Header Ads

Breaking News
recent

انعام واپس لینے کا بھی کوئی اصول ہونا چاہیے

اس کو 91ء میں نوبل امن انعام سے نوازا گیا۔ شاید نوازا جانا ہی بہتر لفظ ہے کیوں کہ اب لگ رہا ہے کہ اس میں اتنی صلاحیت نہیں تھی جتنی بیان کردی گئی، لہذا اس نے انعام ’’حاصل‘‘ نہیں کیا بلکہ اسے ’’نوازا‘‘ گیا۔ اس سے پہلے اسے 1990 میں تھورولف رافٹو انعام سے بھی نوازا جا چکا تھا۔ یہ انعام ناروے کے ایک انسانی حقوق کے راہنما تھورولف رافٹو(Thorolf Rafto) کے نام سے منصوب ہے جو 1979ء میں پیراگوئے کے سفر میں تشدد کا شکار ہوئے اور 86ء میں وفات پائی۔ مختصر تفصیل بیان کرنے کا مقصد قارئین کو اس انعام کی اہمیت بتانا ہے۔
 اسے سخاروف ایوارڈ برائے آزادی اظہارِ رائے دیا گیا۔ یہ ایوارڈ سوویت سائنسدان، جو بعد میں انسانی حقوق کے حوالے سے پہچانے گئے،   آندرے سخاروف کے نام سے منسوب ہے اور یورپی پارلیمنٹ 1988 سے یہ انعام دے رہی ہے بمعہ 50 ہزار یورو انعامی رقم کے۔ زیر بحث شخصیت کو 1992ء میں جواہر لال نہرو ایوارڈ برائے عالمی ہم آہنگی دیا گیا۔ نہرو صاحب کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ پھر اسے 92ء میں ہی سائمن بولیور عالمی انعام دیا تھا۔ سائمن بولیور(Simón Bolívar) موجودہ لاطینی امریکہ کی آزادی کا ہیرو شمار کیا جاتا ہے۔ اگر آج وینزویلا، ایکواڈور، پیرو، بولیویا، کولمبیا آزاد ریاستیں ہیں تو اس میں سائمن بولیور کا بہت بڑا کردار ہے۔ اس شخصیت کے پاس کینیڈا کی اعزازی شہریت بھی ہے۔
  
دنیا کی طاقتور ترین خواتین میں اس کا نمبر 61 واں تھا۔ اس کے علاوہ اسے کانگریشنل میڈل، بھگوان مہاویر عالمی امن ایوارڈ، اولوف پامے ایوارڈ بھی مل چکے ہیں۔

رافٹو ایوارڈ کی انعامی رقم کم و بیش 20 ہزار امریکی ڈالر بنتی ہے۔ نوبل انعام کی 2015 میں انعامی رقم کم و بیش ساڑھے نو لاکھ امریکی ڈالر ہے۔ تو 91ء میں اگر اِس کو آدھا بھی شمار کریں تو 4 لاکھ امریکی ڈالر بنتا ہے۔ بھگوان مہاویر عالمی امن ایوارڈ کے ساتھ 2012 میں کم و بیش 11 لاکھ انڈین روپے۔ اوولف پالمے (Olof Palme) ایوارڈ کی انعامی رقم 75 ہزار امریکی ڈالر ہے۔ عالمی سائمن بولیور انعام کی انعامی رقم 25 ہزار امریکی ڈالر ہے۔ سخاروف سے منصوب انعام کی انعامی رقم 50 ہزار یورو ہے۔ جواہر لال نہرو ایوارڈ کی انعامی رقم کم و بیش 40 ہزار امریکی ڈالر ہے۔ 

مذکورہ شخصیت کی صرف ان چند بڑے اعزازات کی انعامی رقم ہی شمار کی جائے تو یہ 6 لاکھ امریکی ڈالر سے زائد بنتی ہے۔

اب ایک ایسی شخصیت جس کو اتنے اعزازت اور اتنی بڑی انعامی رقم صرف اِس لیے ملے ہوں کہ اُس کو انسانی حقوق کا علمبردار سمجھا جاتا ہے۔ لیکن جب اُسی شخصیت کی اپنی رہائش کے ارد گرد لاشیں بکھری ہوں اور وہ ایک لفظ تک اس قتل عام پر نہ بولے تو کیا ان تمام عالمی تنظیموں کو جنہوں نے اس کو انعامات سے نوازا اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کرتے ہوئے انسانی حقوق کے یہ اعزازت واپس نہیں لے لینے چاہیں؟

 اتنی بڑی انعامی رقم اور اعزازت حاصل کرنے والی شخصیت ’’آنگ سان سو کی‘‘  کی ہے۔ لیکن حیران کن طور پر یہ انسانی حقوق کی علمبردار خاتون اپنے ہی ملک میں ’’روہنگیا نسل کشی‘‘ پر نہ صرف مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے بلکہ غیر معقول جواز بھی گھڑنے میں مصروف ہے اور اِس نسل کشی کو دو طرفہ معاملہ قرار دے چکی ہے۔ عقلِ انسانی حیران ہے کہ کیسے ایک ایسی راہنما جو اپنی پوری زندگی کو جہدوجہد سے تعبیر کرتی رہی ہے اس نسل کشی پر چپ سادھ چکی ہے۔ ایک برطانوی صحافی مہدی حسن نے اس خاتون راہنما کی خاموشی پر ایک آرٹیکل لکھا جس کا عنوان ہی ’’آنگ سان سو کی کی ناقابل معافی خاموشی‘‘ رکھا۔

ناقدین آنگ سو کی اس خاموشی کو مجرمانہ خاموشی سے تعبیر کرتے ہیں۔ لیکن ان انسانی حقوق کی ان عالمی تنظیموں کی خاموشی پہ بھی حیرت ہے جنہوں نے آنگ سو کو انعامات سے نوازا۔ ناقد کہتے ہیں کہ آنگ سو کیوں کہ 2015 میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصہ لے رہی ہے لہذا وہ بدھوئوں کی مخالفت مول لینے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ لیکن حیران کن طور پر وہ گوتم بدھ کی امن پر مبنی تعلیمات کے بجائے صرف بدھ بکشوئوں کی فکر میں ہے۔ تبت کے روحانی راہنما دلائی لامہ کے مطابق انہوں نے 2012 میں لندن اور جمہوریہ چیک میں آنگو سو سے دو دفعہ ملاقات میں یہ قصہ چھیڑا لیکن کوئی بیان سامنے نہیں آیا اور آنگ سو نے جواب دیا کہ معاملات سادہ نہیں ہیں بلکہ پیچیدہ ہیں۔ یقیناً اگر شکار بدھو مت کے پیروکار ہو رہے ہوتے تو پھر انسانیت کا علم بلند کرنے میں کوئی پیچیدگی حائل نہ ہوتی۔ 2 جون کو جونا فشر کا ایک آرٹیکل BBC ویب پر شائع ہوا جسکا عنوان تھا ’’آنگ سو تم کہاں ہو؟‘‘ تھا۔ شاید وہ بھی ہماری طرح انسانی حقوق کی عالمی چیمپئین کو ڈھونڈنے میں مصروف ہیں۔

آنگ سو نے قید و بند کی صعوبتیں اپنے ملک میں ہی کاٹیں اور شاید سیاسی مفادات کے لیے کاٹیں، اسی لیے اس کی خاموشی بھی معنی خیز ہے۔ انسانی حقوق کی پامالی سے زیادہ اس کے لیے اہم آنے والے انتخابات ہیں۔ لہذا وہ کیسے اپنی محنت ضائع کرسکتی ہے؟ جس اقتدار کے لیے اس نے اتنی جہدوجہد کی اس کو صرف روہنگیا مسلمانوں کے حق میں لب کشائی کرکے کیسے ضائع کیا جاسکتا ہے۔ میانمار کے لیے اقوام متحدہ کی خصوصی رپورٹر یانگی لی نے جب ہمدردی کے کچھ بول بولے تو نسل کشی کے ذمہ دار بدھ راہنما آشن ویراتھو    نے یانگی لی کے لیے انتہائی گندی زبان استعمال کی۔ لیکن اُس پر بھی عالمی برادری نے خاموشی کی چادر اوڑھے رکھی۔ شاید برما میں تیل و گیس کے ذخائر نہیں اسی لیے اس خطے میں ہونے والی انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی بھی عالمی طاقتوں سے اوجھل ہے۔

لیکن جس طرح دنیا میں اعزازت کی تقسیم کے لیے قواعد و ضوابط بنائے جاتے ہیں بالکل اِسی طرھ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اِن اعزازت کی واپسی کے لیے بھی مستقبل میں کوئی لائحہ عمل اختیار کیا جائے۔ اگر کسی کو انعام خاص جہدوجہد پر دیا جائے تو اس سے انعام جہدوجہد کے مخالف کام کرنے پر واپس بھی لیا جاسکے۔ اگر انعام انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کرنے پر دیا جائے تو پھر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر وہی انعام واپس بھی لیا جاسکے۔ کاش ایسا ہوجائے اور ایک اصول وضع کرلیا جائے کہ چاہے مسلمان ہو، عیسائی ہو، یہودی ہو، پارسی ہو، بدھ کا پیروکار ہو، یا ہندو ہو سب کو برابر کا انسان تصور کیا جائے گا۔

شاہد کاظمی
 

No comments:

Powered by Blogger.