Header Ads

Breaking News
recent

کیا ہمیں سلمان خان کی یاد میں ماتم کرنا چاہیئے؟

اسکا اصل نام ’’عبدالرشید سلیم خان‘‘ رکھا گیا تھا لیکن فلمی دنیا میں وہ ’’سلمان خان‘‘ کے نام سے مشہور ہوا۔ وہ اپنی ایک فلم کا معاوضہ پچاس کروڑ روپے لیتا ہے اور چھوٹی اسکرین پر اسکے ایک شو کا معاوضہ پانچ کروڑ سے زائد ہے۔ فلموں کے علاوہ اسوقت کم ازکم دس بڑی کمپنیوں کے اشتہارات میں کام کررہا ہے جن کی مالیت دو سو کروڑ بتائی جارہی ہے۔ آج جیسے ہی بھارتی عدالت نے اسے پانچ سال قید کی سزا سنائی تو پاکستانی میڈیا پر ایک صف ماتم بچھ گئی۔ خبر دینا میڈیا کا کام ہے لیکن سارا دن ایک ہی خبر کو لے کر اس پر ماتم منانا سمجھ سے باہر ہے۔

لیکن گزشتہ روز کیا کچھ ہوا؟ وہ ٹھیک تھا یا غلط؟ یا پھر کیا کچھ ہونا چاہیے تھا اِس حوالے سے مختصر سا تجزیہ پیشِ خدمت ہے۔

سلمان خان کی پاکستان کے لیے خدمات

باڈر پار کا ایک ایسا اداکار جو چند دن پہلے ہی اپنے کیرئیر کو دوام بخشنے کے لیے بیک وقت ہندو اور مسلمان ہونے کا اعلان کیا ہے۔ جس نے نہ تو ماضی میں پاکستان کے لیے کوئی خدمات پیش کی ہیں اور نہ ہی مستقبل میں ایسا ارادہ تھا۔ ایسا بھی نہیں کہ سلمان خان نے یہاں کوئی ہسپتال، اسکول، سڑک، فلائی اوور یا کوئی انڈر پاس بنوایا ہو، ہاں یہ ضرور ہے کہ اِن کی تمام تر توجہ بھارت کی طرف ہی تھی۔ اب اگر ایسے فرد کے لیے بھارتی میڈیا کوریج کرے تو اِس میں حیرانگی کا کوئی سامان نہیں ہونا چاہیے، لیکن ناجانے ہم کیوں بیگانے کی شادی میں شادیانے بجارہے ہیں۔

کیا سلمان خان سزا سے مبرا تھا

سوال یہ بھی ہے جب کوئی جرم کرتا ہے اور مجرم کو سزا ملتی ہے تو کیا اس بات پر اعتراض کیا جانا چاہیے؟ اور اعتراض بھی یہ کہ مجرم کو سزا کیوں ملی؟ ارے بھائی، سلمان خان نے خود ہی اقرار کیا تھا کہ اُن کی گاڑی سے یہ حادثہ ہوا ہے اور اِس حادثے کے نتیجے میں 1 فرد اپنی جان سے گیا ہے۔ تو جب مجرم نے خود اپنے جرم کا اقرار کرلیا ہے تو پھر اعتراض کرنے والے بھلا کس بات پر اعتراض کررہے ہیں؟ کہیں وہ یہ تو نہیں کہنا چاہ رہے کہ دیکھو سلمان خان کتنا ایماندار ہے کہ جرم کرنے کے بعد بھی اقرار کررہا ہے لہذا اُس کی اِس ایمانداری پر سزا نہیں ملنی چائیے۔ اگر اُن کا موقف یہی ہے تو پھر ہم سب بھی ایک کام کرتے ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر نئے نئے جرم کرتے ہیں اور پھر اقرار کرلیتے ہیں کہ جی جی یہ جرم ہم سے ہی ہوا ہے لیکن اِس ایمانداری کی بنیاد پر ہمیں معاف کردیا جائے۔

پاکستانی ہیروز کے لیے پاکستانی میڈیا کا کردار

چلیں اِس وقت ہم پاکستان کے دنیا سے رخصت ہوجانے والے ہیروز کا ذکر نہیں کرتے لیکن کیا پاکستانی میڈیا نے کبھی ’’سلمان خان‘‘ کی طرح ’’ایدھی‘‘ کو خراج تحسین پیش کیا؟ کیا ہمارے میڈیا نے دنیا بھر میں کامیابیاں سمیٹنے والے پاکستانی طالبعلموں سے قوم کو متعارف کروایا؟ چلیں اگر فلم ہی کی بات کرنی ہے تو کیا ہمارے میڈیا نے کبھی شان، ندیم، ہمایوں سعید، معمر رانا اور اِن جیسے دوسرے اداروں کی سالگراوں پر کبھی تھوڑی سی بھی کوریج دی؟ آخر اپنے ہیروز سے غیروں جیسا اور غیروں سے اپنوں جیسا سلوک آخر کیوں؟

سلمان خان کی سزا کے پاکستانی معیشت پر اثرات

سلمان خان کو پانچ سال کی سزا ہوچکی ہے جو کہ حقیقت میں ڈھائی سال کی سزا ہے کیونکہ جیل میں ایک دن 12 گھنٹے کا تصور ہوتا ہے یعنی رات کو بھی دن میں شمار کیا جاتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ اگر مجرم کا برتاو اچھا ہو تو سزا میں مزید کمی بھی کی جاسکتی ہے۔ اگر ایسا ہوگیا تو پھر سلمان خان شاید ایک سال سے بھی کم وقت میں باہر آجائیں گے۔ لیکن پھر بھی سلمان خان کے اہلخانہ، اُن کے دوست اور ساتھی اداکاروں کے ساتھ ساتھ بھارت میں اُن کے شائقین اگر غمزدہ ہیں تو بات سمجھ آتی ہے، بلکہ اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر شاید حیرانگی ضرور ہوتی۔ لیکن جس انداز سے وطن عزیز میں سلمان خان کی سزا پر رنج و غم کا اظہار کیا جارہا ہے اُس سے تو ایسا محسوس ہورہا ہے کہ سلمان خان کو سزا ملنے کی وجہ سے پاکستانی معیشت کریش کرچکی ہے۔ منگلا اور تربیلا ڈیم نے کام کرنا بند کردیا ہے۔ ہوائیں رُک چکی ہیں، پرندوں نے اڑنا بند کردیا ہے، بالائی پنجاب اور سندھ میں وبائی امراض پھوٹ پڑے ہیں۔ دریاوں میں سیلاب آنے کا خطرہ بھی بڑھ چکا ہے جس کے ساتھ زلزلہ آنے کا بھی امکان ہے ۔

متاثرین سلمان خان سے آخری اپیل

اگر تو آپ لوگ سلمان خان کے جیل جانے سے پریشان ہیں تو گزارش ہے کہ پہلے آپ اپنی آمدن کی فکر کرلیں کیونکہ پاکستان میں پٹرول سے لے کر آلو ٹینڈے پیاز ہر چیز مہینے بعد مہنگی ہو جانی ہے۔ اگر آپ صاحب استطاعت ہیں اور اِن مسائل سے مبرا ہیں تو پھر آپ سلمان خان کی سزا پر ضرور اعتراز کرسکتے ہیں بلکہ صرف اعتراض کیوں کررہے ہیں بلکہ میرا تو مشورہ ہے کہ آپ بھارت جائیں اور کوئی مہنگا وکیل کریں اور سلمان خان کو چھڑوانے کی کوشش کریں اور اگر آپ ان سب کاموں میں سے کچھ بھی نہیں کرنا چاہتے اور یہ بھی چاہتے ہیں کہ لوگ آپکے ساتھ مل کر آپ کے غم میں برابر کے شریک ہوجائیں تو معاف کرنا مجھے آپ پر شدید افسوس ہے کیونکہ میرے ملک میں بجلی بھی نہیں اور پانی بھی ناپید ہوچکا ہے۔ دہشتگردی سے لوگ مررہے ہیں، غربت افلاس اپنے عروج پر ہے، مجھے پہلے اِن مسائل پر رونے دیں پھر سلمان خان کے بارے میں سوچوں گا۔ یہ سب لکھنے کا مقصد یہ نہیں کہ مجھے فلمیں پسند نہیں ہے، بلکہ مجھے فلمیں بھی پسند ہیں اور فن کاروں سے محبت بھی کرتا ہوں لیکن جس طرح کا رویہ ’’سلمان خان‘‘ کی سزا پر اپنایا گیا اگر محبت اسی کا نام تو ہے تو دوستو معاف کرنا مجھے نہیں ہے۔ اپنی بات کو ایک شعر پر ختم کروں گا کہ

لباس تن سے اتار دینا
کسی کو بانہوں کے ہار دینا
پھر اس کے جذبوں کو مار دینا
اگر محبت یہی ہے جاناں
تو معاف کرنا
مجھے نہیں ہے۔

محمد عثمان فاروق

بشکریہ

ایکسپریس نیوز


No comments:

Powered by Blogger.