Header Ads

Breaking News
recent

فلسطینی بچوں کا قاتل اسرائیل اقوام متحدہ کی فہرست سے باہر

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون نے مسلح تنازعات میں بچوں کو ہلاک یا زخمی کرنے والے ممالک سے متعلق رپورٹ میں اسرائیل کا نام شامل نہیں کیا ہے جبکہ عالمی ادارے کے بعض حکام نے اس کی سفارش کی تھی۔
البتہ بین کی مون نے اسرائیل کی جانب سے کم عمر بچوں کے خلاف بڑے پیمانے پر تشدد کے استعمال پر کڑی تنقید کی ہے اور اس کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔
انھوں نے یہ رپورٹ سوموار کو جاری کی ہے اور اس میں ہزاروں فلسطینیوں کی ہلاکتوں پر اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی قانون کی پاسداری نہ کرنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ''کسی بھی فوجی کارروائی میں لڑاکا جنگجوؤں اور شہریوں کے درمیان تمیز کی جانی چاہیے۔ طاقت کا استعمال متناسب ہونا چاہیے اور اس کے بے مہابا استعمال سے گریز کیا جانا چاہیے''۔

مسلح تنازعات میں بچوں سے سلوک سے متعلق اقوام متحدہ کی خصوصی ایلچی لیلیٰ زروغئی نے اسرائیل کا نام ان ممالک اور گروپوں کی فہرست میں شامل کرنے کی سفارش کی تھی جو بچوں کو لڑائی کے لیے بھرتی کرتے ،انھیں قتل کرتے یا ان کے خلاف جنسی تشدد کے ذمے دار ہیں لیکن بعض عہدے داروں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ اسرائیل کا اس فہرست میں نام شامل کرنے کے حوالے سے اختلاف رائے پایا جاتا تھا ۔
سیکریٹری جنرل نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی میں پیش کردہ اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ سنہ 2014ء میں اسرائیلی ،فلسطینی تنازعے میں بچوں کے خلاف تشدد میں ڈرامائی اضافہ ہوا تھا۔غزہ میں گذشتہ موسم گرما میں اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ کے دوران 561 کم عمر بچے شہید  ہوئے تھے اور 4271 زخمی ہوگئے تھے۔     
عالمی ادارے کی اس سالانہ رپورٹ کی ایک اہمیت ہے کیونکہ اس میں جنگی تنازعات میں بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی کرنے والی حکومتوں اور مزاحمت کار گروپوں کے نام شامل کیے جاتے ہیں۔ سلامتی کونسل نے اگست 2009ء میں پہلی مرتبہ ایک قرار داد کے ذریعے اس فہرست کا اجراء کیا تھا اور اس میں اس ارادے کا بھی اظہار کیا تھا کہ کونسل مسلح تنازعات میں بچوں کے تحفظ سے متعلق بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف پابندیاں عاید کردے گی۔
اس سال کی فہرست میں افغانستان ،جمہوریہ وسطی افریقہ ،کولمبیا ،کانگو ،عراق ،مالی ،میانمار ،نائیجیریا ،فلپائن ،صومالیہ ،جنوبی سوڈان ،سوڈان ،شام اور یمن سے تعلق رکھنے والے گروپ شامل ہیں۔اس میں پانچ سرکاری فوجوں کے نام بھی شامل ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2014ء میں جنگی تنازعات میں افغانستان میں سب سے زیادہ 710 بچوں کی ہلاکتیں ہوئی تھی۔عراق 679 ہلاکتوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا تھا اور فلسطینی بچوں کی 557 ہلاکتیں ہوئی تھی۔اس طرح ان کی تعداد تیسرے نمبر پر رہی تھی۔ شام میں خانہ جنگی کے دوران 368 بچے ہلاک ہوگئے تھے۔دنیا بھر کے مختلف علاقوں میں 543 اسکولوں کو تباہ کردیا گیا تھا یا انھیں نقصان پہنچایا گیا تھا۔
اقوام متحدہ میں فلسطینی سفیر ریاض منصور نے بین کی مون کے اسرائیل کا نام شرمناک ممالک اور گروپوں کی فہرست میں شامل نہ کرنے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ یہ بات کسی شک وشبہ سے بالاتر ہو کر اور بلا خوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ اسرائیل نے منظم انداز میں فلسطینی بچوں کے خلاف ننگی جارحیت کا ارتکاب کیا ہے ۔

No comments:

Powered by Blogger.