Header Ads

Breaking News
recent

مودی کا طرز سیاست، بھارت کے لوگوں کیلئے ایک چیلنج...

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نہ صرف ایک انتہا پسند مذہبی جماعت کے نمائندہ ہیں بلکہ انہوں نے اپنی سیاست کو بھی صرف اور صرف نفرت کی بنیاد پر آگے بڑھایا ہے ۔ان کی سیاست محض پاکستان دشمنی پر مبنی ہے ۔اس سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ ان کے پاس اپنے ملک کے لئے کوئی بڑا پروگرام نہیں ہے اور وہ صرف لوگوں کے جذبات کو بھڑکا کر اپنی پارلیمانی مدت پوری کرنا چاہتے ہیں ۔وہ بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے نقش قدم پر چل رہے ہیں ۔

شیخ حسینہ واجد بھی صرف پاکستان مخالف جذبات کو بھڑکاکر اپنی حکومت چلارہی ہیں ۔اگلے روز بھارت میں یعقوب میمن نامی ایک مسلمان باشندے کو پھانسی دے دی گئی ۔ان پر الزام تھا کہ وہ 1993ء کے ممبئی بم دھماکوں میں ملوث تھے ۔ہم اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتے کہ یعقوب میمن کے کیس کا فیصلہ بھارتی عدالتوں نے میرٹ کی بنیاد پر کیا یا نہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے یعقوب میمن کی پھانسی سے اس طرح سیاسی فائدہ اٹھایا، جس طرح شیخ حسینہ واجد بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے بعض رہنماؤں کو پھانسی دے کر سیاسی فائدہ حاصل کر رہی ہیں ۔
ممبئی بم دھماکوں کو 22 سال کا عرصہ بیت چکا ہے۔ 22 سال تک بھارت کے ریاستی ادارے اس کیس کو حل نہیں کرسکے ۔حیرت کی بات یہ ہے کہ نریندر مودی کے دور میں یہ کیس فوری طور پر حل ہوگیا ہے اور اس میں پھانسی کی سزا پر عملدرآمد بھی ہوچکا ہے ۔اس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی مودی حکومت کے سوچنے کا انداز کیا ہے ۔بھارت نہ صرف اس خطے کا بڑا ملک ہے بلکہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعوے دار بھی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے جو طرز سیاست اختیار کررکھا ہے، وہ ان کے ملک کو زیب نہیں دیتا۔ پاکستان دشمنی کے جذبات بھڑکا کر بھارت کے ایک حلقے کی سیاسی حمایت تو حاصل کی جاسکتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ دیگر حلقوں کی مخالفت کے امکان کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا ۔

نریندر مودی اپنے اس طرز سیاست سے نہ صرف سیکولر بھارت کا چہرہ مسخ کررہے ہیں بلکہ وہ بھارت کو مذہبی اور گروہی بنیادوں پر تقسیم بھی کررہے ہیں ۔نریندر مودی اور ان کے نظریاتی پیشواؤں کا یہ اندازہ غلط ہے کہ بھارت کے اکثر لوگ پاکستان مخالف جذبات رکھتے ہیں ۔یعقوب میمن کی سزا معاف کرنے کے لئے ہندو سیاسی اور سماجی رہنماؤں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی کی ممتاز شخصیات کی طرف سے سب سے زیادہ رحم کی اپیلیں کی گئیں۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ رائے عامہ کو متاثر کرنے والی اہم بھارتی شخصیات نریندر مودی اور ان کے حواریوں کے نقطہ نظر کی حامی نہیں ہیں ۔ نریندر مودی نے بھارت کے عام انتخابات میں بھی نفرت اور تعصب پر مبنی سیاسی نعرے دیئے اور انتخابات جیتنے کے بعد بھی ان کا طرز سیاست نہیں بدلا ہے۔

بھارت جیسے ملک کے وزیراعظم ہونے کی حیثیت سے ان کے شایان شان یہ بات نہیں ہے کہ وہ شیخ حسینہ واجد کی پیروی کریں۔
اس وقت پوری دنیا کو یہ معلوم ہوچکا ہے کہ بھارت پاکستان سمیت دیگر ہمسایہ ممالک کے اندرونی معاملات میں نہ صرف مداخلت کرتا ہے بلکہ ان ممالک کے داخلی استحکام کے لئے بھی اس نے سنگین خطرات پیدا کردیئے ہیں ۔ پاکستان میں بھارت کی مداخلت کے حوالے سے مغربی ذرائع ابلاغ کئی رپورٹس شائع کرچکے ہیں ۔جبکہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے ایک سابق سربراہ نے اپنے حالیہ انٹرویو میں اس مداخلت کا اعتراف کیا ہے ۔

 پاکستان نے بھارتی مداخلت کے ثبوت اکٹھے کرلئے ہیں اور بھارت کو اس بات کا احساس ہے کہ پاکستان یہ ثبوت لے کر عالمی اداروں سے رجوع کرنے والا ہے اور بھارت کے پاس دفاع کے لئے کچھ بھی نہیں ہے ۔کراچی ،بلوچستان اور شمالی علاقہ جات میں بھارتی مداخلت کے ٹھوس شواہد حاصل کرلئے گئے ہیں ۔بھارت اپنے ڈراموں اور لابنگ پر مبنی سفارت کاری کے ذریعہ ہمیشہ پاکستان کو دباؤ میں لانے کی کوشش کرتا رہا ہے لیکن اب بھارت ایسے ہتھکنڈوں سے عالمی سفارت کاری میں ناکام رہے گا کیونکہ پاکستان کی طرف سے عالمی اداروں کو ثبوت مہیا کرنے سے پہلے ہی بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے بھارتی جارحیت اور مداخلت کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔

ان ذرائع ابلاغ نے دنیا کو یہ بتادیا ہے کہ ایک بڑا ملک اور دنیا کی بڑی جمہوریت ہونے کے ناتے بھارت ایک ذمہ دار ملک نہیں ہے ۔شاید یہی وجہ ہے کہ بھارت نے پیش بندی کے طور پر یعقوب میمن کو پھانسی دے دی ہے حالانکہ یعقوب میمن یہ کہتے رہے ہیں کہ وہ ممبئی بم دھماکوں میں ملوث نہیں ہیں اور انہیں ایک مسلمان ہونے کی سزا دی جارہی ہے۔بھارتی میڈیاکے مطابق بھارت کے مسلمانوں میں بھی اس پھانسی پر شدید ردعمل پایا گیا ہے۔عہد نو میں انتہا پسندی کی سیاست بھی ختم ہو رہی ہے، دنیا میں علاقائی سطح پر نئے اتحاد جنم لے رہے ہیں اور عالمی سطح پر نئی صف بندی ہورہی ہے ۔دنیا بہت آگے نکل چکی ہے ۔پاکستان اور بھارت کے عوام نے دونوں ملکوں کی روایتی کشیدگی کو ختم کرنے کے لئے اپنے طور پر بہت کوششیں کی ہیں اور یہ کوششیں عوامی آگاہی کی صورت میں نتیجہ خیز ثابت ہوئی ہیں ۔نریندر مودی کا طرز سیاست اب زیادہ موثر نہیں رہے گا ۔

اگر انہوں نے یہ طرز سیاست نہ چھوڑا تو نہ صرف علاقائی اتحادوں کو نقصان پہنچے گا بلکہ اس خطے کی ترقی اور خوشحالی کے عمل میں بھی رکاوٹیں پیدا ہوں گی ۔ بھارت کو اس خطے میں ایک بڑے بھائی اور لیڈر کے طور پر کردار ادا کرنا چاہیے تھا لیکن نریندر مودی جیسے سیاستدانوں کی موجودگی میں بھارت اس کردار سے محروم رہے گا۔ بھارت کو اب پڑوسی ملکوں کے ساتھ برابری کی بنیاد پر دوستانہ تعلقات استوار کرنا ہوں گے ۔ بھارت پڑوسی ملکوں میں اپنے کارندوں کے ذریعہ بدامنی اور دہشت گردی کو فروغ دے کر اپنے لئے بھی کچھ اچھا کام نہیں کر رہا ہے ۔

 بھارت کے عوام کو چاہیے کہ وہ اس طرز سیاست کے بارے میں سوچیں کیونکہ نفرت اور دشمنی کا انجام تباہی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔
نریندر مودی اس خطے کو تباہی کی جانب دھکیل رہے ہیں ۔بھارت کی سول سوسائٹی کو پہلے سے زیادہ موثرکردار ادا کرنا ہوگا ۔بھارت کی سول سوسائٹی نے پہلے بھی بہت اہم کردار ادا کیا ہے ۔بھارت میں انتہا پسند حکمرانی کے خلاف اب اس کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوگیا ہے ۔بھارت کی حکومت پاکستان میں مداخلت کے ٹھوس شواہد کا جس طرح جواب دے رہی ہے، یہ اس خطے کی بہتری کے لئے موزوں نہیں ہے ۔

عباس مہکری
بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ

No comments:

Powered by Blogger.