Header Ads

Breaking News
recent

ایان بنی اُستانی

ارے سعید کیا تمھیں معلوم ہے کہ آج ماڈل ایان علی نے جامعہ کراچی میں انٹری ماری اور اسے کیا خوب پزیرائی ملی ہے۔ ملک کی بیٹی نے نہ صرف ایک اشتہاری مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا بلکہ پڑھے لکھے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں نے اس کے ساتھ خوب سیلفیاں بنوائیں اور بات صرف سیلفیوں کی حد تک نہیں تھی میرے دوست آخر میں مہمان نوازی کا ثبوت دیتے ہوئے ماڈل کو ایک شیلڈ بھی پیش کی گئی اور ایک بات تو میں بتانا ہی بھول گیا کہ ماڈل نے قوم کے ثبوتوں کے مشکل ترین سوالوں کے جواب بھی ایک منجھے ہوئے پروفیسر کی طرح اپنی تعلیمی قابلیت اور تجربات کی روشنی میں دیئے۔

جاؤ نہ بھائی اپنا کام کرو، کیا فضول کی ہانکے جا رہے ہو، ماڈل ایان علی کا بھلا تعلیم سے کیا تعلق؟ وہ تو شوبز سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون ہے اور منی لانڈرنگ اسکینڈل میں ملنے والی بدنامی کے بعد کون احمق ہے جو اسے کسی اشتہاری مہم کا حصہ بنائے گا؟ جاؤ مجھے اپنا کام کرنے دو۔ اس سے پہلے کہ میں اپنے دوست پر مزید بڑھکتا، اُس نے فوراً سے اپنا موبائل میرے سامنے رکھ دیا جس میں ماڈل ایان علی جامعہ کراچی کے پبلک ایڈ منسٹریشن ڈپارٹمنٹ کے کوریڈور میں طالب علموں کے ساتھ سیلفیاں بنواتی اور لیکچر دیتی نظر آئیں بلکہ اپنے گارڈز کے ساتھ اِس طرح مٹر گشت کرتی دکھائی دی جیسے ہمارے ملک کے سربراہ سڑکوں پر کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
ایان علی کی تصاویر دیکھ کر پہلے تو ایک لمحے کے لئے مجھے یقین ہی نہیں آیا کہ یہ جامعہ کراچی کی ہی تصاویر ہیں،  لیکن پھر میں نے اپنے دوست سے کہا کہ سمجھ نہیں آتا کہ اِس واقعہ کے بعد ایان علی کو دعوت دینے والوں کی تعلیمی قابلیت پر صف ماتم بچھایا جائے یا پھر جامعہ کراچی جیسی عالمی شہرت یافتہ درسگاہ اور پبلک ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ کی انتظامیہ کے لئے فاتحہ خوانی کی جائے جو اس پورے واقعہ سے اِس قدر بے خبر رہی کہ انہیں اس بات کا پتہ بھی اُس وقت چلا جب ایک ہائی پروفائل کیس کی ملزمہ نے تد ریسی ادارے کی جگ ہنسائی کرنے کے بعد تصاویر کو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیں۔

یہ واقعہ صرف جامعہ کی انتظامیہ کے منہ پر ایک زور دار تمانچہ ہی نہیں بلکہ خود کو تعلیم اور طلبہ کی علم بردار کہلوانے والی طلبہ تنظیموں پر بھی کاری ضرب ہے، کہ ایک سزا یافتہ ملزمہ جامعہ کراچی میں اتنا بڑا طوفان بپا کرگئی اور کسی کو کان و کان خبر تک نہ ہوئی۔ پھر قربان جاؤں جامعہ کی انتظامیہ کی سادگی پر کہ جن کا کہنا ہے اُن کو علم ہی نہیں تھا کہ اُن کے ڈیپارٹمنٹ میں کب ایسا ایونٹ منعقد ہوا لیکن اب ذمہ دار طالب علموں کو نوٹس جاری کرکے ان سے وضاحت طلب کرلی گئی ہے۔ افسوس اور لمحہ فکریہ تو یہ ہے کہ اب انتظامیہ اِس قدر نااہل ہوچکی ہے کہ اُس کو علم ہی نہیں ہوتا کہ ڈیپارٹمنٹ میں کون کون آتا ہے۔ سب سے پہلے تو انتظامیہ کو اپنی غفلت اور نااہلی کی وضاحت کرنے کی ضرورت ہے  پھر ان بگڑے ہوئے طالب علموں سے واقعہ کی پوچھ  گچھ کی جائے۔

لیکن جہاں تک میری معلومات ہیں اور اِن معلومات کی تصدیق درج ذیل تصاویر بھی کررہی ہیں کہ نہ صرف انتظامیہ کو ایونٹ کی پیشگی معلومات تھی بلکہ ایان علی سے ملاقات بھی کی اور تصویریں بھی کھینچوائی۔ لیجیے تصویر پر ایک نظر آپ بھی ڈالیے۔

ماڈل ایان علی کی جامعہ کراچی آمد کو دیکھ  کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اکبر الہ آبادی نے جیسے یہ شعر آج کے دن کے لئے ہی لکھ رکھا تھا۔

تم شوق سے کالج میں پھلو، پارک میں پھولو
جائز ہے غباروں میں اڑو، چرخ پہ جھولو
بس اک سخن بندہ عاجز کا رہے یاد
اللہ کو اور اپنی حقیقت کو نہ بھولو

مزید کہتے ہیں

تعلیم جو دی جاتی ہے ہمیں وہ کیا ہے فقط بازاری ہے
جو عقل سکھائی جاتی ہے وہ کیا ہے، فقط سرکاری ہے

سعید احمد

بشکریہ روزنامہ ایکسپریس 
 

No comments:

Powered by Blogger.