Header Ads

Breaking News
recent

خلیج، پاکستان تعلقات کے لیے ضرر رساں سادہ تجزیے...خالد المعینا


پاکستان کے وزیراعظم میاں نوازشریف نے جمعہ کے روز اس بات کی تردید کی ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو کوئی ''وش لسٹ''(مطالبات کی فہرست) دی گئی ہے۔البتہ انھوں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان آرمی سعودی مملکت کے خلاف کسی بھی جارحیت کی صورت میں اقدام کی پابند ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کے یمن تنازعے سے متعلق مؤقف پر خلیجی ممالک کے ساتھ پیدا ہونے والے بظاہر تناؤ کے باوجود ان کی سعودی قیادت کے ساتھ بات چیت انتہائی خوش گوار ماحول میں ہوئی ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان مضبوط دوستانہ تعلقات مزید مضبوط تر ہوں گے۔

پاکستان کی پارلیمان میں یمن تنازعے سے متعلق قرارداد کی منظوری اور اس کے اس ملک میں فوجی کارروائیوں میں شرکت کرنے کے لیے اپنے فوجی نہ بھیجنے کے فیصلے پر بہت سی قیاس آرائیاں کی گئی ہیں۔

تاہم حکومت اور پاکستان کی تمام جماعتوں نے کھلے لفظوں میں واضح کیا ہے کہ سعودی عرب کے خلاف کسی بھی جارحیت کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس کا دفاع کیا جائے گا۔اس کا یہ مطلب ہے کہ وہ سعودی سرزمین کے دفاع کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہیں۔

بدقسمتی سے بعض خلیجی لکھاری اور تجزیہ کار برصغیر کی داخلہ اور خارجہ پالیسی کے گمبھیر اور پیچیدہ پہلوؤں سے کماحقہ شناسا نہیں ہیں۔وہ فوراً ہی ایک نتیجے پر پہنچ گئے اور متحدہ عرب امارات کے وزیرمملکت برائے امور خارجہ انورغرغاش نے تو بدقسمتی یہ بھی کہہ دیا کہ پاکستان کو قیمت چکانا پڑے گی۔
ہمارے میڈیا کے بہت سے ناتجربے کار اور نابالغ تجزیے کاروں نے یہ نتیجہ بھی اخذ کر لیا کہ پاکستان خلیج کے مدمقابل آ کھڑا ہوا ہے حالانکہ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہے۔ ہمیں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان ایک ''بونا پارٹسٹ'' ریاست ہے جہاں جمہوری ماحول میں بھی داخلہ اور خارجہ امور دونوں میں آرمی کی ایک جزوی آواز ہے اور پارلیمان کو تمام پالیسی امور یا حکومت کے فیصلوں میں حتمی اختیار حاصل ہے۔

پاکستان آرمی کی اپنی حدود وقیود ہیں۔آرمی پارلیمان کی منظوری کے بغیر کوئی اقدام نہیں کرسکتی ہے۔تاہم پارلیمان نے اپنی قرارداد میں اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان آرمی سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کو درپیش کسی بھی خطرے کی صورت میں اس کا دفاع کرے گی لیکن وہ یمن میں بہت سوں کے بہ قول ایک ''غیرملکی جنگ'' میں ملوّث نہیں ہونا چاہتی ہے۔البتہ آرمی سمیت تمام پاکستانیوں کے لیے سعودی عرب کی علاقائی سالمیت ایک سرخ لکیر ہے۔

یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ پاکستان کی بھارت کے ساتھ ایک ہزار میل لمبی سرحد ہے اور وہاں اس کے لڑاکا دستے تعینات ہیں۔اس کی مغربی سرحدیں ایران اور افغانستان کے ساتھ ملتی ہیں جہاں پاک آرمی طالبان اور دوسرے دہشت گرد گروپوں کے خلاف لڑرہی ہے۔

پاکستان کی رائے عامہ بھی یمن میں کسی فوجی مداخلت کے حق میں نہیں ہے۔انھیں یہ خدشہ ہے کہ یمن تنازعے میں شرکت سے ان کے اپنے ملک میں فرقہ وارانہ تشدد اور کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہوجائے گی۔پاکستان کے بہت سے سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ غیر جانبدار رہنے سے وہ تنازعے کے خاتمے کے بعد ثالث کا کردار ادا کرنے کی بہتر پوزیشن میں ہوں گے۔
اس سب کے باوجود وزیراعظم میاں نواز شریف کی حکومت سعودی عرب کے خلاف کسی بھی جارحیت کی صورت میں اس کے دفاع کے لیے سفارتی حمایت اور فوجی عزم سے دستبردار نہیں ہوئی ہے۔پاکستان کی سابقہ تمام حکومتیں بھی سعودی عرب کے دفاع کا عزم ظاہر کرتی رہی ہیں۔

سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات مضبوط بنیاد پر استوار ہیں اور یہ وقت کے تھپیڑوں اور خطے میں ہونے والی سیاسی اور عسکری اتھل پتھل کے باوجود اسی طرح چلتے رہیں گے۔دونوں ممالک تزویراتی اتحادی ہیں اور ان کے دوستانہ تعلقات اور باہمی مفادات کی ایک طویل تاریخ ہے۔
میں خلیج میں اپنے میڈیا کے ساتھیوں کو فقط یہ کہنا چاہتا ہوں کہ وہ فوری طور پر کسی نتیجے تک پہنچنے سے گریز کریں اور عوام کو غلط معلومات فراہم نہ کریں۔میں یہاں پوپ الیگزینڈر کے الفاظ نقل کروں گا۔انھوں نے اپنی نظم ''تنقید پر ایک مضمون'' میں کہا تھا:''تھوڑا جاننا بہت ہی خطرناک چیز ہے''۔

خالد المعینا

کہنہ مشق صحافی ،سیاسی تجزیہ کار اور لکھاری خالد المعینا سعودی گزٹ کے ایڈیٹر ایٹ لارج ہیں۔

No comments:

Powered by Blogger.