Header Ads

Breaking News
recent

اقتصادی دہشت گرد


احتساب حرکت میں آتا ہے۔۔۔ اُن کے فرنٹ مین دھر لیے جاتے ہیں۔۔۔ اُن سے تحقیقات کے دوران خوفناک حقائق سامنے آتے ہیں کہ 230 ارب روپے کی رقم کا کون کون حصے دار ہے تو انجانے خدشے کے تحت وہ رضاکارانہ بیرون ملک فرار ہو جاتے ہیں۔ پہلے اُن کا سرمایہ بیرون ملک پرواز کرتا ہے اور بعد ازاں وہ بنفس نفیس عازمِ پرواز ہوتے ہیں۔ وہ تن تنہا فرار نہیں ہوتے بلکہ مع اہل و عیال وقتی طور پر مملکت خداداد کی حدود سے روپوش ہو جاتے ہیں۔ جب وہ محسوس کرتے ہیں کہ احتسابی عمل سست پڑ چکا ہے، تو میثاق جمہوریت کے یہ دستخط کنندگان وطن واپسی کا پلان بناتے ہیں۔ آخر کیا وجہ ہے کہ بدعنوانی کے سمندر کے یہ مگرمچھ احتساب کے ہر جال کو توڑ تاڑ کر بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

گزشتہ 27 برسوں سے بدعنوانی کا عمل کسی نہ کسی رنگ اور عنوان سے جاری رہا۔ نیب نے بدعنوانوں کی سرکوبی کو اپنا نصب العین قرار دیا تھا، لیکن احوال و وقائع بتاتے ہیں کہ نیب کی کارکردگی بدعنوان عناصر سے پلی بارگیننگ کی وجہ سے عوامی حلقوں میں تنقید کا مورد بھی بنتی رہی۔ بدعنوانوں سے مذاکرات اور سودے بازی کسی بھی طور درست نہیں۔ بدعنوانوں سے لوٹی ہوئی قومی دولت کی بازیابی کوئی ایسا مشکل نہیں ہے کہ اسے سالہاسال کی قانونی موشگافیوں اور تاخیری حربوں کی بدولت معرض التواء میں ڈالا جاتا رہے۔ جہاں تک محکمہ اینٹی کرپشن کا تعلق ہے تو اس محکمہ کے بارے عوامی، شہری، سیاسی، سماجی اورباخبر حلقوں میں اچھے تاثرات نہیں پائے جاتے۔ بعض لوگ تو اس محکمہ کو کرپٹ عناصر کی دیدہ دلیریوں کے باعث ’’محکمہ آنٹی کرپشن‘‘ کہنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔
محکمہ آنٹی کرپشن کی یہ طنزیہ ترکیب محض عوام کی شوخئ طبع ہی کی آئینہ دار نہیں بلکہ یہ تلخ ترین حقائق کی بھی نرم ترین الفاظ میں عکاسی کرتی ہے۔ عمومی تاثر یہی ہے کہ محکمہ اینٹی کرپشن کے اہلکار بھی کرپٹ عناصر سے لوٹی ہوئی دولت کی بازیابی کے بجائے مک مکا کی گھسی پٹی تکنیک ہی کو افادہ رساں تصور کرتے ہیں، فرق اتنا ہے کہ اس محکمہ کے افسران کے ’’ریٹس‘‘ قدرے گراں ہیں۔ جب صورت حال یہ ہو تو یہ کیسے باور کر لیا جائے کہ یہ محکمہ کرپشن کے انسداد کیلئے کوئی موثر اور نتائج آفریں کردار ادا کر سکتا ہے۔بدعنوانی کے خلاف سرگرم عمل اکثر سرکاری محکموں کے بارے عوامی رائے تو یہی ہے کہ یہ مینڈکوں کو پکڑ لیتے ہیں اور مگرمچھوں پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت نہیں کرتے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ بدعنوانی اور کرپشن اوپر سے نیچے تک ایک بے روک وباء کی طرح سرایت کر گئی ہے، آئے روز اخبارات سرکاری محکموں میں موجود اعلیٰ سطحی بیوروکریسی اورماتحت اہلکاروں کی بدعنوانیوں کی داستانوں کے’’ وائٹ پیپر‘‘ شائع کرتے ہیں۔ اس ضمن میں مختلف پارلیمانی اداروں میں قائم پبلک اکاؤنٹس کمیٹیوں نے بھی بدعنوانی کو بے نقاب کرنے کیلئے حوصلہ افزاء اقدامات کئے ہیں۔ وزیراعظم سے چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ میں ہرایک بدعنوانی کی بیخ کنی کی یقین دہانی ایک تسلسل کے ساتھ کروا رہا ہے۔ اس کے باوجود بدعنوانی ہے کہ خودرو جھاڑیوں کی طرح پھل پھول رہی ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ بدعنوانی ایک سرکاری و سیاسی روگ بن چکی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جرائم میں سے بدعنوانی ایک قبیح ترین جرم ہے۔ افسوسناک بات تو یہ ہے کہ اس جرم کی پرورش، پذیرائی اور سرپرستی ہمیشہ اعلیٰ سطحی بیوروکریسی اور بارسوخ سیاسی حکمرانوں کے زیر سایہ ہوتی رہی۔

اعلیٰ سطحی بد عنوانی کے مرتکب با رسوخ افراد اکثر و بیشتر لوٹی گئی قومی دولت مغربی ممالک کے مختلف بینکوں میں جمع کرو ادیتے یا د بئی میں مختلف جائیدادوں کی فروخت میں صرف کردیتے ہیں۔لوٹ مار کے فوری بعد ان کی کوشش ہوتی ہے کہ جس قدر جلد ممکن ہو سکے وہ تارک وطن بن کر مغربی ممالک میں منتقل ہو جائیں۔ ستم ظریفی تو ہے کہ لوٹی گئی دولت کی بازیابی اور واپسی کے لئے پاکستان اور مغربی ممالک کے مابین کوئی ایسا معاہدہ موجود نہیں ہے کہ جس سے اس لوٹی گئی دولت کی واپسی ممکن ہو سکے۔اس معاہدے کی عدم موجودگی کا فائدہ وطن دشمن بد عنوان عناصر ہی کو پہنچتاہے۔

اکتوبر 1999ء کے بعد اربابِ حکومت مغربی ممالک کی توجہ متعدد بار اس امر کی جانب مبذول کروانے کی کوشش کر چکے ہیں کہ پاکستان اور ان کے مابین ایسا معاہدہ ہونا چاہیے جس کے تحت حکومتِ پاکستان غصب شدہ قومی دولت کی بازیابی کے لئے چارہ جوئی کر سکے۔

 مئی 2003ء کو اسلام آباد میں پاکستان اوربرطانیہ کے عدالتی تعاون کے مشترکہ ورکنگ گروپ کے 2روزہ منعقدہ اجلاس میں برطانیہ نے پاکستان کو مطلوب افراد اور لوٹی گئی دولت کی واپسی پر قانونی تعاون فراہم کرنے پر بھی رضا مندی ظاہر کی تھی۔ اجلاس میں دہشت گردی، مالیاتی امور اور منی لانڈرنگ کے خلاف پاکستانی مذاکرات کاروں نے بھرپور روشنی ڈالی تھی۔ خوش خبری سنائی گئی تھی کہ اس سلسلے میں عنقریب بعض اصولوں کا تعین کیا جائے گا، جنہیں آئندہ اجلاس میں غور و فکر کے لئے پیش کیا جائے گا۔ یہ آئندہ اجلاس کب ہوا اور اس میں کیا طے پایا عوام الناس اس سے بے خبر ہیں۔ لوٹی گئی قومی دولت اور پاکستان کو مطلوب افراد یہ اہم، حساس اور سنگین ترین نوعیت کے مسائل ہیں۔ ڈھیروں دولت لوٹنے کے بعد مطلوب افراد مغربی ممالک میں قانونی سہولیات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے سیاسی پناہ حاصل کر لیتے ہیں۔ ان دنوں بھی ان ممالک میں عدالتی مطلوب افراد کی ایک بھاری تعداد سیاسی پناہ کے قانون کی ڈھال کے پیچھے پناہ گزین ہیں۔

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ طاقتور اور با رسوخ بیوروکریٹس اور سیاستدان ماضی میں اربوں ڈالر مالیتی رقم بیرونِ ملک منتقل کرنے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔ آج بھی امریکی ریاستوں اور مغربی ملکوں کے مختلف بینکوں میں ان عناصر کے اربوں ڈالر خفیہ کھاتوں میں محفوظ ہیں۔پاکستان پر بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور ترقی یافتہ ممالک کے کل قرضوں کا جتنا حجم ہے اس سے کم از کم چار گنا زائد حجم کا غصب شدہ سرمایہ ان افراد کی ذاتی تجوریوں میں محفوظ ہے۔

مغرب میں کالی دولت کو سفید کرنے کے قوانین اور آف شور کمپنیوں کے وجود ان لٹیرے عناصر کو ہمہ جہتی تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ قومی خزانے پر نقب لگا کر حاصل کی گئی رقم کسی بھی صورت بد عنوان عناصر کی ذاتی مِلک نہیں ہوتی۔ یہ بنیادی انسانی حقوق کی بھی سراسر خلاف ورزی ہے کہ ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک کے مقتدر طبقات کروڑوں افراد کی فلاح و بہبود کے لئے مختص رقوم، عالمی مالیاتی اداروں سے ملنے والے قرضے اور بین الاقوامی عطیاتی ایجنسیوں کی جانب سے ملنے والی ڈونیشنز تک کو بھی اپنے ذاتی اکاؤنٹس میں منتقل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

حالانکہ ان رقوم پر ان ممالک اور ان کے کروڑوں عوام کا اولین حق ہوتا ہے۔ کروڑوں شہریوں کے حق کی پامالی کرنے والے وطن دشمن اور عوام دشمن عناصر کسی بھی طور بنیادی انسانی حقوق کی آڑ لے کر لوٹی ہوئی قومی دولت کے تحفظ کی قانونی و عدالتی جنگ لڑنے کے مجاز نہیں ہوتے۔
دنیا کا کوئی بھی ملک ڈاکوؤں، لٹیروں ، رہزنوں اور چوروں کو یہ حق نہیں دیتا کہ وہ عوام سے بزور چھینی گئی یا لوٹی گئی رقم پر اپنا ذاتی حق جما سکیں اور ان کی نسلیں بیرونِ ملک بیٹھ کر قومی اور عوامی سرمائے کی بدولت عیش و عشرت اور آسودگی و آسائش سے مزین زندگی بسر کر سکیں۔

یوں تو مغربی ممالک دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اپنی اولین ترجیح قرارد یتے ہیں۔ کیا مالیاتی بد عنوانیاں اقتصادی دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتیں؟ وہ دہشت گرد جو دو چار بم دھماکے کر کے آٹھ دس انسانوں کے خون سے ہولی کھیلنے کی مذموم سعی کرتا ہے یقیناًدنیا بھر کے ممالک کے قوانین کے مطابق قابل گرفت اور قابل مواخذہ ہوتا ہے لیکن کروڑوں افراد کی فلاح و بہبود اور ان کے ممالک کی تعمیر و ترقی کے ہزاروں منصوبوں کواقتصادی بد عنوانی کی بارودی سرنگیں بچھا کر سبوتاژ کرنے والوں اور اربوں سپنوں کا خون کرنے والے عناصر کے خلاف بین الاقوامی دہشت گردی ایکٹ کے تحت کیوں کارروائی نہیں کی جاتی۔

انسانی سمگلنگ بھی یقیناً ایک بڑا جرم ہے لیکن ناجائز دولت کی بیرون ملک منتقلی اس سے بھی قبیح تر اور گھناؤنا جرم ہے۔ قانون کی بالا دستی کے علم بردار مغربی ممالک کو پسماندہ ممالک کے شہریوں کے اس مطالبے سے صرف نظر نہیں کرنا چاہیے کہ وہ عناصر جو اربوں کھربوں کی مالیتی رقوم ’’محفوظ ذرائع‘‘ سے بیرونِ ملک منتقل کرنے کے جرم میں ملوث ہوتے ہیں ، بدترین قسم کی سمگلنگ اور دہشت گردی میں ملوث ہوتے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر امریکی بینکوں اور یورپی ممالک میں بدعنوان عناصر کی موجود رقوم کو ان کے اصل ممالک کے عوام کے ہینڈ اوور کر دیا جائے تو یہ اقدام وہاں خطِ غربت سے نیچے کیڑے مکوڑوں اور خط افلاس سے اوپر جانوروں سے بھی بدتر حالت میں زندگی نامی تہمت سے نبر د آزما ہونے والی انسانیت کی بہتری اور بہبود پر صرف کی جا سکتی ہے۔

حافظ شفیق الرحمان
بہ شکریہ روزنامہ نئی بات

No comments:

Powered by Blogger.