Header Ads

Breaking News
recent

مجھے کیوں بچا لیا

چونکہ مقامی میڈیا نے ہمیں کنوئیں کا مینڈک بنا ڈالا ہے لہذا اکثریت کو اندازہ ہی نہیں ہو پاتا کہ دنیا میں اس وقت سب سے بڑی خبر اور مسئلہ کیا ہے۔ کیا آپ کو کسی اخبار یا مقامی چینل سے معلوم ہوا کہ اس وقت ہزاروں لوگ خستہ حال کشتیوں میں لیبیا کے ساحل سے اسمگل ہو کر یورپ جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ان ہی میں شام سے روانہ ہونے والا زہیری خاندان بھی ہے جس کی یہ پانچویں ہجرت ہے۔ انیس سو اڑتالیس میں اپنی جنم بھومی فلسطین سے نکالا گیا۔ انیس سو ستر میں اردن کے مہاجر کیمپ سے نکالا گیا۔ انیس سو بیاسی میں لبنان میں سیدون پناہ گزیں کیمپ سے نکالا گیا اور پھر دمشق کے قریب بشار الاسد کی فوجوں اور القاعدہ کے النصرہ فرنٹ کی جانب سے طویل محاصرے کے نتیجے میں بھک مری سے تنگ یرموک فلسطینی کیمپ چھوڑنے پر مجبور ہوا اور اسمگلروں کو جمع پونجی حوالے کر کے لبنان کے ساحل سے لانچ میں لیبیا تک پہنچایا گیا۔ اور پھر یہاں تین چار ماہ تک ہر طرح کا کام کر کے اتنے پیسے جمع کیے جو اٹلی کے ساحل تک پہنچانے والے اسمگلرز کو دیے جا سکیں۔
پھر یہ ہوا کہ اطالوی جزیرے لمپا ڈوسا کے قریب چار سو پناہ گزینوں سے بھری کشتی ڈوب گئی۔ اس کشتی میں گیمبیا سے آٹھ ملک پار کر کے لیبیا پہنچنے والے ابوبکر کا خاندان بھی تھا۔ صومالیہ سے تین ملک پار کر کے آنے والا جواں سال مسوینی بھی تھا اور کانگو سے اچھی زندگی کی تلاش میں سات ماہ تک جانے کیسے کیسے راستے اختیار کر کے لیبیا پہنچنے والا امبوکو بھی تھا۔ جب اطالوی بحریہ جائے وقوع پر پہنچی تو آٹھ رکنی زہری خاندان میں سے صرف ایک آٹھ سالہ بچی نبیہہ، اس کا ماموں اور چچا بچ پائے۔ نبیہہ کے دادا، والدہ، دو بھائی اور ایک پھوپھی ڈوب گئے۔ آج نبیہہ اپنے ماموں اور چچا کے ہمراہ لمپا ڈوسا کے نظربندی کیمپ میں منتظر ہے کہ اطالوی انھیں سفری دستاویزات جاری کریں گے یا واپس لیبیا ڈی پورٹ کر دیں گے اور لیبیائی انھیں واپس شام بھیج دیں گے کہ جہاں زندگی موت سے بچنے کے لیے بھاگتی پھر رہی ہے۔

دنیا میں تین کاروبار سب سے منافع بخش ہیں۔ اسلحہ، منشیات اور انسانی اسمگلنگ۔ اسلحہ اور منشیات انسان کو ایک بار ہی جان سے مار دیتے ہیں۔ مگر انسانی اسمگلنگ کا شکار اپنی بے کسی، پکڑے جانے کے خوف، بلیک میلنگ، بیگار مشقت اور جنسی استحصال کے امکانی ہاتھوں روز جیتا روز مرتا ہے۔ بیکس بوڑھے، جوان، بچے بچیاں بہتر اور محفوظ زندگی کے خواب کی تعبیر میں جس سفر پے روانہ ہوتے ہیں اس کا اختتام عموماً جہنم کے دروازے پر ہوتا ہے۔
پھر بھی ہر سال پچیس لاکھ لوگ انسان نما بھیڑیوں کے ہتھے چڑھ کے صرف خود کو نہیں اپنے خاندانوں کو بھی ذہنی سولی پر جھلاتے ہیں اور انھیں عذاب میں دھکیلنے والے اسمگلرز چھبیس تا بتیس ارب ڈالر سالانہ کماتے ہیں۔ 
انسانی دکھ کے گارے سے اٹھائے اس حمام میں سبز باغ دکھانے والے ایجنٹوں سے لے کر ٹرانسپورٹروں اور خوش لباس اہلکاروں تک سب ننگے ہیں۔ یہ ایسا جال ہے جس میں پھنسنے والے سو میں سے صرف ایک شکار ہی سلامت نکلتا ہے۔

صرف گزشتہ برس ہی چار لاکھ کے لگ بھگ افراد نے انسانی اسمگلروں کی مدد سے مختلف سمندر عبور کر کے اپنی تصوراتی جنت تک پہنچنے کی کوشش کی۔ ان میں سے دو لاکھ سات ہزار بحیرہ روم عبور کر کے لیبیا سے اٹلی پہنچے۔ بیاسی ہزار چھ سو اسی یمن اور سعودی عرب کے ساحل سے بحیرہ قلزم پار کر کے براستہ ایتھوپیا، سوڈان و مصر لیبیا پہنچے۔

چون ہزار نے خلیجِ بنگال اور آبنائے ملاکا عبور کر کے آسٹریلیا تک جانے کی کوشش کی۔ پانچ ہزار کے لگ بھگ افراد نے جزائر کیریبین کے راستے امریکا میں داخل ہونے کی کوشش کی اور باقیوں نے ترکی اور یونان کے درمیان بحیرہ ایجین عبور کرنے کی کوشش کی۔ ان میں سے لگ بھگ پانچ ہزار سمندروں میں ڈوب کر ہلاک ہوئے۔ جو ہزاروں بدقسمت خواب دیکھنے والے خشک راستوں میں کنٹینرز میں دم گھٹنے یا سرحدی محافظوں کی گولیوں کی بھینٹ ہوئے وہ الگ ہیں۔ صرف اس برس کے پانچ ماہ کے دوران شمالی افریقہ سے یورپ جانے کے لیے بحیرہ روم عبور کرتے ہوئے دو ہزار سے زائد تارکینِ وطن ڈوب چکے ہیں۔
( ویسے تو افریقی تارکینِ وطن مراکش کے راستے سمندر عبور کر کے اسپین پہنچنے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن ان دنوں طوائف الملوکی کے شکار لیبیا میں مقامی قبائل اور جنگجو ملیشیاؤں کے تعاون سے انسانی اسمگلنگ کی سنڈیکیٹس کھلے عام انٹرنیٹ پر اشتہارات شایع کر کے دونوں ہاتھوں سے زر کی گنگا نہا رہی ہے)۔
زندگی اس قدر تنگ ہے کہ اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق ایک سو باون ممالک کا کوئی نہ کوئی شہری اس وقت ایک سو چوبیس ممالک میں کہیں نہ کہیں اسمگل شدہ زندگی گزار رہا ہے۔ ان میں سے تریپن فیصد تارکینِ وطن جنسی استحصال کا نشانہ بنتے ہیں اور چالیس فیصد جبری مشقت کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ صرف سات فیصد ایسے ہوتے ہیں جو بالاخر اپنے من پسند ملک میں قانونی شہری بننے میں کامیاب ہوتے ہیں۔

پاکستان بھی ان ممالک میں ہے جہاں بڑی تعداد میں غیرملکی باشندے اسمگل ہو کر آتے بھی ہیں اور مقامی باشندے بیرونِ ملک جاتے بھی ہیں۔ اس وقت پاکستان میں تین سے پانچ ملین کے درمیان غیر ملکی غیر قانونی طور پر رہ رہے ہیں۔ ان میں افغان، بنگلہ دیشی، ایرانی، بھارتی، برمی اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے باشندے سب سے زیادہ ہیں۔

( پاکستان مارطانیہ اور ہیٹی کے بعد ملکی آبادی کے تناسب سے جبری غلاموں کی اوسط تعداد کے اعتبار سے تیسرا بڑا ملک ہے۔ بھارت چوتھے نمبر پر ہے)۔
پاکستان سے یورپ اور خلیجی ریاستوں میں اسمگل ہونے والوں کی ایک بڑی تعداد کا تعلق پنجاب کے وسطی و جنوبی علاقوں اور خیبر پختونخوا وغیرہ سے ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ادارے یو این ڈی ای سی کے مطابق دو ہزار تیرہ میں لگ بھگ ایک ہزار مقامی انسانی اسمگلنگ نیٹ ورکس نے اس دھندے سے تقریباً ایک ارب ڈالر کمائے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کی ریڈ بک (دو ہزار تیرہ) کے مطابق بیشتر اسمگلنگ سینڈیکیٹس کے لگ بھگ آٹھ ہزار کارندے وسطی پنجاب (زیادہ تر گوجرانوالہ، گجرات، منڈی بہاؤ الدین، سیالکوٹ) اور آزاد کشمیر میں سرگرم ہیں اور ان کی پشت پر طاقتور سیاسی و انتظامی ہاتھ ہیں۔ ان میں سے ایک سو اکتالیس گروہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو شدت سے مطلوب ہیں (پھر بھی پکڑے نہیں جاتے)۔

انسانی اسمگلر گوادر سے اومان یا کوئٹہ سے ایران اور ترکی کے راستے یونان یا پھر وسطی ایشیائی ممالک سے براستہ روس مشرقی یورپ کی راہداری استعمال کرتے ہیں۔ ایف آئی اے کے مطابق دو ہزار نو سے تیرہ کے پانچ برس میں صرف پاک ایران سرحد غیر قانونی طور پر عبور کرنے والے تقریباً باسٹھ ہزار افراد کو روکا گیا۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت لگ بھگ آٹھ ہزار پاکستانی بیرونِ ملک جیلوں میں ہیں۔ (یہ ان کے علاوہ ہیں کن کے بارے میں پاکستانی حکومت کا دعوی ہے کہ دو ہزار آٹھ سے دو ہزار تیرہ کے درمیان پانچ ہزار چھ سو پینسٹھ پاکستانیوں کو بیرونی جیلوں سے رہائی دلوائی گئی)۔

کتنے پاکستانی گزشتہ پانچ برس میں غیر قانونی طور پر بیرونِ ملک اسمگل ہوئے؟ اس بابت شائد کبھی بھی حتمی حقائق سامنے نہ آ سکیں لیکن بیرونِ ملک سے بے دخل ہونے والوں کی تعداد سے معاملے کی سنگینی کا اندازہ ضرور ہو سکتا ہے۔

مثلاً دو ہزار نو سے تیرہ کے پانچ برس میں پاکستان نے چھبیس ہزار غیر ملکی باشندے دو درجن ممالک کے حوالے کیے۔ اس کے برعکس اسی عرصے میں چون ممالک سے تین لاکھ اسی ہزار پاکستانی ڈی پورٹ ہوئے(یعنی دو سو آٹھ فی دن)۔ ان پاکستانی ڈی پورٹیز کی ستر فیصد تعداد پانچ برادر اسلامی ممالک سے نکالی گئی۔ (سعودی عرب ایک لاکھ بائیس ہزار، متحدہ عرب امارات تریسٹھ ہزار، ایران تینتالیس ہزار، اومان اکتیس ہزار، ترکی ساڑھے چھ ہزار)۔ جب کہ یونان سے لگ بھگ پندرہ ہزار، سربیا سے ساڑھے چھ ہزار اور جنوبی افریقہ سے دو ہزار پاکستانی معیاد سے زائد رکنے اور جعلی سفری دستاویزات رکھنے جیسے جرائم میں ڈی پورٹ ہوئے۔

کوئی حل ہے؟ کہتے ہیں کہ بنیادی سہولتیں مل جائیں تو کون زمین چھوڑتا ہے۔ اور بنیادی سہولتیں نہ بھی ملیں تو بھی بہت کم لوگ زمین چھوڑیں گر مُٹھی بھر امن ہی میسر آ جائے۔

تیل سے مالا مال مگر سب سے کرپٹ افریقی ملک نائجیریا کی بائیس سالہ ہیئر ڈریسر علیمہ کو جب اطالوی کوسٹ گارڈز نے سمندر سے نکالا تو وہ چیخ رہی تھی ’’اگر میں اپنے ملک میں خوش ہوتی تو ماں کو پیچھے چھوڑ کے راستے میں ریپ، اغوا، غلامی اور موت کے خوف کے باوجود انجان مستقبل کی تلاش میں کیوں نکلتی۔۔ مجھے تم نے کیوں بچا لیا کتو۔۔۔۔

وسعت اللہ خان

No comments:

Powered by Blogger.