Header Ads

Breaking News
recent

ہماری اقتصادی بدحالی کا ذمہ دار کون؟

ملکی بقا اور ترقی میں صنعت و حرفت کا کردار جس طرح انتہائی اہمیت کا حامل ہے اسی طرح صنعتوں کے فروغ کے لیے خام مال اور انرجی (بالخصوص سستی بجلی) کے بغیر ممکن نہیں! سستی بجلی کی اہمیت ہمارے ملک کے لیے ہوا اور پانی سے کم نہیں اور کسی ایک کو بھی نظر انداز کر دینا، صنعتی و قومی ترقی کیلئے نہ صرف انتہائی نقصان دہ ہو سکتا ہے بلکہ ممکن ہی نہیں رہتا۔ انرجی کی قیمتوں کا اتار چڑھاﺅ اور خام مال کی پیداواری لاگت اقتصادیات پر دور رَس اثرات مرتب کرتی ہیں۔

گزشتہ حکومتوں کی پالیسیوں اور حالات حاضرہ کی حکومت کی نالائقی کی بدولت توانائی کا بحران شدید سے شدید تر ہو گیا ہے! ملکی معیشت کی بہتری کیلئے عالمی و ملکی ماہرین کی بارہا تجویزوں کے باوجود کالا باغ ڈیم جو کہ ایک کثیر المقاصد ڈیم ہے اور اس سے نہ صرف 3600 میگاواٹ سستی ترین بجلی حاصل ہوتی بلکہ چاروں صوبوں کی 60لاکھ ایکڑ بنجر اراضی سیراب ہونے سے خوردنی اور زرعی پیداوار میں زبردست اضافہ ہوتا اور 10لاکھ افراد کو روزگار بھی مہیا ہوتا، ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا گیا ہے جس کی وجوہات ابھی تک خفیہ ہیں اور محسوس ہوتا ہے کہ ہماری حکومت ملک کی بجائے، ملک کے دشمن عناصر کی گود میں پروان چڑھ رہی جو یقینا ملک سے غداری کے مترادف ہے۔
پاکستان کے تمام مجوزہ ڈیموں میں کالا باغ ڈیم واحد اور آئیڈیل سائٹ ہے جو لوڈ سنٹر کے درمیان واقع ہے اس طرح کالا باغ ایک ملٹی پرپز ڈیم کے طور پر تقریباً مفت بجلی پیدا کرنے کے علاوہ جمع شدہ جھیل کے پانی سے زراعت کو چمکانے اور پورے ملک کی آبپاشی کے لیے پانی مہیا کرتا اور پانی کو سمندر برد کرنے کے الزام سے بچ سکتا تھا بلکہ کالا باغ ڈیم کے مقام پر لوہے اور دیگر معدنیات کے بھاری ذخائر کی موجودگی اور بجلی کی فراہمی کی وجہ سے اس علاقہ کو بہترین صنعتی شہر بنا سکتا تھا جس سے ملکی معدنی وسائل بروئے کار لائے جا سکتے! اس طرح میانوالی، اٹک، کوہاٹ، کرک، لکی مروت، بنوں، ڈیرہ اسماعیل اور ٹانک کے محنت کشوں کی بڑی تعداد کو بیروزگاری کی وجہ سے پسماندگی میں دھکیل دیا گیا کیونکہ خیبر پختونخواہ کے خواہ کے خوانین چونکہ خود زیادہ تعلیم یافتہ نہیں ہیں۔ اس لیے وہ علاقہ کی چودھراہٹ عوام کے نمائندوں کو تقسیم کرکے اپنی حاکمیت ختم نہیں کرنا چاہیں گے اور علاقہ کی پسماندگی ختم نہ کرکے اپنی حاکمیت کی حفاظت کرتے رہیں گے۔

اس ڈیم سے پاکستان کے چاروں صوبوں کو یکساں فائدہ ہوتا۔ ملک میں ڈھائی کروز ایکڑ زمین صرف پانی نہ ہونے کی وجہ سے بنجر پڑی ہے جس کے لیے ہمیں بجلی ہی کی نہیں پانی کی بھی ضرورت ہے۔

اگر کالا باغ ڈیم جلدی شروع کر دیا جائے تو ایک سال کے عرصہ میں تیزی سے کام کرتے ہوئے ڈیم کی جھیل کو مکمل کر سکتے ہیں جس سے پہلے ہی سال پانی کے وسائل مہیا ہونے سے نہ صرف سیلاب کی روک تھام ہو گی بلکہ دوسرے ہی سال آباد کاری شروع ہو جائے گی۔ تین سال کے عرصے میں ڈیم مکمل طور پر تیار ہو جائے گا اور باقاعدگی سے ساڑھے تین ہزار میگاواٹ بجلی حاصل ہوتی رہے گی۔ جھیل بننے سے تربیلا ڈیم کی کارکردگی میں بھی 30% اضافہ ہو گا جو لوڈشیڈنگ میں کمی کا باعث ہو گا اور کالا باغ ڈیم نہ بنا تو یہی پانی سیلاب کاریوں کا باعث بنے گا اور اس کا سیلابی پانی میدانی علاقوں میں بربادیاں مچاتا ہوا سمندر میں گر کر ضائع ہو جائے گا۔ ملکی مفاد کے خلاف کام کرنے والے ہمیشہ غداروں کے نام سے یاد کیے جاتے ہیں اور یقین کیجئے کہ ان کی اولاد مالدار ہوتے ہوئے بھی تاریخ میں ملک کے دشمنوں کے نام سے پہچانی جائے گی۔
کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے لیے بجٹ میں فوری رقم مختص کی جائے۔

ہماری بدقسمتی کی ایک بڑی وجہ وہ مخصوص طبقہ بھی ہے جو جب تک حکومت میں موجود رہتا ہے اسی کی زبان بولتا ہے چاہے وہ سیاستدان ہوں یا انجینئر لیکن عہدوں سے فارغ ہونے کے بعد جب آنکھیں کھولتے ہیں تو حقیقت ان کی آنکھیں کھول دیتی ہیں مگر وہ نقصان جو ملک کی تباہی کی شکل میں جب ان پر عیاں ہوتا ہے تو وہ اپنے آپ کو قصور وار سمجھتے ہوئے بھی اب کچھ کرنے سے قاصر ہو جاتے ہیں تو کیا یہ بہتر نہ ہو گا کہ ملک کو تباہ کرنے کی بجائے جرات کا جذبہ پیدا کرکے ملک کی تاریخ میں اپنا نام ہمیشہ کے لیے روشن کر لیں اور ملک کو لوڈشیڈنگ کی لعنت اور ہمیشہ کے اندھیروں میں ڈوبنے سے بچا لیں۔

خالد سجاد

No comments:

Powered by Blogger.