Header Ads

Breaking News
recent

امریکی سینیٹر گراہم ۔ اسلام اور امریکی مسلمان؟

ایک ہی دن یعنی یکم جون کو امریکہ میں دو متضاد خبریں (1) امریکی سپریم کورٹ نے اسکارف سے سر ڈھانپنے والی مسلمان لڑکی کو ملازمت سے انکار کرنے والی کمپنی کے خلاف رولنگ دیتے ہوئے ماتحت عدالت کو مقدمہ کی مزید سماعت کا حکم دے دیا. (2) امریکی صدارت کیلئے اپنی امیدواری کا اعلان کرتے ہوئے ری پبلکن سینٹر لنڈسے گراہم نے کہا ہے کہ انتہا پسند اسلام اور اسکے ماننے والے امریکہ اور اسکی طرز زندگی کے دشمن ہیں۔ اور ان کے خاتمہ کیلئے وہ جنگ اور دیگر تمام ذرائع استعمال کر کے انہیں شکست دیں گے۔

اسکارف پہننے والی لڑکی سمنتھا اولاف کا مقدمہ ایک عرصہ سے عدالتی نظام میں زیر سماعت چلا آ رہا ہے۔ اور اب اپیل کی صورت میںسپریم کورٹ کے سامنے آیا تھا جہاں سے مسلمان لڑکی کے اسکارف پہننے کو مذہبی عقیدہ کی پیروی تسلیم کرتے ہوئے اسکے حق میں رولنگ دیکر امریکی سپریم کورٹ نے ماتحت عدالت کو مزید سماعت کیلئے مقدمہ بھجوا دیا ۔ اور اس رولنگ سے توقع ہے کہ ماتحت عدالت بھی اسکارف کے حق میں فیصلہ دے گی۔ جو مسلم خواتین کےا سکارف پہننے کے حق میں فیصلہ ہو گا لیکن تجربہ کار عقابی رویئے رکھنے والے ری پبلکن سینیٹر لنڈ سے گراہم کا مسلمانوں کے خلاف بیان امریکہ کے مسلمانوں کیلئے توجہ اور تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ گو کہ یہ بیان مسلم دنیا کیلئے بھی توجہ اور تشویش کا باعث ہونا چاہئے تھا مگر مسلم دنیا کے حکمران تو اپنے عوام کے مسائل سے لاتعلق ہو کر خود آپس ہی میں ایک دوسرے سے دست و گریبان ہیں۔

شیعہ ،سنی ،عرب، و غیر عرب، عقیدوں اور روایات کے اختلافات کے ساتھ ساتھ علاقائی، فقہی اور قبائلی تقسیم کو مسلمان حکمران بھی ہوا دے رہے یں۔ انہیں اس بات کی پرواہ نہیں ہے کہ مسلم دنیا کے عوام پر اس کے اثرات کیا مرتب ہوں گے ؟ بعض مسلم حکمراں تو اس خوش فہمی میں ہیں کہ ان کے عالمی سرپرست اور آقا کے اشاروں اور احکامات اور مفادات کی تعمیل کرتے رہنے سے ان کی حکمرانی اور مفادات بدستور محفوظ رہیں گے لیکن اس بار وہ یہ حقیقت بھول رہے ہیں کہ عالمی حکمت عملی اور مستقبل کا نقشہ تیار کرنے والوں نے مسلم دنیا کے عوام کو مزید انتشار میں دھکیلنے کے ساتھ ساتھ ان حکمرانوں کو بھی ’’بلڈوز‘‘ کرنے کا پلان بھی تیار کر رکھا ہے۔ کیونکہ انتہائی منتشر کمزور اور پسماندہ مسلم دنیا ہی اس صدی اور اور اہل مغرب کی ضرورت ہے۔

فی الحال تو امریکی ریاست سائوتھ کیرولینا کے سینئر سینیٹر لنڈ سے گراہم کا وہ بیان توجہ، تشویش اور تجزیہ کا طالب ہے جو انہوں نے امریکی صدارت کیلئے اپنی امیدواری کا اعلان کرتے ہوئے کیا ہے۔ سینیٹر لنڈسے گراہم امریکی ریاست سائوتھ کیرو لینا سے تیسری مرتبہ منتخب سینیٹر ری پبلکن پارٹی کے موثر رہنما سینیٹر جان مکین کے منہ بولے نظریاتی بیٹے اور متعدد بار ایوان نمائندگان میں 60 فیصد ووٹ لے کر الیکشن جیتنے والے کانگریس میں بھی رہ چکے ہیں۔ خواہ وہ امریکی صدارت اور اپنی پارٹی کی نامزدگی پر نہ جیتیں لیکن ان کے بیانات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ اس بات کا پتہ دیتا ہے کہ امریکہ کی داخلی سیاست میں سیکولر ازم کے ساتھ ساتھ امریکی کی ’’بائبل بیلٹ‘‘ اور مذہبی اثرات کی حامل ریاستوں کے سیاستدانوں کی ایک مضبوط لابی کا متحرک وجود ہے جو عالمی اور امریکا کی داخلی سطح پر اپنا ایجنڈہ بھی رکھتی ہے ۔سینیٹر لنڈسے گراہم ایسے ہی حلقوں میں مقبول ہیں۔

یہ الگ بات ہے کہ ریاست سائوتھ کیرولینا کی گورنر امرتسر انڈیا سے امریکہ آنے والے اجیت سنگھ رندھاوا اور راج کور رندھاوا کے ہاں پیدا ہونے والی بیٹی نرمتا نکی رندھاوا جو اب امریکی سے شادی اور تبدیلی مذہب کے بعد ’’ نکی سیلی‘‘ کہلاتی ہیں وہ سائوتھ کیرولینا کی تاریخ میں پہلی خاتون گورنر ہیں اور سینیٹر لنڈسے گراہم اور مٹ رومنی سے بڑی سیاسی قربت رکھتی ہیں۔ بہرحال سینیٹر لنڈسے گراہم نےانتخابی مہم کا آغاز کرتے ہوئے کہا ہے ’’ میں صدر بن کر ان دشمنوں کا خاتمہ کرنا چاہتا ہوں جو ہم کو ختم کر دینا چاہتے ہیں۔مقصد صرف ان کو سزا، تنقید، مخالفت یا ان کو روکنا ہی نہیں بلکہ ان کو شکست دینا ہے۔ بات سادہ ہے انتہا پسند دندناتے پھر رہے ہیں، وہ بڑی تعداد میں ہیں دولت مند اور ڈٹے ہوئے مضبوط ہیں۔

میں صدر بن کر ان کو چھوٹا غریب اور فرار ہونے پر مجبور کر کے رہوں گا ۔اس سے قبل بھی وہ بیان دے چکے ہیں کہ داعش اور دیگر دہشت گرد گروپوں کو صدر اوباما متشدد انتہا پسند ’’گروپ کی بجائے انہیں‘‘ ریڈیکل اسلام کے پیروکار  کا نام دیں۔ سینیٹر گراہم مزید کہتے ہیں کہ ’ انہوں نے دنیا بھر میں خلافت قائم کرنے کی ایک ہزار سال پرانی مذہبی تھیوری کو اپنا رکھا ہےجو ہر عیسائی یہودی اور سبزیاں کھانے والوں (Vegetarian) اور ان کی راہ روکنے والوں کو یا تو تبدیلی مذہب پر مجبور کر دیں گے یا پھر قتل کر دیں گے۔ یہ اس وقت تک نہیں رکیں گے جب تک آگے بڑھ کر ان کو روکا نہیں جائے گا‘‘ سینیٹر گراہم نے ’’ریڈیکل اسلام‘‘ مذہب اسلام، اور عام انسان کے ’’اسلام ‘‘ کے مابین کوئی فرق بھی بیان نہیں کیا۔ یہ بھی نہیں بتایا کہ وہ ’’کیسےمسلمانوں کو قابل قبول سمجھتے ہیں؟

بلکہ وہ یہ کہتے ہیں کہ میں انپے ملک (امریکہ) کے بارے میں کبھی اتنا فکر مند نہیں ہوا جتنا کہ آج انتہا پسند اسلام کے ہاتھوں فکر مند ہوں اور گراہم کے ان بیانات کا تجزیہ آپ خود فرما کر اپنا نتیجہ اخذ کر لیں لیکن امریکیوں پر یہ واضح کرنے میں ہمارے مسلم حکمراں اورقائدین ناکام رہے ہیں کہ جس طرح کسی امریکی قاتل ،مجرم اور لوٹ مار کرنے والے کا عیسائی ہونے کے باوجود کوئی مذہب نہیں ہوتا اسی طرح مسلمان ناموں والے دہشت گردوں انتہا پسندوں اور قاتلوں کو بھی مذہبی شناخت دینا مناسب نہیں۔ جس طرح امریکی سیریل قاتل کی مذہبی شناخت کی بجائے جرم کی شناخت کر کے قاتل کہا جاتا ہے اس طرح دہشت گردوں اور تباہی پھیلانے والوں کو ان کے جرم کی شناخت دینی چاہئے۔

بہرحال امریکی مسلمان اور ان کی تنظیمیں امریکی انتخابی سیاست میں اس مرتبہ کیسے اور کیا سرگرمی دکھاتی ہیں یہ جلد ہی سامنے آ جائے گا۔ امریکہ کی مسلم تنظیموں کو چاہئے کہ وہ دہشت گردی اور قتل وغارت میں ملوث تنظیموں سے لاتعلقی ،مذمت اور ان کی نشاندہی کرتے ہوئے امریکی رائے عامہ کو بتائیں کہ مسلمان نام کا حامل قاتل اور عیسائی نام کا حامل قاتل دونوں ہی یکساں طور پر سزا کے مستحق اور قابل مذمت مجرم ہیں ۔ دونوں کے فعل کو مذہبی شناخت دینا درست نہیں ہے۔ امریکہ کے مسلمان دانشور ،وکلا اور مساجد کے مذہبی قائدین امریکیوں سے ڈائیلاگ کیلئے میدان میں آئیں۔ عقل و دلیل اور شائستہ رویوں کے ساتھ امریکہ کے سا ت ملین مسلمانوں کو اپنی بقا اور مستقبل کیلئے میدان میں آنا ہو گا۔ امریکی انتخابی سیاست اور پارٹی رکنیت کے ذریعے اپنے لئے گنجائش پیدا کرنا ہو گی ۔

عظیم ایم میاں
بہ شکریہ روزنامہ جنگ 

No comments:

Powered by Blogger.