Header Ads

Breaking News
recent

جماعت اسلامی کا جرم

یہ بھی طرفہ تماشہ ہے کہ ایک طرف ہمارا قومی میڈیا بریکنگ نیوز کے ساتھ متحدہ کے مرکزی دفتر نائن زیرو سے برآمد ہونے والے غیر ملکی اسلحہ اور ملزمان کی خبریں تواتر سے نشر کر رہا تھا، صولت مرزا، اجمل پہاڑی ودیگر نامزد ملزمان ٹارگٹ کلنگ بھتہ خوری اور قتل و غارت کی سنگین وارداتوں کا کھلے بندوں اعتراف کر رہے تھے اور اپنی سرگرمیاں متحدہ کے کھاتے میں ڈال رہے تھے۔ پوری عالمی برادری میڈیا کی آنکھ سے یہ منظر دیکھ رہی تھی۔ 

متحدہ کی قیادت دفاعی پوزیشن پے تھی اس کی باز گشت برطانیہ میں بھی سنائی دی اور خود ساختہ جلا وطن قائد کو منی لانڈرنگ کے کیس میں زیر تفتیش ہونا۔ پڑا قانون ساز اداروں کی کارروائیوں سے اہل کراچی نے سکھ کا سانس لیا تا آنکہ حلقہ 246کا ضمنی الیکشن آن پہنچا دوسری طرف انتخابات میں کامیابی کا جناح گراؤنڈ میں جشن چشم فلک نے دیکھا۔ الطاف بھائی آپے سے باہر ہوئے اور یہ کہا کہ عوام نے متحدہ پر لگائے گئے الزامات مسترد کر دیئے۔ متحدہ کی سیاسی کامیابی اس کا ثبوت ہے اور پھر کراچی کو الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ بھی داغ دیا۔

تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے بھی انتخابی اکھاڑے میں اپنے اپنے امید وار اتارے مگر کامیابی مقدر نہ بنی اور کراچی سے خوف کی فضا ختم کرنے کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے متحدہ جس نے مہاجر کا لاحقہ اتار کر قومی جماعت بننے کا سفر شروع کیا تھا اس الیکشن میں اس نے اپنی عزت ووقار کو داؤ پر لگتا دیکھ کر پھر مہاجر کارڈ استعمال کرتے ہوئے خبث باطن کو ظاہر کر دیا۔
جرائم کی میڈیا پے چلی اس سیریل کے باوجود کیا کسی مہذب جمہوری ملک کے عوام سے یہ توقع کی جا سکتی تھی کہ وہ ایسی جماعت اور اس کے امیدوار کو ایک بار پھر منتخب کر کے قانون سازی کیلئے قومی اسمبلی جیسے مقدس ادارے میں بھجواتے لیکن یہ صرف وطن عزیز کی جمہوریت کا ہی حسن ہے نجانے اس جمہوریت کو بالغ ہونے کیلئے ابھی کتنی مدت درکار ہے۔

انتخابات میں تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے انتخابی اتحاد کا بڑا شہرہ تھا مگر بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔ دونوں جماعتوں کے پاس اپنے اپنے دلائل تھے تاہم جماعت اسلامی کا مؤقف زیادہ وزن رکھتا تھا۔ دلیل کے طور پر جماعت کی قیادت دعویٰ کرتی رہی جب سے کراچی میں متحدہ جیسے لسانی گروہ نے قدم رکھے ہیں اس کا سیاسی مقابلہ سینہ سپرہو کر صرف جماعت نے ہی کیا ہے اور اس ضمن میں مالی اور جانی قربانیاں بھی تاریخ کا حصہ ہیں اور ہر فورم پر اس گروہ کے جرائم کو بلا خوف وخطر بے نقاب کیا اور محب وطن اداروں کی توجہ مسلسل د لائی۔ جب بھی اہل کراچی کی خدمت کا موقع ملا تو جماعت اسلامی نے اپنا فرض بااحسن خوبی ادا کیا شاید اسی جرم کی سزا عوام نے جماعت کے امید وار راشد نسیم کو دی ہے۔

اگر وہ بھی دوسری سیاسی قیادت کی طرح کراچی میں بھتہ خوری ،ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہوتی ،بندوق کی نوک پے اور دھونس دھاندلی سے قربانی کی کھالیں چھین لیتی، ہر دکان اور گھر پے بھتے کی پرچیاں تقسیم کرتی، اس کا رعب ، دبدبہ اور عوام کے دلوں پے خوف ہوتا۔ یہ لسانی، فروعی علاقائی کارڈ استعمال کرتی تو آج اس انتخابی حلقہ کے نتائج یکسر مختلف ہوتے۔ ان کی حمایت میں سیاسی تبصرے ہوتے۔ میڈیا بھی رطب اللسان ہوتا اور ان کی شان میں قصیدے لکھے جاتے۔ یہ بھی عوام کی نظروں میں بے گناہ اور معصوم قرار پاتے۔ انہیں کراچی کی سیاسی قوت کا درجہ ملتا۔

جماعت اسلامی کا یہ بھی جرم ہے کہ اس نے نئی نسل کو کبھی بھی طبقاتی لسانی اور گروہی بنیادوں پر تقسیم نہیں کیا۔ وطن عزیز کی سالمیت، عزت، وقار پے کبھی سمجھوتا نہیں کیا۔ اور تاریخ گواہ ہے کہ محب وطن قوتوں کے ساتھ مل کر ملک کی حفاظت کیلئے جان کا نذرانہ دینے سے بھی گریز نہیں کیا۔ اس نے نئی نسل کو قلم اور کتاب کی جانب راغب کیا۔ اس کی صلاحیتوں کو نکھارا اور قوم کی بیٹیوں کو اسلامی تہذیب اور ثقافت سے روشناس کروایا۔ مغربی خرافات کے آگے بند باندھا۔ جب بھی پارلیمنٹ میں قانون سازی کا موقع ملا تو بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اپنی صلاحیتوں سے قوم کی بھر پور رہنمائی کی۔

جماعت اسلامی کے اراکین پارلیمنٹ نے قرض لے کر نہ تو معاف کروایا اور نہ ہی قومی خزانے کو لوٹنے کی جسارت کی۔ قومی سیاست میں اپنے کارکنوں کو اہمیت اور اولیت دی۔ کسی جاگیر دار، وڈیرے، گدی نشین اور سرمایہ دار سے متاثر ہو کر جماعت کی ڈرائیونگ سیٹ پیش کرنے کی حماقت نہیں کی۔ سرکاری سطح پر جو بھی ذمہ داری سونپی گئی اسے متاثر کن انداز میں ادا کیا اور اس بات کا پورا احساس رکھا کہ قوم کا ایک پیسہ بھی ضائع نہ ہو۔ ذاتی ضرورت اور علاج معالجے کیلئے ان اراکین پارلیمنٹ نے کبھی بھی بیرون ملک سفر نہیں کیا۔ نظریۂ پاکستان، حساس اداروں اور مخالف سیاسی ومذہبی جماعتوں کی قیمت پر عوامی فلاحی خدمت کے نام پر کسی سے ڈالر وصول نہ کیے نہ ہی لسانی، گروہی اور علاقائی منافرت پھیلانے کیلئے کسی کا آلہ کار بنے۔ قومی اہمیت کے حامل منصوبہ جات کی حمایت میں ہمیشہ پیش پیش رہے اور رائے عامہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ جب بھی کسی طالع آزماء نے قومی نظریہ، اس کی سا لمیت یا نظریاتی سرحدوں پر حملہ کرنے کی جسارت کی تو سب سے پہلی احتجاجی صدا جماعت اسلامی کے حلقوں سے بلند ہوتی دکھائی دی۔

جماعت اسلامی کے اراکین پارلیمنٹ اگر قومی خزانہ پے ہاتھ صاف کرتے، بیرون ملک جائیدادیں بناتے، ٹاؤٹ مافیا کی سرپرستی کرتے، مخالفین پر مقدمات قائم کرنے کا فن جانتے، سرکاری اراضی پر قبضہ کرنے کی قدرت رکھتے اور قبضہ ما فیا کی سرپرستی کرتے، سیاسی کامیابی کے حصول کیلئے سٹیٹس کو کے حامل افراد کو جماعت میں مرکزی عہدے دیتے، لچر پن کو نئی نسل میں متعارف کرواتے اور اسے بغاوت پے اکساتے، قومی منصوبہ جات کی تکمیل پے کمیشن کھاتے تو قومی سیاست میں ان کا بھی کوئی نام اور مقام ہوتا۔ اعمال کی اللہ کے ہاں جواب دہی کے احساس نے انہیں موجودہ قومی سیاسی کلچر میں مدغم نہیں ہونے دیا۔ یہی ان کا جرم ہے۔ سیاسی کارکنان ، قائدین کے تمام تر جرائم منظر عام پے آنے کے باوجود اس طرز کے امیدواران کی انتخابات میں جیت کو اگر سیاسی کامیابی سمجھا جاتا ہے، اسے تبدیلی کا نام دیا جاتا ہے تو عوام کو ایسی سیاسی تبدیلی مبارک ہو۔


خالد محمود فیصل

No comments:

Powered by Blogger.