Header Ads

Breaking News
recent

زندگی کی لمبائی بس ایک بالشت.....


ابھی یہ طےنہیں کہ سبین محمود کو کس نے اور کیوں مارا، مگر پاکستان کے اکثر ٹی وی چینلز اور سب سے کثیرالاشاعت تین اردو اخبارات نے اس قدر احتیاط برتی کہ یہ تو بتایا کہ سبین ’ایک سیمینار‘ کے انعقاد کے بعد ہلاک کردی گئیں مگر کون سا سیمینار؟ یہ نہیں بتایا۔

البتہ سوائے ایک کے تمام انگریزی اخبارات نے بتایا کہ سیمینار کا موضوع تھا ’بلوچستان پر خاموشی توڑئیے۔‘ ذرا سوچیے بلوچستان کا نام اگر کردستان ، کشمیر ، شنجیانگ، چیچنیا یا مشرقی تیمور ہوتا تو اردو میڈیائی خوانین کی جراتِ رندانہ کن بلندیوں پر ہوتی ؟

کوئی نام لے نہ لے مگر بلوچستان توجہ کی متلاشی بنیادی انسانی جبلت کا دوسرا نام ہے۔ میرا دو سالہ بیٹا واسع نہ ماں کی طرف سے بلوچ ہے نہ باپ کی طرف سے ۔پھر بھی آج صبح اس نے میرے سر پر اپنا کھلونا دے مارا کیونکہ میں اس کی بات نہیں سن رہا تھا۔

حالانکہ کوئی بھی یقین سے نہیں کہہ رہا کہ اس قتل کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے لیکن ٹی وی چینلز کی ٹاک شاپس کے شرکا سے یہ بات طریقے طریقے سے کہلوانے کی کوشش ہو رہی ہے کہ اس واردات میں ذاتی بغض ، خاندانی کینے ، خفیہ غیر ملکی ہاتھ یا انتہا پسند و دہشت گرد تنظیموں کے ملوث ہونے کا امکان ہے۔

ضروری نہیں کہ اس قتل کا تعلق بلوچستان کے موضوع پر سیمینار یا اس کے انعقاد سے ہو کیونکہ سبین کو ایک عرصے سے طرح طرح کی کثیر سمتی دھمکیوں کا سامنا تھا۔

اس لیے ممکن ہے کہ کسی عیار قاتل نے ان کی ہلاکت کے لیے ایسا وقت چنا کہ انگلیاں خود بخود بلوچستان کے بارے میں حساس اداروں کی جانب اٹھ جائیں۔تاہم فوج کے محکمہِ تعلقاتِ عامہ کی طرف سے افسوسناک واقعے کی بروقت مذمت اور سبین کے قاتلوں کی گرفتاری میں مدد کے لیے انٹیلی جینس اداروں کے تعاون کی یقین دہانی کے بعد چے مے گوئیاں ختم ہوجانی چاہیے۔

یہ بھی خطرہ ہے کہ پاکستان میں بھاری چینی سرمایہ کاری اور گوادر تا کاشغر کاریڈور منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے ملک دشمن طاقتیں مزید وار کریں لہذا ایک دوسرے پر خامخواہ انگشت نمائی کے بجائے اتحاد و یکجہتی کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے اور اس پس منظر میں بری فوج کے سربراہ کے حالیہ انتباہ کو بغور سمجھنا چاہئیے کہ بلوچستان میں غیر ملکی مداخلت کاری اور اس کے مددگاروں کو سختی سے کچل دیا جائے گا۔

مجھے واقعی اندازہ نہیں کہ سبین محمود کے قتل کے بعد الیکٹرونک میڈیا کے ذریعے یہ وضاحت بازی ازخود ہے یا کسی کے مشورے پر ہے ۔اور انھی ٹاک شاپس میں بیٹھا کوئی ٹیلی افلاطون کیوں کہنے کو تیار نہیں کہ صرف سبین کا قتل ہی نہیں بلکہ اس طرح کے دیگر ہائی پروفائیل کیسوں بشمول بے نظیر بھٹو کیس اور عام شہریوں کی ماورائے عدالت جبری گمشدگی اور قتل میں ملوث مجرموں کو تلاش کرکے کٹہرے میں لایا جائے اور اب تک اس بابت جو بھی تحقیقاتی سفارشات مرتب ہوئیں ان پر عمل درآمد کو اولیت دی جائے تاکہ ریاستی رٹ پر اعتماد چاروں طرف سے ڈسے شہریوں پر بحال ہونا شروع ہو۔

کوئی بھی جلیبیانہ گفتگو کا ماہر کیوں سیدھے سیدھے نہیں کہتا کہ واقعات کی فوری رسمی رپورٹیں طلب کرنے ، جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیمیں یا پھر عدالتی کمیشن بٹھا کران کی نتیجہ خیزسفارشات کو تہہ خانے میں رکھنے کی عادتی ورزش سے آگے بھی اب بڑھا جائے اور ’ہمارے اور ان کےحرام زادے‘ کی تمیز ختم کرکے ہر حرم زدگی کا بلا امتیاز پیچھا کیا جائے تاکہ واقعی یقین ہو سکے کہ ریاست نامی کوئی محافظ بھی ہمارے ساتھ کھڑا ہے ۔( یہ سب میں کہہ تو رہا ہوں لیکن کس سے 

امید تو یہ بندھائی جارہی تھی کہ تنگ نظری اور دہشت گردوں کے گرد جوں جوں گھیرا تنگ ہوتا جائےگا توں توں خوف کی فضا چھٹتی چلی جائے گی اور ہر طرح کے قومی مسائل پر مدلل مکالمے کی روائیت اور رواداری بحال ہوتی چلی جائے گی ۔

مگر یہاں تو حالات بقول اسد اللہ خان غالب یوں ہیں کہ ’ کون بھڑ۔۔رہا ہوا ہے ؟ گورے کی قید سے چھوٹا تو کالے کی قید میں آگیا‘
ایک بلوچی لوک گیت کے بول ہیں، میں نے زندگی ناپ کے دیکھی ، یہ بالشت بھر ہی ہے۔  بہ شکریہ شاہ محمد مری 

وسعت اللہ خان

No comments:

Powered by Blogger.