Header Ads

Breaking News
recent

کیا ٹیلی وژن بد تہذیبی سکھا رہا ہے

بہت ہی عجیب ہیں یہ برطانیہ والے۔ پانچ برس کے لئے اپنی تقدیر کا فیصلہ ایسے چپ چاپ کرلیتے ہیں کہ کسی کو پتہ بھی نہیں چلتا۔برطانیہ میں انتخابات یوں ہوتے ہیں جیسے سارا ملک پنجوں پر چل رہا ہو۔ یہ نہیں کہ لوگوں پر الیکشن کا بخار نہیں چڑھتا۔ یوں بھی نہیں کہ ہر گلی کوچے میں،پب اور کافی کی دکانوں میں لوگوں کے درمیان بحث مباحثے نہیں ہوتے۔ خوب ہوتے ہیں۔ اس کے بعد منہ سے ہر قسم کے جھاگ پونچھتے ہوئے اپنے اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں۔ ایک اور دل چسپ بات یہ ہے کہ کون کس کا حامی ہے، کون کس کو ووٹ دے گا ، بات دوسروں سے چھپانے کا یہاں بالکل کوئی رواج نہیں۔ لوگ اپنے گھروں کی سامنے والی کھڑکی میں اپنے پسندیدہ امیدوار یا پارٹی کا پوسٹر بلا خوف و خطر چپکا دیتے ہیں اور کوئی اس کھڑکی کے راستے پتھر بھی نہیں پھینکتا۔ پھر یہ کہ امیدوار چاہے کتنا ہی چھوٹا ہو چاہے کتنا ہی بڑا،ہر دروازے پر دستک دیتا ہے، گھر والوں سے میٹھی باتیں کرتا ہے اور جواب میں کڑوی باتیں سننے کو ملیں تو سر جھکا کر سنتا ہے۔ پھر اپنے دلائل سے اپنا موقف سمجھاتا ہے اور غلط فہمیاں دور کرنے کےلئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتا ہے اور سلام کرکے چلا جاتا ہے۔امید وار آتے رہتے ہیں ، جاتے رہتے ہیں ، بعد میں پڑوسنیں دیر تک تبادلہ ء خیال کرتی ہیں جس میں الیکشن کی بات کم اور ان پڑوسنوں کی عیب جوئی زیادہ ہوتی ہے جو اس گفتگو میں شریک نہیں۔

یہاں الیکشن کی سب سے زیادہ رونق ٹیلی وژن پر ہوتی ہے۔ ہر ایک اپنے منشور، اپنے منصوبے اور اپنے وعدے کھول کھول کر بیان کرتا ہے۔ سب سے زیادہ حیرت انگیز بات اس کے بعد ہوتی ہے۔ وقت کے ساتھ وہ وعدے ہوا میں گھل نہیں جاتے۔ پورے پانچ برس پوری قوم ان وعدوں کا حساب رکھتی ہے، کڑی نگاہ رکھتی ہے اور وعدہ پورا نہ ہورہا ہو تو پارٹی کی اچھی طرح درگت بنتی ہے۔ٹی وی پر جو مباحثے ہوتے ہیں وہ بھی صبر و تحمل اور ضبط و برداشت کا بے مثال مظاہرہ ہوتے ہیں۔ ابھی کچھ روز ہوئے ایک چینل پر مباحثہ ہو رہا تھا جس میں شامل ایک صاحب نے دوسرے کی بات کے اوپر بولنا شروع کردیا۔ (پاکستان کا ٹیلی وژن دیکھتے ہوں گے)۔ اس پر پروگرام پیش کرنے والے نے انہیں ڈانٹ کر خاموش کردیا کہ گفتگو کے اوپر گفتگو کی اجازت نہیں۔

ایک اور عجب بات یہ ہے کہ ان مباحثوں کا نتیجہ مشکلات بھی کھڑی کردیتا ہے۔ مثلاً یہ کہ اگر ہر امیدوار کو اپنا موقف خوب خوب پیش کرنے کا موقع دیا جائے تو غریب ووٹر کے آگے ایک مشکل کھڑی ہوجاتی ہے۔ اسے یہ طے کرنے میں دشواری ہوتی ہے کہ کس پارٹی یا امیدوار کو ووٹ دے۔ اِس تازہ الیکشن میں دو بڑی پارٹیوں میں ووٹر بُری طرح تقسیم ہوا۔ اس کا نتیجہ کچھ بہت خوش گوار نہیں ہوتا۔ دونوں پارٹیاں بڑی اکثریت سے محروم رہتی ہیں اور تنہا حکومت نہیں بناسکتیں۔ اس کے بعد سیاسی جوڑ توڑ شروع ہوتا ہے۔ اگلا مرحلہ اسی لین دین کا ہوگا لیکن قیاس کہتا ہے کہ یہ لوگ اس مرحلے کو سرکرلیں گے کیونکہ ایسے معاملوں میں ان کے تدبّر کا جن بوتل سے نکل آتا ہے۔

اس بارے میں بھی ملک میں خوب گرما گرمی ہوئی لیکن ایک بات طے ہے، کبھی کوئی یہ نہیں کہے گا کہ یہ میڈیا ٹرائل ہو رہا ہے۔ پاکستان میں ہو تو ہو ، برطانیہ کی زبان میں یہ لفظ سرے سے رائج ہی نہیں۔ یہاں ٹرائل تو ہوتا ہے اور بڑی دیانت داری سے عدالت میں ہوتا ہے مگر میڈیا ٹرائل کا یہاں کوئی چلن نہیں۔ اہل برطانیہ نے بھولے سے ٹونی بلئیر کو دوبارہ منتخب کرلیا تھا۔ ان کا میڈیا ٹرائل نہیں ہوا۔ سچ پوچھئے تو ٹرائل بھی نہیں ہوا۔ وہ شخص ہوا کا رُخ دیکھ کر خود ہی اپنی کرسی چھوڑ گیا۔ ہماری طرف ایسا کوئی رواج نہیں۔

میڈیا ٹرائل کی بات چلی تو پاکستان کے ٹیلی وژن پر بات کرنے کو جی چاہتا ہے۔ کتنا فرق ہے اور کتنا تکلیف دہ فرق۔ یہاں ایک بار لندن کے سابق مئیر اور ان کے ایک حریف کے درمیان ٹیلی وژن پر مباحثہ کرایا گیا۔دونوں سینہ تان کر ایک دوسرے کے قریب یوں آگئے جیسے دو مرغے لڑ رہے ہوں۔ بالکل یوں لگا کہ اب اچھل اچھل کر ایک دوسرے کو ٹھونگیں ماریں گے۔ لیکن دونوں نے اپنی آوازیں یوں دبالیں کہ کہیں پڑوسی نہ سُن لیں۔ معاملہ یوں نہیں تھا کہ جو جتنی اونچی آواز میں بولے گا اتنی ہی طاقت ور اس کی دلیل ہوگی۔ جتنی دیر ایک بولتا تھا ، دوسرا چپ سادھے رہتا، جب پہلے والے کا جملہ مکمل ہوجاتا تو دوسرا بولتا۔ دونوں کیا کہہ رہے تھے، صاف سمجھ میں آ رہا تھا۔ یہی میڈیا کا کمال ہے کہ ہر لفظ نہ صرف یہ کہ سمجھ میں بھی آئے بلکہ دل میں بھی اترجائے۔

مگر میں دل مسوس کر رہ جاتا ہوں جب پاکستان کے ٹیلی وژن پر وہ پروگرام دیکھتا ہوں جنہیں وہاں ٹاک شو کہاجاتا ہے جن میں ٹاک زیادہ ہوتی ہے اور شو کم۔ اور جس لمحے ان پروگراموں میں بدتہذیبی شروع ہوتی ہے میں دل ہی دل میں دعا مانگتا ہوں کہ ہمارے نوجوان لڑکے لڑکیاں یہ پروگرام نہ دیکھ رہے ہوں۔ خوف یہ ہوتا ہے کہ ایسے رویّے دیکھ کر بچّے کہیں یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ یہی ہمارے بڑوں کا بھی چلن تھا اور یہی ہماری تہذیب اور یہی ہمارا تمدّن ہے۔ جب ایک شخص بول رہا ہو اور دوسرا بے چین اور مضطرب شخص بھی بولنا شروع کردے تو اس کو کہہ سکتے ہیں: ’ٹُچی‘حرکت۔ کسی کی بات کاٹنا، بات میں مخل ہونا، بدتمیزی کے زمرے میں آتا ہے۔ اس معاملے میں دو ایک نیوز چینل مجھے بہت پریشان کرتے ہیں۔

یہ ایک عجیب طرز عمل ہے کہ نیوز ریڈر اپنے رپورٹر کا آخری جملہ ضرور کاٹتا ہے اور اس کی بات خود پوری کرتا ہے یا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مثال کے طور پر جس وقت نامہ نگارکہہ رہا ہوتا ہے کہ ’ اس واقعے کی ایک خاص بات یہ ہے‘ عین اسی وقت اسٹوڈیو میں بیٹھاہوا یا بیٹھی ہوئی نیوز ریڈر رٹے رٹائے شکریہ کے ساتھ اس کی بات کاٹ دیتی ہے۔ کسی کی بات کاٹنا تہذیب کے دائرے سے خارج ہے۔ اور اگر رپورٹر اپنی کہانی کو بلا سبب طول دیتے ہیں تو ان کو بلا کر ان کی تربیت کرنی چاہئے۔ کچھ بھی ہو،آخری جملے کو بیچ سے کاٹنا سرا سر بد تمیزی ہے جسے دیکھ کر ہماری نئی نسل کہیں یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ یہ بھی درست اور جائز ہے۔ بعض خواتین چیخ کر اور چلّا کر خبریں پڑھتی ہیں۔ یہ اس معاشرے کی خواتین ہیں جن کی آواز کبھی گھر کی چاردیواری سے باہر نہیں جاتی تھی۔ مانا کہ زمانہ بدل گیا ہے تو یہ کریں، نیوز ریڈر خواتین ذرا کم چلّائیں۔
ٹی وی پر ایک اور منظر بڑی تکلیف دیتا ہے۔ جب توتو میں میں حد سے بڑھ جاتی ہے اور قریب ہوتا ہے کہ ہاتھا پائی کی نوبت آجائے اس وقت جھگڑے کا کوئی ایک فریق اپنا ہیڈ فون اتار کر اور حقارت سے پٹخ کر اپنی نشست سے اٹھ جاتا ہے اور بھنّاتا ہوا اسٹوڈیو سے باہر نکل جاتا ہے۔

اس سلسلے میں آخری بات اور دل کو بہت بہت دکھانے والی بات کہ جب لوگ تہذیب کی آخری حد کو پھلانگ کر واہی تباہی پر اتر آتے ہیں اور جو منہ میں آجائے کہنے لگتے ہیں۔ بات بڑھتے بڑھتے گھر کی خواتین کے دامن کو جلانے لگتی ہے ،وہی پاکیزہ آنچل جس میں چھپا ہوا عزت اور عفّت کا چراغ ٹمٹمانے لگتا ہے اس وقت ایک جھرجھری سی طاری ہوتی ہے ۔

اس پر کچھ لوگ اہل زبان ہونے کا دعویٰ جتاتے ہیں ۔ اس سے خدا جانے ان کی کیا مراد ہوتی ہے۔ اہل زبان تو گھٹیا سے گھٹیا بات اس خوبی سے ادا کرتے ہیں کہ بالکل یوں لگے جیسے کھنکتی چاندی کے ٹھنڈے یخ کٹورے میں صندل کا شربت گھولا جارہا ہو۔ ہے تو یہ لطیفہ لیکن اس موقع پر لکھے جانے کے لئے بے چین ہے کہ ایک مرتبہ لکھنئو کے تانگے کی سواری کرتے ہوئے کوچوان کو سُنا جو اپنی سست رفتار گھوڑی کو چابک مارتے ہوئے اُس سے کہہ رہا تھا کہ ’’دیکھئے، چلی چلئے ورنہ ہم آپ کی والدہ کی شان میں گستاخی کریں گے‘‘۔
کہاں لندن والوں کی بات اور کہاں تذکرہ لکھنئو مرحوم کا، توبہ۔

رضا علی عابدی
"بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ

No comments:

Powered by Blogger.