Header Ads

Breaking News
recent

سعودی عرب دہشت گردی کے نشانے پر

پچھلی جمعرات کو سعودی عرب کے ایک پولیس ہیڈکوارٹر کی مسجد میں خود کش دھماکہ ہوا جس میں گیارہ پولیس اہل کارا ور چار بنگلہ دیشی ورکر شہید ہو گئے، اس دھماکے کی ذمے داری داعش نے فوری طور پر قبول کر لی۔

یمن کے تنازعے کے بعد سے سعودی عرب کے اندر دہشت گردی کے واقعات کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، پہلے چند دھماکے اہل تشیع کی مساجد میں ہوئے اور وہ بھی اس وقت جب جمعہ کی نماز ادا کی جا رہی تھی۔ یہ ایک باریک کام کا آغاز ہے، پاکستان پچھلے بارہ برس سے اسے بھگت رہا ہے اور اب کہیںجا کر یہ سلسلہ تھمتا نظر آ رہا ہے، اس سے پہلے عراق کو فرقہ ورانہ دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا، یہ کام بڑا آسان ہے، ایک دو دھماکے شیعہ مساجد میں کردو، جواب میں سنی مساجد کی شامت آ جائے گی۔ شام میں بھی یہ کھیل جاری ہے ۔یہاں تو تاریخی مساجد اور دیگر مقدس مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔

سعودی عرب میں دہشت گردی نئی بات نہیں ، نائن الیون کے فوری بعد سعودی شہروں میں امریکی افواج کے ہیڈکوارٹرز میں دھماکے ہوئے مگر اس طوفان پر جلد ہی قابو پا لیا گیا۔ اب یمن کا تنازعہ شروع ہوا تو جو دشمن صنعا، اور عدن میں سعودی افواج کا سامنا کرنے کے قابل نہیں تھا، اس نے چوروںکی طرح دہشت گردی کا آغاز کر دیا ہے، مذموم منصوبہ یہ ہے کہ اس ملک کو بھی فرقہ واریت کے جہنم میں دھکیل دیا جائے۔

ویسے کوئی مسلمان ملک ایسانہیں جہاں دہشت گردی کا عفریت نہ پھنکار رہا ہو، افریقی ممالک میں بوکو حرام نے مسلمانوں کا جینا حرام کر چھوڑا ہے، عالم عرب میں اب داعش نے دہشت گردی کا جھنڈا بلند کر دیا ہے، پاکستان میں یہ سلسلہ سوات اور فاٹا سے شروع ہوا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے پورے ملک میں پھیل گیا۔
میرے قارئین جانتے ہیں کہ میںنے حالیہ فرقہ واریت کے لئے رچرڈ ہالبروک کو مورد الزام ٹھہرایا ہے، یہ شخص اب اس دنیا میں نہیں ہے لیکن اس کا بویا ہوا بیج ہمارے راستوں میں کانٹے بکھیر رہا ہے۔ ہالبروک وہ ہستی ہے جس نے سا بق یوگو سلاویہ میں منافرت کے بیج بوئے اور مختلف اقوام ا ور مذاہب کے لوگوں میں ایسی نفرت اور ایسے تعصب کی چنگاری پھینک دی کہ یہ خطہ چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بٹ گیا، ایک زمانہ تھاجب سلطنت عثمانیہ کے ٹکڑے ہوئے تو ا س وقت ایک اصطلاح ایجاد ہوئی بالقنائزیشن، نگر یوگو سلاویہ میں ہالبروک کے کھیل کو ہالبروکنائزیشن کا خاص نام دیا گیا، یہ شخص پاکستان اور افغانستان میں خدمات انجام دیتا رہا، اس کی سرگرمیوں کے نتیجے میں ہم نے ایک دوسرے کا خون پیا، قیمہ کیا، سر کاٹ کر ان کو فٹ بال کے طور پر استعمال کیا، یہ تو اللہ کا کرم ہوا کہ میاں نواز شریف کے دور میں جنرل راحیل کو نیا آرمی چیف بنایا گیا، حکومت اور فوج کے درمیان مثالی اشتراک اور اتحادسے ضرب عضب کا آغاز ہوا، فوج کے جوانوں نے جانیں ہتھیلی پر رکھ کر دہشت گردوںکا قلع قمع کیا اور پوری قوم نے اس آپریشن کی اونر شپ قبول کی۔

دشمن کو پاکستان میں منہ کی کھانا پڑی ہے اور اب اس نے سعودی عرب کو تاک کر نشانے پر رکھ لیا ہے۔اور یہ ایک خوب سوچی سمجھی سازش ہے، دشمن سمجھتا ہے کہ وہ امت مسلمہ کی ایک مسلمہ پیشہ ور فوج اور ایٹمی پاکستان کو معاشی طور پر مفلوج کر چکا ہے، اس کے حوصلے توڑ چکا ہے۔ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدہ کر کے اسے نیوٹرلائز کر لیا گیا ہے، مصر اور شام کی خانہ جنگی سے ان ملکوں کو کسی دوسرے کی مدد کے قابل نہیں چھوڑا، اب ہر اسلامی ملک آپا دھاپی کی کیفیت میں ہے اور تجھ کو پرائی کیا پڑی ا پنی نبیڑ تو کی عملی تصویر بنا ہوا ہے، ایک عجب نفسا نسی کا عالم ہے، جیسے قیامت کی گھڑی ہو اور کوئی کسی کا پرسان حال نہ ہو۔

دشمنان اسلام کی چالوںسے صاف ظاہر تھا کہ وہ حرمین شریفین کی مقدس سرزمین کو تب نشانہ بنائیں گے جب انہیں یقین کامل ہو جائے گا کہ وہ اسے مسلم امہ کے دھارے سے الگ تھلگ کر چکے ہوں گے۔ اور بظاہر ایسا ہی نظر آتا ہے کہ پاکستان جیسے ملک نے سعودی عرب کی طرف سے مدد کی درخواست کو در خور اعتنانہیں سمجھا، ہر چند ہم اپنے مسائل میں الجھے ہوئے ہیں لیکن ہم اقتصادی کوریڈور تعمیر کرنے والے چینی انجینئروں کی حفاظت کے لئے ایک ڈویژن فوج کھڑی کر سکتے ہیں تو سعودی عرب میں بھی ایک ڈویژن بھیجنے سے ہم پر کوئی آفت نہیں ٹوٹ سکتی تھی۔ 

ہمیں بھارتی جارحیت سے خطرہ لاحق ہو سکتا تھا مگر اس سے ہم روایتی جنگ میں نہیں جیت سکتے، اس خطرے سے نبٹنے کے لئے ہمیں اپنے ایٹمی سمارٹ بموں کا سہارا لینا ہو گا، مگر نجانے ہم کن مصلحتوں کا شکار ہو گئے کہ محض علامتی طور پر کوئی ایک پلاٹون بھی بھیجنے کے لئے تیار نہ ہو ئے، پارلیمنٹ کی قرارداد حکومت کو پابند نہیں کر سکتی، ایسی قراردادیں پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیاں درجنوں کے حساب سے منظور کرتی رہی ہیں جن کی کبھی ہم نے کوئی خاص پروا نہیں کی۔
یمن میں لڑنے کے لئے ہم تیار نہیں تھے اور اس ضمن میں کوئی تحفظات لاحق تھے تو پھر بھی اپنے دوست اور برادر ملک کی اندرونی سیکورٹی کے لئے ہی فوج بھیجنا توہمارا فرض اولیں بنتا تھا۔اب جو وہاں دھماکے شروع ہو گئے ہیں اور آئے روز دہشت گردی کا بازار گرم ہو گیا ہے اس پر قابو پانے میں ہماری فوج مہارت تامہ کی مالک ہے ۔ ملک کے اندر ہم نے ا س فتنے کو کچل ڈالا ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ حرمین شریفین کے تحفظ کے لئے تو حرکت میںآئیں ، کیا ہم خدا نخواستہ کسی سنگین اور دل خراش سانحے کا انتظار کر رہے ہیں۔

بہر حال سعودی عرب کوابھی کوئی پریشانی لاحق نہیں۔وہ حالات سے نبٹنے کے لئے پر عزم دکھائی دیتا ہے۔یمن کے بحران کی حد تک وہ بعض عرب ممالک کے ساتھ دفاعی اشتراک کر چکا ہے اور اس نے پچھلے چند ماہ میںاس بحران پر بڑی حد تک قابو پالیا ہے اور عدن میں جائز اور قانونی حکومت کا ہیڈکوارٹر پوری طرح فعال ہو گیا ہے۔ یہ بھی سعودی عرب کی کامیابی ہے کہ یمن کا مسئلہ کسی علاقائی یا عالمی تنازعے کا باعث نہیں بنا، اسے سعودی سفارت کاری کی کامیابی سمجھا جارہا ہے۔

دیکھنے کی بات یہ ہے کہ سعودی امن و امان کو لاحق خطرات کس قدر سنگین صورت اختیار کرتے ہیں، اور سعودی عرب کی سیکورٹی فورسز ان سے نبٹنے میں کس مہارت کا مظاہرہ کرتی ہے۔ میں پر امید ہوں کہ اس شعبے میں سعودی عرب کو تیز رفتار کامیابی حاصل ہو گی، میری طرح کروڑوںمسلمانوں کی دعائیں بھی سعودی عرب کے ساتھ ہیں اور اگر ضرورت پڑی تو حرمین شریفین کی سرزمین کے دفاع کے لئے مسلمہ امہ کا ہر فرد کٹ مرنے کو تیار ہے۔ہر کلمہ گو مسلمان کے لئے حرمین شریفین کی خاص اہمیت ہے، وہ اپنی اولاد ، اپنے گھر اور اپنے ملک سے بڑھ کر اس سرزمین کے ساتھ جذباتی رشتوں میں وابستہ ہے۔ اس لئے خاطر جمع رکھنی چاہئے کہ دہشت گردی کی لہر اپنی موت مر جائے گی ا ور سعودی عرب کی مقدس سرزمین پرکوئی آنچ نہ آنے پائے گی۔انشا اللہ

اسد اللہ غالب 
بہ شکریہ روزنامہ نوائے وقت

No comments:

Powered by Blogger.