Header Ads

Breaking News
recent

جماعت اسلامی بمقابلہ تحریک انصاف......


آج کراچی کے ضمنی انتخاب کا معاملہ بھی نمٹ جائے گا، انشاء اللہ انتخابی عمل پرامن رہے گا، رات تک نتیجہ آ جانے پر علم ہوجائے گا کہ کس نے کیا پایا؟اس الیکشن میں فتح سے زیادہ ووٹوں کی ممکنہ تعداد پر ہر ایک کی نظر ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ کا یہ گڑھ ہے، اس کا سیاسی ہیڈکوارٹر یہاں موجود ہے، لمبے عرصے سے وہ یہ نشست جیتتی چلی آ رہی ہے، کارکنوں کی بڑی تعداد، مضبوط نیٹ ورک کے علاوہ اسی حلقے سے صوبائی اسمبلی کی دونوں نشستیں ان کے پاس ہیں۔ دیکھنا صرف یہ ہے کہ متحدہ جو ہر الیکشن میں سوا لاکھ ، ڈیڑھ لاکھ ووٹ لے لیتی تھی ، اس بار اس کے ووٹ کتنے ہوں گے؟ 

متحدہ کے مخالفین ہمیشہ سے یہ الزام لگاتے چلے آ ئے ہیں کہ اس کے کارکن پولنگ سٹیشنوں پر قبضہ کر کے بیلٹ باکس بھر دیتے ہیں۔ اس بار حالات چونکہ مختلف ہیں، ماضی کی روایت دہرائی نہیں جا سکے گی، اس لئے متحدہ کے امیدوار کے حاصل کردہ ووٹ ہی ان کی حقیقی سیاسی قوت اور پوزیشن کو ظاہر کریں گے۔ بعض لوگوں کو یہ اندیشہ ہے کہ چونکہ آپریشن کے باوجود ابھی متحدہ کی سیاسی قوت اور پوزیشن ختم نہیں ہوئی ، اسمبلیوں میں اس کے ارکان کی خاصی بڑی تعداد ہے، یہ سوچ بھی موجود ہے کہ کہیں آگے چل کرسیاسی مصلحتیں غالب آجائیں اور آپریشن مؤثر نہ رہے، اس لئے متحدہ کے نیٹ ورک سے بغاوت کرنے یا مقامی سطح پر ان کی مخالفت مول لینے کی ہر کوئی ہمت نہیں کرے گا۔یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ اس ایک سیٹ کے الیکشن کے بجائے کراچی کی تمام نشستوں پر جب الیکشن ہوا ، تب حقیقی صورتحال سامنے آئے گی،مگر کچھ نہ کچھ اندازہ تو بہرحال ہوجائے گا۔

میرے خیال میں اصل دلچسپی تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے مابین مقابلے کی ہے ۔دونوں میں سے زیادہ ووٹ کون لیتا ہے؟ بہت سے لوگوں کو حیرت ہے کہ ان دونوں جماعتوں میں سے ایک کا امیدوار دوسرے کے حق میں دستبردار نہیں ہواکہ اینٹی متحدہ ووٹ یکجا ہوجاتے اور بہتر فائیٹ ہو پاتی۔ہونا تو ایسا ہی چاہیے تھا،نیم دلانہ کوششیں بھی ہوئیں۔ اصل میں یہ ضمنی انتخاب کراچی میں سیاسی جانشینی کی جنگ ہے۔ بظاہر یوں لگ رہا ہے کہ متحدہ کو اس کے حقیقی سائز اور پوزیشن پر جانا پڑے گا۔ اس کا سائز کم ہونے سے جو خلا پیدا ہوگا، اسے کون پُر کرے گا، جو نشستیں متحدہ نہیں جیت سکتی، وہ کس کی جھولی میں گریں گی‘ لڑائی اسی نکتے پر ہو رہی ہے۔ کراچی کسی ایک پارٹی کا شہر کبھی نہیں رہا۔ یہاں مختلف پاور پاکٹس رہی ہیں۔ پیپلزپارٹی کی اپنی پاکٹ تھی، لیاری اس کا ہمیشہ گڑھ رہا۔ جے یوپی کا اپنا حلقہ اثر تھا۔ جماعت اسلامی یہاں کی بڑی اہم اور موثر جماعت تھی۔

مہاجر قومیت کی لہر نے البتہ کراچی کا پورا منظرنامہ بدل کر رکھ دیا۔ جے یوپی اور جماعت اسلامی سمیت دیگر جماعتیں اپنے ووٹ بینک اور پاورپاکٹس سے محروم ہو گئیں۔ لیاری البتہ پیپلزپارٹی کا رہا، اسے ایم کیوا یم فتح نہ کر سکی، اس کی بربادی بعد میں خود ان لوگوں نے کی، جنہیں وقت نے پیپلزپارٹی کی قیادت سونپ دی۔جے یوپی کمزور ہوگئی، مولانا نورانی کے انتقال کے بعد تو اس کانام ہی رہ گیا ہے، مسلم لیگ ن پر اگر توجہ دی جائے تو اس کے نیم مردہ وجود میں جان پڑ سکتی ہے،میاں صاحب نے مگر سندھ اس بار پیپلزپارٹی کو بخش رکھا ہے۔
جماعت اسلامی کو یہ کریڈٹ بہرحال جاتا ہے کہ اس نے کٹھنائیوں بھرے پچھلے دو تین عشروں میںجیسے تیسے سیاسی لڑائی جاری رکھی۔

 وہ ہر بار الیکشن میںموجود رہی، انتخابی نتائج میں مضحکہ خیز تناسب ہوتا، ڈیڑھ لاکھ کے مقابلے میں بیس ، پچیس یا تیس ہزارووٹ، جماعت نے مگر مورچہ خالی نہیں چھوڑا۔ 2002ء کے انتخاب میں ایم ایم اے کے پلیٹ فارم سے انہیں نصف درجن سے زائد نشستیں مل بھی گئیں، جماعتی زعما کا دعویٰ تھا کہ وہ تین نشستیں مزید جیت رہے تھے، مگر مقتدر قوتوںنے ایسا نہ ہونے دیا۔ یہ جیت جماعت کی نفسیات میں اہمیت رکھتی ہے۔ وہاں یہ سوچ پیدا ہوئی کہ اگر ایم کیو ایم کمزور پڑے یا انتخابی عمل کو شفاف بنایا جائے تو انہیں کراچی کی سیاست میںمعقول حصہ مل سکتا ہے۔

مئی 2013 ء کے انتخابات میں پاکستانی سیاست میں ایک نیا عنصر داخل ہوا، جس نے پرانے سیاسی پیمانوں کوتہس نہس کر دیا۔ تحریک انصاف نے اس الیکشن میں جہاں اپنی طاقت کا مظاہر ہ کیا، وہاں ووٹرو ں کے لئے نئی آپشن بھی پیدا کر دی۔ پنجاب میں پیپلزپارٹی کا صفایا ہوگیا، لاہور اور سنٹرل پنجاب میں اس کا ووٹ بینک ٹوٹ کر تحریک انصاف کی طرف گیا۔ لاہور اور دیگر شہروںبلکہ خیبر پختون خوا میں بھی کم وبیش یہی حال جماعت اسلامی کے ساتھ

ہوا۔ کراچی میں بھی تحریک انصاف نے سات آٹھ لاکھ ووٹ لے کر ہر ایک کو حیران کر دیا، وہ شہر کی دوسری بڑی جماعت بن کر ابھری۔ جماعت اسلامی کے کارکن اور فیس بک پر اس کے پُرجوش حمایتی اس بات کو درست نہیں مانتے، ان کا خیال ہے کہ چونکہ جماعت اسلامی نے بائیکاٹ کر دیا تھا، اس لئے اس کے ووٹروں نے تحریک انصاف کے امیدواروں کو ووٹ ڈالا۔ یہ بات ممکن ہے کسی حد تک درست ہو، مگر ہمارے ہاں امیدوار ہی اپنے ووٹروں کو گلی محلے سے باہر نکال کر پولنگ سٹیشن تک لاتا ہے۔ امیدوار ہی نے بائیکاٹ کر دیا تو اس کے تمام کارکن ، پولنگ ایجنٹ گھروں کو چلے گئے، کسی نے اپنے ووٹروں کو متحرک کرنے ، گھر سے نکالنے کی زحمت ہی نہیں کی۔ اس لئے جماعت کا ہارڈ کور ووٹر تو بہرحال گھر ہی رہا۔اس انتخاب میںصورتحال کا درست اندازہ ہوپائے گا۔

جماعت نے اس حلقے میں خاصا کام کر رکھا ہے۔ اس کے دفاتر، تربیت یافتہ کارکن اور امیدوار کی مقامی سطح پر گہری شناسائی ، تعلقات اور اچھی ساکھ ہونے کے ساتھ ساتھ انہوں نے ڈور ٹو ڈور مہم بھی چلائی ہے۔ امیر جماعت نے بھی اس حلقے کو خاصا وقت دیا، بڑی ریلیوں اور جلسوں کے ساتھ ساتھ کارنر میٹنگز میں بھی جاتے رہے اور پارٹی کو نچلی سطح پر متحر ک کر دیا۔ راشد نسیم صاحب کو میڈیا نے اس بار خاصی کوریج دی ہے،ماضی میں تیس ہزار کے قریب ووٹ لے چکے ہیں، دیکھنا یہ ہے کہ نئی صورتحال میں وہ جماعت کے روایتی حلقہ فکر اور حلقہ اثر سے باہر کے کتنے ووٹروں کو کھینچ پاتے ہیں؟

تحریک انصاف نے اپنے مخصوص انداز میں انتخابی مہم چلائی ہے۔ دھوم دھڑکا ، ریلیاں ، پرجوش تقریریں اور میڈیا ہائیپ پیدا کر کے وہ متحدہ کے مقابلے کی قوت ہونے کا تاثردینے میں کامیاب رہی،تنظیمی سطح پروہ کمزور ہے۔ ان کے امیدوار عمران اسماعیل حلقے میں اتنے معروف نہیں، گلی محلے کی سیاست وہ نہیں کرتے رہے، تحریک انصاف کے پاس مضبوط تنظیم اور تربیت یافتہ کارکن بھی موجود نہیں۔ ویسے تو یہ سب عام انتخابات میں بھی نہیں تھا، اس کے باوجودا نہیں ملک بھر سے ستر اسی لاکھ اور کراچی ، لاہور جیسے شہروں سے سات، سات لاکھ ووٹ مل گئے تھے۔ 

عمران خان کی سیاسی کمزوریاں اپنی جگہ ، یہ کریڈٹ توبہرحال جاتا ہے کہ انہوں نے روایتی سیاسی سٹرکچر کوچیلنج کرتے ہوئے اس پر زوردار ضرب لگائی ہے۔ پاکستانی سیاست اور روایتی سیاستدانوں کے چلن سے بیزار لوگوں کی انتخابی عمل میں واپسی اسی وجہ سے ممکن ہوپائی۔ تحریک انصاف کا ووٹ بینک تبدیلی کے خواہاں انہی لوگوں پر مشتمل ہے۔ جو گلی محلے، سٹرکوں، سیوریج کی درستی یا تھانے کچہری کی سیاست کے بجائے‘ اس پارٹی سے ملک گیر سطح پر نظام ٹھیک کرانے کے خواہش مند ہیں۔ دیکھنا یہی ہے کہ اس بار تحریک انصاف کا تبدیلی کا نعرہ کس حد تک پزیرائی حاصل کرتا ہے؟ بظاہر تومتحدہ کی پوزیشن سب سے بہتر ، اس کے بعد جماعت اور تیسری پوزیشن تحریک انصاف کی لگ رہی ہے۔ یہ مگر یاد رکھنا چاہیے کہ عمران خان اور اس کی جماعت سرپرائز دینے کی ماہر ہے۔ تیس اکتوبر 2011ء کے لاہور جلسہ سے لے کر ملتان میں جاوید ہاشمی کی نشست جیتنے تک اس نے کئی حیران کن نتائج دئیے ہیں۔ خاموش ووٹروں کو وہ متحرک کر سکتی ہے، اگر ایسا ہوا تو یہ ترتیب مختلف ہو جائے گی۔

عامر خاکوانی


No comments:

Powered by Blogger.