Header Ads

Breaking News
recent

جسے پارٹی اور ریاست دونوں نے استعمال کیا

  نیوز چینلز پر نشر ہونے والے ایک وڈیو بیان میں صولت علی خان عرف صولت مرزا نے متحدہ قومی موومنٹ پر الزام عائد کیا تھا کہ ’’وہ اپنے کارکنوں کو ٹشو پیپر کی مانند استعمال کرتی ہے، جس طرح کہ انہیں استعمال کیا گیا تھا۔
جب وہ یہ بیان دے رہے تھے، تو شاید ان کے ذہن میں تصور بھی نہ ہوگا کہ جو لوگ ان کا یہ وڈیو بیان ریکارڈ کررہے ہیں، ان کے ساتھ وہی سلوک کریں گے، جو ان کے بقول ان کی پارٹی نے ان کے ساتھ کیا تھا۔

صولت مرزا کو آج علی الصبح بلوچستان کی مچھ جیل میں پھانسی دے دی گئی، اس سے قبل 18 مارچ کو ان کے وڈیو بیان جاری ہونے کے بعد دو مرتبہ ان کی پھانسی کے حکم پر عملدرآمد روک دیا گیا تھا۔

ان کے خاندان کے افراد کے سمیت زیادہ تر لوگوں کا خیال تھا کہ ان کے ’’چونکا دینے والے انکشافات‘‘ کہ کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کے مینجنگ ڈائریکٹر شاہد حامد کے قتل کا حکم ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے دیا تھا، سامنے آنے کے بعد ریاست ان کی پھانسی کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کردے گی۔
لیکن حکومت اور اربابِ اختیار نے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کا حکم دینے سے زیادہ کچھ نہیں کیا۔

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اس معاملے کی تفتیش کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ صولت مرزا کے انکشافات کوئی ’’قابلِ گرفت شواہد یا ثبوت‘‘ قائم نہیں کرتے، اور بالواسطہ طور پر حکام کو سفارش کی کہ صولت مرزا کی پھانسی کو ملتوی کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔

یہاں تک کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے سزائے موت کے منتظر قیدی کی مچھ جیل میں پھانسی سے چند گھنٹے قبل ڈیتھ سیل میں ایک بیان کی ریکارڈنگ کے قانونی حیثیت پر بھی سوال نہیں اُٹھایا۔

صولت مرزا کی زندگی اور جب وہ ایم کیو ایم کے ساتھ منسلک تھے تو ان کے ’’کام‘‘ کے بارے میں بہت مختصر معلومات میسر آسکی ہیں۔
وہ نارتھ ناظم آباد کے بلاک ایس میں مقیم تھے اور گھر کے قریب واقع پاکستان شپ اونرز کالج میں زیرِتعلیم تھے۔

چالیس سے زائد برس دنیا میں گزارنے والے صولت مرزا نے تقریباً 17 برس جیل میں گزارے، انہیں 1998ء میں گرفتار کیا گیا تھا، وہ 1995ء تک ایم کیو ایم میں معروف شخصیت نہیں تھے۔

ایم کیو ایم کے ایک عہدے دار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بیان کیا صولت مرزا کو اس وقت تک کوئی نہیں جانتا تھا، جب فہیم فاروقی (جن کو فہیم کمانڈو کے نام سے شہرت ملی) کو گرفتار کیا گیا اور انہوں نے صولت مرزا کو اپنا دایاں بازو قرار دیا، تو ان کا نام لوگوں کے سامنے آیا۔

انہوں نے کہا کہ صولت مرزا کرکٹ کے اچھے کھلاڑی تھے، اور اپنے علاقے میں کرکٹ کھیلا کرتے تھے، اس وقت وہ ایم کیو ایم کے محض حمایتی تھے، اس کے کارکن نہیں تھے۔ جب ایم کیو ایم مہاجر قومی موومنٹ کہلاتی تھی۔
لیکن ان کی زندگی میں ایک انقلابی موڑ اس وقت آیا، جب انہیں 1993ء میں گرفتار کیا گیا اور پولیس کی حراست میں ان پر تشدد ہوا تو ان کے اندر زبردست تبدیلی پیدا ہوئی۔

جلد ہی صولت مرزا کا نام کراچی میں دہشت کی علامت بن گیا، اور1995-96ء کے دوران ہونے والے پولیس اسٹیشن پر حملے، پولیس اہلکاروں کے قتل، راکٹ حملے سمیت دہشت گردی کے تقریباً ہر ایک مقدمات کو پولیس نے ان کے نام پر ڈال دیا۔

بے نظیر بھٹو کی قیادت میں پیپلزپارٹی کی دوسری حکومت میں کیے گئے کراچی آپریشن کے دوران وہ مبینہ طور پر ملک سے فرار ہوگئے۔ جب اس وقت کے صدر فاروق لغاری نے پیپلزپارٹی کی حکومت کو نومبر 1996ء میں برطرف کردیا اور اسمبلیاں تحلیل کردیں تو اس کے بعد وہ وطن واپس آئے۔

پانچ جولائی 1997ء کو اس وقت کے ای ایس سی کے مینجنگ ڈائریکٹر شاہد حامد، ان کے ڈرائیور اور ان کے ایک محافظ کو ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی میں گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا۔ دسمبر 1998ء میں پولیس نے کراچی ایئرپورٹ پر صولت مرزا کو گرفتار کرلیا، وہ بینکاک سےیہاں پہنچے تھے۔
انہیں شاہد حامد قتل کیس میں 1999ء کے دوران سزائے موت سنائی گئی، اور سزا کے خلاف ان کی اپیلیں اعلیٰ عدالتوں کی جانب سے مسترد کردی گئیں تھیں۔

بشکریہ ڈان اردو

No comments:

Powered by Blogger.