Header Ads

Breaking News
recent

علم کا ایک اور ’چراغ‘ بجھا دیا گیا.....


جامعہ کراچی کے شعبہ ابلاغ عامہ کے اسسٹنٹ پروفیسر اور تعارفِ سماجی علوم کے کورس ٹیچر ڈاکٹرسید وحید الرحمان عرف ڈاکٹر سید یاسر رضوی کا شمار ایسے مشفق و ہر دلعزیز اساتذہ میں ہوتا تھا کہ جنہیں تمام عمر کے لیے لوگوں کو مراسم کی ڈور میں باندھ لینے کا ملکہ حاصل تھا۔ ان کی جُدائی طبیعت پر اس قدر گراں ہے کہ اسے لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔ خبر کی صداقت کس قدر تکلیف دہ تھی اس کا اندازہ لگانا محال نہ تھا۔ کہیں غصے میں بپھرے طلبہ شدتِ غم سے بے قابو ہورہے تھے تو کہیں اس محسن و پدرانہ شخصیت استاد کی طالبات کے افسردہ و آبدیدہ چہرے تھے۔ کہیں ساتھی مرد اساتذہ کے چہرے ضبطِ رنج سے تنے تھے اور کہیں ساتھی خواتین اساتذہ کے آنسوں میں بھیگے سُرخ چہرے دوست کم برادر کی اذیتِ فرقت کی داستاں کہہ رہے تھے۔

کراچی کے علاقے فیڈرل بی ایریا میں رہائش پذیر ڈاکٹر وحید الرحمان جب اپنے گھر سے نکلے ہوں گے تو اُن کو کہاں علم ہوگا کہ آج پھر ان سے ملنے کا مشتاق ۔۔۔ ان کے چاہنے والوں کا ایک اژدھام، ڈپارٹمنٹ میں اپنے کمروں میں اور اپنی کلاسوں میں ان کا منتظر ہی رہ جائے گا اور وہ کسی نابکار و ظالم کی سفاکی کا شکار ہوجائیں گے۔ اس معاشرے میں اس سے بڑھ کر اور کیا ظلم ہوگا کہ چُن چُن کر طبقہ اساتذہ کی قربانی دی جارہی ہے کہ کوئی شمع جلانے والا باقی نہ رہ جائے۔ گھٹا ٹوپ اندھیارے اس نسل کا مستقبل تاریک کرنے کے درپے ہیں۔
بدقسمتی یہ ہے کہ جامعہ کراچی میں یہ منظر پہلی بار دیکھنے میں نہیں آرہا بلکہ اِس سے پہلے پروفیسر شکیل اوج، مسعود بیگ، جاوید قاضی بھی دہشتگردوں کی دہشتگردوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ جو یقینی طور پر جامعہ کراچی کی تاریخ میں سیاہ باب ہیں۔ 

 پروفیسر ڈاکٹر شکیل اوج کے بعد یوں مصروف ترین گذرگاہ پر دن دھاڑے وہی نامعلوم افراد آئے، انہوں نے نہایت کمالِ فن سے سرِ راہ سیدھا ڈاکٹر وحید الرحمان کی گردن، چہرے اور سینے کو نشانہ بنایا کہ بچنے کی کوئی راہ نے رہ جائے اور حسبِ معمول فرار ہونے میں بھی کامیاب ہوگئے۔ وزیرِ اعلیٰ نے نوٹس بھی لے لیا اور پولیس چیف سے رپورٹ بھی طلب کر لی۔ معاملات لیت و لال کا شکار ہوتے جائیں گے اورپھر ہر ٹارگٹ کلنگ کی طرح یہ معاملہ بھی کہیں دفن ہوجائے گا۔ ڈاکٹر اوج جیسی بلند علمی شخصیت کی ناقدری یہ ہے کہ آج تک ان کے قاتلوں کا سُراغ لگانے میں کوئی مثبت پیش رفت نہ ہوسکی اور اب اُسی احسان مندی کے تحفے ہم ڈاکٹر وحید الرحمان کے پسماندگان کو بھی دیں گے۔

ہمیں آپ سے بھی شکوہ ہے ڈاکٹر وحید الرحمان کہ آپ نے ہمیں معاشرے اور میڈیا کا دو رنگی چہرہ تو دکھایا لیکن اس طمانچے کی ہمت دینے کے لیے ہمارے ساتھ نہیں رہے کہ جس سے ہم رخِ کم ظرف و خود غرض کا منہ توڑ دیتے۔

ڈاکٹر قیصر عباسی نے تمام الزام یہ کہہ کر سندھ حکومت کے سر تھونپ دیے کہ اس سے زیادہ نااہل کوئی حکومت آئی ہی نہیں۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ خود جامعہ کراچی نے ایسے کیا انتہائی اقدامات اٹھائے کہ اس کے اساتذہ کو انصاف ملتا؟ تدریسی عمل کا معطل کیا جانا کیا اس نقصان کا ازالہ ہے؟ (KUJA)، جامعہ کراچی کی ٹیچرز ایسوسی ایشن، اگزیکٹو کونسل اور خود وائس چانسلر جامعہ کراچی، کوئی تو بتائے کہ کس نے کیا کیا؟

کل پروفیسر ڈاکٹر شکیل اوج تھے، آج اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر سید وحید الرحمان ہیں اور کل شاید ایسی ہی کوئی اور قابل و تجربہ کار، مشفق و منعکس نورِ علمی ناحق ظلم کے ان کثیف سایوں میں معدوم ہوجائے۔ ایسے میں اگر اس قوم کی نسلِ نو کوچہ آواراں میں بھٹکتی ہے تو رونا کیسا؟

مہرین فاطمہ

No comments:

Powered by Blogger.