Header Ads

Breaking News
recent

کڑوا سچ


ہماری سیاست اور جمہوریت سے متعلق کچھ ایسے بنیادی حقائق ہیں جن کا سامنا کرنے کی ہمت شاید ہم میں نہیں۔ یہ وہ باتیں ہیں جو سیاستدان، تجزیہ نگار اور کالم نویس صرف اشاروں یا کنایوں کی صورت کرتے ہیں۔ان حقائق سے ہمارا پڑھا لکھا اشرافیہ بخوبی واقف ہے مگر ہمارے ملک کی غیر تعلیم یافتہ اکثریت کو یہ سب معلوم ہونا کسی کی نظر میں عوام کو اکسانے کے مترادف ہو سکتا ہے۔ہماری ریاستی لغت میں انگریزی کی آزادی رائے کو اردو میں غداری اور بغاوت کے الفاظ سے جانا جاتا ہے۔ شاید ہماری تربیت ہی ایسی ہے کہ انگریزی یا انگریز کی دی ہوئی گالی کو ہنس کر ٹال دینا ۔ اسی گالی کا اگر اردو یا پنجابی میں ترجمہ کر دیا جائے تو ردعمل شدیدہو سکتا ہے۔

آخر ایسے کون سے بنیادی اور پوشیدہ سیاسی و ریاستی حقائق ہیں جن کا عام آدمی کے لئے جانناضروری ہے تاکہ وہ ملک میں ہونے والے واقعات کو بہتر سمجھ سکے۔

ان میں سے ایک تازہ ترین واقعہ الطاف حسین کی فوج کے خلاف ہرزہ سرائی اور فوج کا براہ راست جوابی موقف ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک پولیس افسر کے بیان پر فوج نشانے پر کیوں؟ پھر ایک پولیس افسر نے بغیر حکومتی اجازت کے ایک پریس کانفرنس کیوں کر ڈالی؟ اور پھر بجائے وزارت دفاع اور حکومت کے جوابی بیان کے فوج کو ازخود اپنا سیاسی دفاع کیوں کرنا پڑتا ہے؟آخر حکومت اپنے قانونی ردعمل کے لئے فوج کے ترجمان کی ٹویٹ کا انتظار کیوں کرتی ہے؟ ان تمام سوالات کا جواب ان پوشیدہ سیاسی حقائق میں ہے جو کچھ یوں ہیں۔
سب سے پہلے بات کرتے ہیں حکومت کی۔ منتخب حکومتیں بھی صرف سویلین آبادی تک محدود ہوتی ہیں ۔ آئین کے تحت اختیارات کے استعمال میں یہ مکمل طور پر بااختیار نہیں ہوتیں۔ فوج اور اس کے خفیہ ادارے ان کو نہ صرف مکمل معلومات نہیں دیتے بلکہ براہ راست مختلف اداروں اور محکموں کے معاملات میں در پردہ مداخلت کرتے ہیں۔ 2008ء سے لے کر آج تک ان منتخب حکومتوں نے اپنی بے بسی اور بے اختیاری کو جمہوریت کے تسلسل کا نام دیا ہے۔ چاہے صدر زرداری ہوں یا وزیراعظم نواز شریف ان کی حکومتوں میں فوج اور خفیہ اداروں کے حوالے سے سرگوشیوں کے ذریعے تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے ۔ ایسے میں یہ حکومتیں نہ تو فوج پر آئینی اختیار جتا سکتی ہیں اور نہ ہی بہت سے معاملات میں خفیہ اداروں کو جواب دہ بنا سکتی ہیں ۔یہ منتخب حکومتیں فوج کو آئینی احکامات جاری کرنے کی بجائے اس سے بھائو تائو اور مذاکرات کے ذریعے معاملات طے کرنے پر یقین رکھتی ہیں۔ طے یہی ہوتا ہے کہ ایک دوسرے کو نہ چھیڑا جائے۔

اس کے باوجود عدم اعتماد کی فضاء برقرار رہتی ہے اور ایک دوسرے پر دبائو بھی برقرار رکھا جاتا ہے۔ دھرنے کے دوران ایک طرف سے خبر چلتی ہے کہ وزیراعظم سے استعفٰی مانگا جائے گا تو دوسری طرف سے خبر چلتی ہے کہ آئی ایس آئی کے سربراہ کو ہٹانے کے لئے اسمبلی میں قرارداد لائی جائے گی۔
دوسری طرف فوج بھی پسندیدہ سیاست دانوں اور صحافیوں کے ذریعے اپنے سیاسی اور کاروباری مفاد ات کو تحفظ دینے کے لئے تسلسل سے اقدامات کرتی رہتی ہے۔ فوج کی وسیع کاروباری سرگرمیاں نہ صرف ہر سیاسی حکومت کے لئے علاقہ ممنوعہ بنی رہی بلکہ ہر فوجی دور میں ان سرگرمیوں کو غیر معمولی تقویت بھی ملی۔

 ان سرگرمیوں اور فوج کی فلاح و بہبود جیسے مثبت اقدامات کی اہمیت اپنی جگہ مگر مکمل حکومتی اور مالیاتی نگرانی سے مبرا ان سرگرمیوں کے ملکی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں ۔ ایک عسکری قوت کے کاروباری قوت بننے کے فائدے بھی ہیں مگر نقصانات اس سے زیادہ۔ اس تناظر میں یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ منتخب حکومتیں پاکستان کی واحد مالک نہیں رہی اور شاید اسی لیے بہت سے حالات و واقعات کی واحد ذمہ دار بھی نہیں ٹھہرائی جا سکتیں۔ ہماری سیاسی حکومتیں آئین کی بالا دستی کو یقینی بنانے کی بجائے اپنی اپنی مدت پوری کرنے پر زیادہ توجہ دیتی ہیں اور کیوں نہ ہو جب بڑی حد تک اختیار نہ سہی وسائل تو کنٹرول میں ہوتے ہیں۔

فوج اور حکومت کے درمیان طاقت کے اس توازن اور مقابلے سے میڈیا بھی خوب فائدہ اٹھاتا ہے جو بظاہر آزادی کی جھلک ہمیں نظر آتی ہے وہ آزادی حکومت اور فوج کے درمیان ایک درپردہ کشمکش کے مرہون منت ہے۔ کاروباری مفادات اور عدم تحفظ کا شکار میڈیا کے ادارے اور افراد فوج یا حکومت میں سے کسی ایک کا چنائو کر کے توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ میڈیا میں وردی اور شیروانی کی تقسیم کے باعث ضابطہء اخلاق پر بلا تفریق عمل درآمد ناممکن ہو جاتا ہے۔ کوئی ریاست کا دشمن کہلاتا ہے تو کوئی فوجی آمریت کا آلہ ء کار۔ ایسے میں میڈیا پر قانون کا اطلاق کیسے ہو۔ 

اگر ایک طرف کالے بوٹ کا خوف ہے تو دوسری طرف ٹی ٹی پستول کی نالی۔ ایسے میں الطاف حسین کی تقریر نشر کی جائے یا نہیں ایک آزمائش بن جاتی ہے۔ ایسے میں ہماری عدالتیں بھی میڈیا کی آزادی یا آزادی رائے سے متعلق مفصل فیصلہ دینے سے قاصر ہیں۔ یہاں عدالتوں کی مجبوریاں بھی ان پوشیدہ حقائق کا حصہ بن جاتی ہیں جو منظر عام پر نہیں آتے۔

یہ عدالتیں آئین کے تحت منتخب حکومت سے توقع کرتی ہیں کہ فوج اور خفیہ اداروں کو جواب دہ بنایا جائے۔ معزز جج صاحبان اچھی طرح جانتے ہیں کہ عملی طور پر ایسا ہو نہیں رہا۔منتخب وزیراعظم کو برطرف کرنے والی یہ عدالتیں لاپتہ افراد کے مقدمات میں خفیہ اداروں کو جواب دہ بنانے میں ہچکچاہٹ سے کام لیتی ہیں۔ میڈیا کے حوالے سے بھی یہ عدالتیں مفصل فیصلے جاری کرنے کی بجائے غیر مشروط معافی کی صورت میں مطمئن اور خاموش ہو جاتی ہیں۔

دوسرے اداروں کی طرح یہ عدالتیں بھی فوج ، میڈیا اور مذہبی منافرت کے ملزمان کے خلاف کارروائی میں درمیانے راستے تلاش کرتی ہیں۔ وہ راستے جو آئین اور زمینی حقائق کے درمیان سے گزرتے ہوں۔ فوج کے سابق سربراہ جنرل (ر) مشرف کے خلاف سنگین غداری کے مقدمے میں ہماری منتخب حکومت اور عدلیہ دونوں کی مجبوریاں اور کمزوریاں روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔
یہ وہ تمام حقائق ہیں جو عوام کی نظر میں نہیں ہوتے۔ بظاہر قانونی جنگ اور اختلافات کے پیچھے اختیارات اور وسائل پر کنٹرول کی لڑائی لڑی جا رہی ہوتی ہے۔ عوام اس کو غدار اور حب الوطنی کی لڑائی سمجھتے ہیں۔

الطاف حسین اور طالبان آج جتنے بھی ملک دشمن قرار دیئے جاتے ہیں ان کا سیاسی شجرہ نسب ہمارے عسکری اداروں کے لئے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے۔ اگر ایک سابق فوجی آمر کے خلاف آئین اور ملک سے سنگین غداری کا مقدمہ نہیں چل سکتا تو پھر اسی فوجی آمر کا سیاسی و قانونی دفاع کرنے والی ایم کیو ایم کے خلاف آخر کون سا قانونی ہتھیار چلایا جاسکتا ہے۔ اسی لئے ہماری عدالتیں ، میڈیا  سیاستدان اور دانشوروں کے لئے یہ فیصلہ کرنا ہمیشہ مشکل رہا ہے کہ اس ملک کا اصل وفادار کون ہے۔ جس آئین اور قانون کے تحت کارروائی کی بات کی جاتی ہے اسی قانون اور آئین کی عزت کو تار تار تو بہت سوں نے کیا ہے اور کر رہے ہیں۔ آخر ہم سب ایک دوسرے سے کتنے مختلف ہیں۔

ہمیں ٹھنڈے دماغ سے پہلے یہ طے کرنا ہو گا کہ اس ملک کا اصل حاکم کون ہے؟ عوام اور ان کے نمائندے یا کوئی اور۔وگرنہ پھر ہم اپنی غلطیوں کا احاطہ کرنے کی بجائے انہیں دہراتے رہیں گے اور ان کے اصل ذمہ داروں کا تعین کبھی نہ ہو سکے گا۔ عوام تھوڑا صبر کر لیں تو کچھ عرصے بعد یہ تمام لوگ آپس میں شیر و شکر ہو جاتے ہیں معافی تلافی ہو جاتی ہے اور پھر سرگوشیوں کے ذریعے ضمیر کی آواز کو باہر نکالا جاتا ہے۔ جس ملک میں پارلیمنٹ مقتدر اعلٰی نہ ہو، حکومت با اختیار نہ ہو، فوج جوابدہ نہ ہو، میڈیا قابل مواخذہ نہ ہو، عدلیہ غیر محفوظ اور قوت فیصلہ سے محروم ہو، سیاسی جماعتوں میں جمہوریت نہ ہو تو پھر اس ملک میں سگ آزاد ہوتے ہیں اور سنگ قید۔ ایسے میں عوام کے لئے یہ فیصلہ کرنا کتنا آسان ہو گا کہ کون حب الوطن ہے اور کون غدار؟

مطیع اللہ جان
"بشکریہ روزنامہ "نوائے وقت

No comments:

Powered by Blogger.