Header Ads

Breaking News
recent

پاکستان بھارت بامعنی مذاکرات؟

پاکستان اور بھارت کے مابین سکیورٹی ایڈوائزر سطح کے مذاکرات 24/23اگست کو ہونے جار ہے ہیں۔اس میں پاکستان کی نمائندگی جناب سرتاج عزیز کریں گے۔ یہ مذاکرات اس وقت ہو رہے ہیں جب آئے دن پاک بھارت لائن آف کنٹرول توپخانہ اور مارٹر گنوں کی زد میں ہے۔پاکستان میں راولاکوٹ کے مقام پر کشمیری شہید بھی ہوئے ہیں اور سرحدی مقامات پر معاملات کافی حد تک کھچاؤ کا شکار ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ بھارت میں سمجھوتہ ایکسپریس میں سوٹ کیسوں میں بم بھر کر رکھنے والے اور دھماکے کر کے 68لوگوں جن میں زیادہ تر پاکستانی تھے کو ہلاک کرنے والے ہندو شدت پسند سوامی اسیم آنند کو بھی حکومتی اشیرباد سے ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔

اور اس کی رہائی کے خلاف بھارتی حکومت اپیل میں جانے کا ارادہ بھی نہیں رکھتی۔اس سے بڑھ کر اس دکھ کو یاد کرنا ضروری ہے کہ 18فروری 2007ء کو آدھی رات کو جب یہ دھماکے ہوئے اور لوگ زندہ جل گئے،بیسیوں زخمی ہوئے تو بھارت نے بڑی ڈھٹائی کے ساتھ اس کا الزام پاکستان کے سر دے ماراتھا اور اس کے بعد خود اس کی اپنی ایجنسیوں کی تفتیش میں ثابت ہوا کہ اس میں ہندوشدت پسند ملوث ہیں اور پاکستان اس میں بے قصور ہے۔بھارت کے دیگر شہر میں بھی دھماکہ ہوا ہے اور اسی قسم کے تازہ ترین واقعات اٹک اور کراچی میں بھی ہو چکے ہیں۔

ان تمام معاملات سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ یہ مذاکرات بد اعتمادی کی فضا میں ہونے جار ہے ہیں اور ان سے کوئی نئے نتائج کی توقع بھی مشکل ہے۔ اس سے قبل بھی اسی قسم کے مذاکرات کے دور ہوتے رہے لیکن ان کے نتائج حوصلہ افزاء نہیں۔وزیراعظم پاکستان اور بھارت کے وزیراعظم کی حالیہ ملاقات جو کہ پچھلے ماہ روس میں ہوئی تھی اس میں طے ہوا تھا کہ دونوں ممالک ایک بار پھرمذاکرات کا آغاز کریں گے۔
اس ملاقات کے نتیجے میں یہ مذکرات عمل میں آ رہے ہیں۔لیکن بدقسمتی سے دونوں ممالک میں جو فضا موجود ہے اس سے ان مذاکرات میں پیش رفت کا عندیہ نہیں ملتا۔یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آخر وہ کیا وجوہات ہیں جو مذاکرات کے آگے بڑھنے میں حائل ہیں۔کیونکہ اگر ان وجوہات کو دور نہ کیا گیا تو یہ مذاکرات اور سابقہ مذاکرات اور آئندہ کبھی ہونے والے مذاکرات کا بھی کامیاب ہونا مشکل بلکہ ناممکن نظر آتا ہے۔
 
اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان مسائل کی نشاندہی کی جائے تو اس میں سب سے پہلا اور بڑا مسئلہ کشمیر ہے۔اس کی موجودگی میں مذاکرات کا آگے بڑھنا ناممکن ہے۔بھارت نے تقسیم ہند کے معاہدے،بین الاقوامی سمجھوتے اور تمام اخلاقیات کو بالائے طاق رکھ کر کشمیر پر اپنا تسلط قائم کر رکھاہے۔خود بھارت اس مسئلے کو لے کر اقوام
متحدہ میں گیا۔

اقوام متحدہ کی بنیادی قرار داد میں یہ فیصلہ ہوا کہ کشمیر میں استصواب رائے کرایا جائے ۔لیکن بھارت نے اس سے انکار کر دیا اور اس کے بعد کئی قرار دادوں کی منظوری کے باوجود بھارت کشمیر پر اپنا تسلط قائم رکھے ہوئے ہے۔کشمیری اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔اور ان پر بھارت عالمی انسانی حقوق کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی کر رہا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں ایسے قوانین کا نفاذ کر رکھا ہے جو بھارت جیسے نام نہاد جمہوری ملک اور اس کی جمہوریت کے منہ پر طمانچہ ہیں۔اس کے برعکس بھارت نے جوناگڑھ میں نئی منطق کے ساتھ قبضہ جما لیا۔

یہ ایسے بین الاقوامی جرائم ہیں جن کی وجہ سے بھارت کی جمہوریت کا چہرہ داغدار ہے۔لیکن بھارت اس کے باوجود ان معاملات پر کسی صورت بات کرنے کو تیار نہیں۔کشمیر کواپنا اٹوٹ انگ کہنااور پھر پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا ڈھونگ ایک مذاق سے زیادہ نہیں ۔دوسرا بڑا مسئلہ سیاچن کا ہے۔اس پر بھی بھارت نے ایک عجیب انداز میں اپنا حق جتایا ہوا ہے۔جس کی کوئی بین الاقوامی یا زمینی حقیقت موجود نہیں۔جس سروے کے نشان یا پول کا بھارت دعوے دار ہے اس کی بین الاقوامی طور پر کوئی حیثیت نہیں۔سیاچن تومسئلہ تازہ ہے اور پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد یہ علاقہ کسی کے نہ تو کنٹرول میں تھا اور نہ ہی بھارت اس پر کسی قسم کے تسلط کا دعوے دار ہو سکتا ہے۔

لیکن اس پر بھی بات چیت کی ممانعت ہے۔تیسرا بڑا مسئلہ بھارتی آبی جارحیت ہے۔بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو بالائے طاق رکھ کر ان دریاؤں کے پانیوں کو بھی اپنے استعمال میں لانا شروع کر دیا ہے۔جن پر مکمل طور پر پاکستان کا حق ہے۔اس طرح سے اس سے پاکستان کو جس کی معیشت کی بنیاد زراعت پر خدانخواستہ بنجر بنانے کی ٹھان لی ہے۔جب سیلاب آتے ہیں تو نقصان بھی پاکستان کا ہوتا ہے اور جب پانی کی ضرورت ہوتی ہے تو بھارت پانی اپنے استعمال میں لے آتا ہے اورپاکستان کو نقصان ہوتا ہے۔چوتھا بڑا مسئلہ سرکریک ہے۔اس پر کئی باربات ہوئی لیکن بھارت پاکستان کے مؤقف پر سوچ بچار کرنے پر قائل نہیں ہوتا۔یہ علاقہ اس وقت صوبہ سندھ میں شامل ہو گیا تھا جب بمبے کی تقسیم ہوئی تھی۔اور بعد میں جب سندھ پاکستان میں شامل ہوا تو یہ علاقہ خود بخود پاکستان میں آنا چاہیے تھا لیکن بھارت ایسے حقائق کو تسلیم کرنے سے ہمیشہ انکار کرتا رہا ہے۔

یہ ہیں وہ اصل مسائل جن پرپاک بھارت مذاکرات ہونے چاہئیں۔جب تک ان پر بات آگے نہیں بڑھتی نہ تو تعلقات معمول پر آ سکتے ہیں اور نہ ہی دونوں ممالک کے درمیان پائیدار امن کی نوید مل سکتی ہے۔اگر حقیقتاً دیکھا جائے تو باقی تمام مسائل ضمنی نوعیت کے ہیں اور ان کی کوئی بین الاقوامی حیثیت نہیں۔بلکہ یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ باقی کے تمام مسائل ان مسائل سے ہی نکلتے ہیں۔ہمارے قارئین کو یاد ہوگا کہ پچھلے پاک بھارت سیکرٹری سطح کے مذاکرات اس وجہ سے بھارت نے منقطع کر دیے تھے کہ اس سے قبل پاکستان ہائی کمشنر نے حریت کانفرنس کے قائدین سے دہلی میں ملاقات کی تھی۔

جو ملک کشمیر کے مسئلہ پر اس حدتک بھی لچک نہیں رکھتا کہ پاکستان کا کوئی نمائندہ اگر کشمیری رہنماؤں سے ملاقات بھی کرے تو اس کو ناگوار گزرتی ہے۔تو اس سے ایسے مذاکرات کی پیش رفت کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے۔مذاکرات کا ر یہ کہتے ہیں کہ مذاکرات جاری رہنے چاہئیں اور ہر حال میں جاری رہنے چاہئیں چاہے ان سے کوئی نتیجہ بھی برآمد نہ ہو۔ہمیں اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کہ مذاکرات کو جاری رہنا چاہیے اور ہر حال میں جاری رہنا چاہیے کیونکہ بالآخر تمام مسائل مذاکرات کی میز پر ہی حل ہوتے ہیں۔

لیکن پاک بھارت مذاکرات کے پیرائے میں اب ضروری ہو گیا ہے کہ صرف مذاکرات ہی بلکہ ’’بامعنی مذاکرات‘‘ ہونے چاہئیں ۔ان کا کوئی بامعنی ایجنڈا ہونا چاہیے۔فریقین کو مذاکرات میں سنجیدہ ہونا چاہیے۔اور اس نیت سے مذاکرات کرنے چاہئیں کہ مسائل کا کوئی حل نکل سکے۔ورنہ اگر ماضی کے روایتی مذاکرات ہوئے تو نتائج بھی خدانخواستہ اسی طرح سے ہوں گے

حسن اقبال

No comments:

Powered by Blogger.