ہم دنیا کو بے وقوف بناتے بناتے ،خود بے وقوف بن گئے ہیں ۔ دنیا ہماری بے وقوفیوں کو دیکھ کر ہنس رہی ہے اور ہم ہیں کہ اب بھی اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ عقل مند ہیں تو بس ہم ہیں اور باقی ساری دنیا بے وقوف بنی ہوئی ہے ۔ میرے پردادا کی پالیسی اس ریاست کی قومی پالیسی ہے، جو دشمن کی مرغی مارنے کے لئے اپنے گھر کی دیوار کو اس کے اوپر گرانے کے فلسفے کے قائل تھے ۔ پڑوسیوں کے گھروں میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کی کوشش میں ہم نے اپنے گھر کوجہنم بنا دیا اورپھر بھی ہمیں حماقت کا احساس ہے اور نہ ندامت کا۔ اب اس آگ نے ہمارے گھر کو بھی لپیٹ میں لے لیا ہے اور ہم کسی حد تک اپنے گھر کی طرف متوجہ ہوئے تو ایک اور بے وقوفی کا راستہ اپنا لیا۔

ہم پتے یا ایک آدھ شاخ کاٹ کر سمجھ رہے ہیں کہ درخت اور اس کے زہریلے پھل سے ہمیشہ کے لئے نجات مل جائے گی ۔ دہشت گردی ایک تناور درخت بن چکی ہے ۔ ہم اس کی جڑوں کو اب بھی پانی دے رہے ہیں ۔ اس کے پھلنے پھولنے کے لئے قومی سطح پر شب و روز کوشش کررہے ہیں لیکن فوجی کارروائیوں اور پکڑ دھکڑ کے ذریعے اس کی بعض شاخیں یا پھر پتے کاٹ کر ہم سمجھ رہے ہیں کہ ہم درخت کی بیخ کنی کرنے جا رہے ہیں ۔ ساتھ ساتھ ہم مزید بیج بھی بورہے ہیں اور اس کی آبیاری کا خاطر خواہ انتظام بھی موجو د ہے لیکن ہم اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ کچھ عرصے بعد اس درخت کا نام و نشان ہوگا اور نہ اس کے زہرآلود ’’پھل‘‘ کہیں دیکھنے کو ملیں گے ۔ معاف کیجئے لیکن یہی ہے ہماری دہشت گردی کے خلاف جنگ۔

تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ دہشت گردی ، بنیادی طور پر انتہا پسندی کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے ۔ کسی معاشرے میں انتہاپسندی نہ ہو تو دہشت گردی ، ہو نہیں سکتی اور جہاں انتہاپسندی موجود ہو ، وہاں سے دہشت گردی کا خاتمہ ناممکن ہوا کرتا ہے ۔ ہر انسان پہلے مرحلے میں انتہا پسند اور دوسرے مرحلے میں دہشت گرد بنتا ہے اور انتہاپسند اپنی دہشت گردی کے لئے کوئی نہ کوئی راستہ بناکے رہتا ہے ۔ ہمارے ملک میں انتہا پسندی آج بھی زوروں پر ہے بلکہ اس میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے ۔ اس کی روک تھام کے لئے ہماری ریاست نے تادم تحریر کوئی قدم اٹھایا ہے اور نہ اٹھاتی ہوئی نظر آ رہی ہے ۔ اسی طرح ہمارے ہاں انتہا پسندی کئی قسم کی ہیں ۔ پہلی مذہبی انتہاپسندی ہے۔ دوسری قسم ہے فرقہ وارانہ انتہاپسندی ، تیسری ہے سیاسی انتہا پسندی اور چوتھی ہے لسانی اور علاقائی انتہا پسندی۔
تحریک طالبان جیسی تنظیمیں مذہبی انتہاپسندی ، لشکر جھنگوی اور سپاہ محمدﷺ، فرقہ وارانہ انتہاپسندی ، سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگ اور مخالفین پر غداری کے فتوے سیاسی انتہاپسندی جبکہ بلوچ عسکریت پسند، لسانی انتہاپسندی کے نتیجے میں جنم لینے والی تنظیموں کے چند نمونے ہیں ۔ آپ ہر دہشت گرد فرد یا گروہ کا مطالعہ کریں تو اس کے پیچھے ایک عامل ، کہیں بیک وقت دو عامل اور کہیں بیک وقت تین یا چار عامل ایک ساتھ کارفرما نظر آئیں گے۔ 

پھر ہر طرح کی انتہاپسندی کے الگ الگ محرکات ہیں ۔ کہیں ہمارا کرپٹ سیاسی نظام محرک بنتا ہے، کہیں ظالمانہ معاشی نظام ، کہیں غیرمنصفانہ عدالتی نظام تو کہیں ہماری ریاست کی کوئی اور کمزوری ۔ کہیں ہمارا طبقاتی اور ناقص نظام تعلیم وجہ بنتی ہے، تو کہیں ہمارے مدرسے کا نظام۔ اہم ترین عامل تضادات پر مبنی نیشنل سیکورٹی اور خارجہ پالیسی یا پھر خطے میں جاری پراکسی وار ہے ۔ گڈ گورننس کی عدم موجودگی، ریاستی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان کوآردنیشن کا فقدان یا سرحدوں پر موثر نگرانی کا نہ ہونا ، دہشت گردوں کا کام مزید آسان جبکہ ریاست کا مزید مشکل بنا دیتی ہے۔

اب تماشہ یہ ہے کہ انتہاپسندی کے ان محرکات کے خاتمے کے لئے کوئی سنجیدہ کوشش ہوتی نظر نہیں آرہی ۔ اس جانب کوئی قدم اٹھتا ہوا نہیں دیکھا گیا ۔ اور تو اور کوئی سوچ بچار بھی ہوتی نظر نہیں آرہی ۔ انتہاپسندی کی کسی بھی شکل کو ختم کرنے کے لئے ، کوئی پالیسی بنی ہے اور نہ کوئی عملی کام ہوتا ہوادیکھنے کو ملا ۔ خارجہ پالیسی جیسی تھی ، ویسی ہے بلکہ موجودہ حکومت اور ٹیم کے ہاتھوں تو حال اور بھی ابتر ہوگیا ہے ۔اس کے تضادات ، جیسے تھے، ویسے موجودہیں۔ ایران اور بعض عرب ممالک کی پاکستان کے اندر پراکسی وار نہ صرف حسب سابق جاری ہے بلکہ اس میں مزید شدت آرہی ہے ۔ 

خطے میں جاری انٹیلی جنس ایجنسیوں کا گندہ کھیل زوروں پرہے بلکہ اس کے کھلاڑی بھی بڑھ گئے ہیں اور کھیل بھی مزید گمبھیر ہوتا جارہا ہے ۔ حکومتی ترجیحات جیسی غلط تھیں، ویسی غلط ہیں ۔ نظام تعلیم جیسا تھا، اس سے مزید ابترہوتا جارہا ہے ۔ سیاسی نظام جیسا تھا، اس سے زیادہ بے وقعت ہوگیا ہے ۔ معاشی نظام جیسا ظالمانہ تھا، ویسا ہے بلکہ وہ انفرادی اور طبقاتی محرومیوں میں مزید اضافہ کررہا ہے ۔ ایک طرف غریب کے غصے میں اضافہ ہو رہا ہے اور دوسری طرف محروم علاقوں اور قومیتوں کی محرومیاں مزید بڑھ رہی ہے۔

سول ملٹری کشمکش اسی طرح جاری ہے اور وہ تنائو سے تصادم کی طرف بڑھ رہی ہے ۔ سیاسی، تزویراتی اور گروہی مقاصد کے لئے مذہب کا استعمال ،ماضی کی طرح پورے زوروشور کے ساتھ ہورہا ہے بلکہ یہ قبیح عمل مزید فروغ پارہا ہے ۔ علیٰ ہذہ القیاس۔ گویا انتہا پسندی کے روٹ کازز نہ صرف بدستور موجود ہیں بلکہ وہ اور بھی بڑھ گئے ہیں اور جب دہشت گردی کی روٹ کاز یعنی انتہا پسندی برقرار ہے ، تو پھر کیسے ممکن ہے کہ دہشت گردی ختم ہو جائے گی ۔ اس میں وقتی خاموشی آسکتی ہے ، اس کی شکل بدل سکتی ہے ، متاثرہ علاقے اور گروہ بدل سکتے ہیں لیکن جب تک انتہاپسندی کی ہر شکل ختم نہیں ہوتی، پاکستان ایک پرامن اور خوشحال ملک نہیں بن سکتا ۔ اس تناظر میں انتہا پسندی کے لئے جنگی بنیادوں پر ایک نئی جنگ کے آغاز کی ضرورت ہے۔

پوری قوت کے ساتھ قومی جنگ ۔ ایک ہمہ گیر اور ہمہ پہلو جنگ ۔ اپنےماضی اور ماضی کی سوچ کے خلاف جنگ ، بے وقوفی کے خلاف جنگ ، حب الوطنی کے نام پر حماقتوں کے خلاف جنگ، دوغلے پن کے خلاف جنگ ، منافقت کے خلاف جنگ ۔ سیاست اورا سٹرٹیجک مقاصد کے لئے مذہب کے استعمال کے خلاف جنگ، اپنے غیرمنصفانہ انتظامی اسٹرکچر اور ظالمانہ نظام انصاف، نظام معیشت ، نظام تعلیم اور نظام سیاست کے خلاف جنگ ۔ آغاز سے قبل اس نئی جنگ کے اہداف اور مقاصد واضح ہونے چاہئیں ۔ اس جنگ میں دوست اور دشمن کا تعین کرنا ضروری ہے اور اس لئے اس جنگ کے لئے ایک جوابی قومی بیانیہ  درکار ہے ۔

 ایسا بیانیہ جو مذہب، سیاست، خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی سمیت ہر شعبے کا احاطہ کرے ۔ ایسا بیانیہ جو حقیقی قومی مشاورت کے نتیجے میں تیار ہو اور جس پر حقیقی معنوں میں سول ملٹری قیادت متفق ہو۔ جزیات نہیں تو کم از کم سمت ، ہدف اور مقصد پر اتفاق درکار ہے ۔ہماری موجودہ جنگ ایسی ہے کہ جیسے زہریلے درخت کا تن اور جڑ نہ صرف سلامت ہو بلکہ اس کو مزید پانی بھی دیا جارہا ہو اور اس کے پتے یا پھر چند شاخیں کاٹ کر ہم یہ سمجھ رہے ہوں کہ مسئلہ حل ہوگیا۔

ساتھ ساتھ ہم اسی طرح کے مزید درختوں کے بیج بھی بو رہے ہوں اور توقع لگائے بیٹھے ہو ں کہ زہریلا درخت اور اس کے زہریلے پھل سے ہمیشہ کے لئے مکمل طور پر نجات مل جائے گی۔ کیا وار آن ٹیرر کے ساتھ ساتھ ہمیں قومی سطح پر وار آن اسٹوپیڈیٹی  کا بھی آغاز نہیں کرنا چاہئے۔

سلیم صافی
بشکریہ روزنامہ جنگ

No comments:

Powered by Blogger.