Header Ads

Breaking News
recent

حسینہ واجد کا متنازعہ جنگی ٹربیونل....

جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے ایک اور رہنماء محمد قمر الزماں کو پھانسی دے دی گئی ہے۔ قمر الزماں کو 1971 ء میں جنگی جرائم کے تحت پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی۔اس سزا پر عمل درآمد کرتے ہوئے بنگلہ دیشی وقت کے مطابق رات 10 بجے تختہ دار پر لٹکا دیا گیا ہے۔ 1971 ء کی جنگ میں جماعت اسلامی کے رہنماء قمر الزمان پر پاکستان کی حمایت کرنے کا الزام تھا ۔62 سالہ قمر الزمان پر 120 غیر مسلح کسانوں کو ہلاک کرنے کے الزام میں سزائے موت دی گئی تھی اور گزشتہ ہفتے اٹارنی جنرل کی جانب سے اْن کی رحم کی اپیل مسترد ہونے کے بعد سزائے موت پر عمل درآمد ہوا ہے اور اس سے قبل بھی جماعت اسلامی کے رہنماؤں کو اس جرم کی پاداش میں پھانسی دی جا چکی ہے

بنگلہ دیش میں 2010 سے دو مختلف ٹریبونل جنگی جرائم کے مقدمات کی سماعت کر رہے ہیں۔ان عدالتوں کی تشکیل وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کے احکامات پر کی گئی تھی اور ان کا کام جنگِ آزادی کے دوران کیے جانے والے جرائم کا جائزہ لینا ہے۔2010 سے اب تک ان عدالتوں نے 13 افراد کو مجرم ٹھہرایا ہے جن میں سے زیادہ تر کا تعلق حزبِ اختلاف کی پارٹی جماعتِ اسلامی ہے ۔بنگلہ دیش میں عوامی سطح پر جنگی جرائم میں ملوث افراد کو سزائیں دینے کے حق میں مظاہرے بھی ہوئے ہیں،جبکہ جماعتِ اسلامی کا کہنا ہے کہ یہ تمام مقدمات سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے ہیں۔ حکومت جنگی جرائم کے ٹریبونل کو اپنے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لئے استعمال کر رہی ہے۔اس کے علاوہ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ بھی کہہ چکی ہے کہ اس عدالت کا طریق کار بین الاقوامی معیار کے مطابق نہیں ہے۔اقوامِ متحدہ اس ٹربیونل کو تسلیم نہیں کرتی ہے۔

پاکستان میں جماعت اسلامی بھی بنگلہ دیش میں مذہبی جماعت کے رہنماؤں کو دی جانے والی سزاؤں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کر چکی ہیں، جبکہ حکومت نے بھی ان سزاؤں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ بھارت اور اس کے زیرسایہ عوامی لیگ کی حکومت، بنگلہ دیش کو خانہ جنگی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ وزیراعظم حسینہ واجد کا12 دسمبر کو دیا جانے والا یہ بیان بڑی اہمیت کا حامل ہے : ’’فوج، انتظامیہ اور عوام سے مَیں یہ کہتی ہوں کہ جو لوگ ’جنگی جرائم‘ کے ٹربیونل کو ناکام بنانا چاہتے ہیں، آپ آگے بڑھ کر انھیں عبرت کی مثال بنا دیں‘‘۔ کیا کوئی جمہوری حکومت فوج , انتظامیہ اور عوام کو اس اشتعال انگیز انداز سے اْبھارکر، اپنے ہی شہریوں پر حملہ آور ہونے کی دعوت دے سکتی ہے؟ لیکن سیکولر، جمہوری، ترقی پسند اور بھارت کے زیرسایہ قوت حاصل کرنے کی خواہش مند عوامی لیگ کی حکومت اسی راستے پر چل رہی ہے۔ انتقام کی آگ میں وہ اس سے بھی عبرت حاصل نہیں کر رہی کہ ایسی ہی غیرجمہوری، آمرانہ اور بھارت کی تابع مہمل ریاست بنانے کی خواہش میں ان کے والد شیخ مجیب الرحمن، ہم وطنوں کے ہاتھوں عبرت کا نشان بنے تھے۔

بنگلہ دیش میں انٹرنیشنل کریمنل ٹربیونل کا قیام گزشتہ برس عمل میں لایا گیا تھا ،تاکہ بنگلہ دیش کی آزادی کی جنگ کے دوران جنگی جرائم کے مرتکب ہونے والے مشتبہ افراد کو عدالت کے سامنے لایا جا سکے۔ 1971 تک بنگلہ دیش کو مشرقی پاکستان کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ بنگلہ دیش کی پاکستان سے علیحدگی کے وقت لاکھوں انسانی جانیں ضائع ہوئی تھیں۔ بنگلہ دیش میں اس وقت شیخ حسینہ کی حکومت ہے۔ وزیر اعظم حسینہ کا کہنا ہے، ’’ جنگ میں تین ملین کے قریب افراد ہلاک ہوئے تھے۔ بہت سے قتل قابض پاکستانی افواج کے بنگلہ دیشی اتحادیوں نے کیے تھے۔

حسینہ واجد کو یہ نہیں یاد کہ ان کے والد نے بھارت سے مکتی باہنی سے الحاق کر لیا تھا اور بھارتی دہشت گردوں نے نہتے اور غریب بنگالیوں کو چن چن کر مارا اور الزام پاک فوج پر لگا دیا۔ پہلے شیخ مجیب الرحمن بھارت کے ہاتھوں میں کھیلتے تھے اب حسینہ واجد بھارتی گود میں بیٹھ کر محب وطن اور خصوصاً اپوزیشن جماعت اسلامی کے بزرگ رہنماؤں کو خود ساختہ جنگی ٹربیونل کے ذریعے ختم کر رہی ہیں۔ کیا وہ سمجھتی ہیں کہ ایسا کرنے سے بھارت خوش ہو کر انہیں مزید اقتدار دلوادے گا۔ آخر انہیں ووٹ لینے کے لئے اپنے ہی عوام میں آنا پڑے گا۔ کیا بنگلہ دیشی عوام ان کو اس قتل عام پر معاف کر دیں گے؟۔

ریاض احمدچودھری

No comments:

Powered by Blogger.