Header Ads

Breaking News
recent

پاک چین دوستی زندہ باد......


کہتے ہیں کہ چین اور پاکستان کی دوستی ہمالیہ سے بلند ا ور گہرے سمندروں سے بھی گہری ہے۔ پچھلے ساٹھ سالہ دوستی کے اس تجربے میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے اعتماد پر پورے اترے ہیں اور یوں یہ دوستی بڑھتی ہی بڑھتی جا رہی ہے۔ چین کے صدر آج سے پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں۔ یہ دورہ اگرچہ دو روزہ ہے لیکن اس دوران ایسے تاریخی معاہدے طے پائیں گے جن کا اثر دونوں ممالک کی سلامتی اور معیشت پر صدیوں تک رہے گا۔

 ماضی کے دریچوں میں اگر دیکھا جائے تو چین اور پاکستان کی دوستی ہر امتحان میں پوری اتری۔ زمانہ جنگ ہو یا امن، معاشی میدان ہو یا صنعت کی ترقی، دفاعی سازوسامان کی تیاری ہو یا پرامن ایٹمی پروگرام، چین اور پاکستان میں اربوں ڈالر کے پروگرام رواں دواں نظر آتے ہیں۔ دونوں ممالک کی کوشش ہے کہ دونوں ممالک اس دوستی سے مستفید ہوں۔ چین کے صدر کے آج کے شروع ہونے والے دورے کے دوران ان منصوبوں پر معاہدے ہوں گے جن کی منصوبہ بندی کافی عرصے سے جاری تھی۔ کہتے ہیں کہ 52 ایسے معاہدے ہوں گے یا مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط ہوں گے لیکن ان معاہدوں کے تحت چین پاکستان میں مجموعی طور پر 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی کر چکا ہے۔ 

جس کا آغاز چینی صدر کے دورے کے بعد ہونے جا رہا ہے۔ مغربی میڈیا نے چین کی اس سرمایہ کاری کو جسب دستور تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ چین کے اندر چونکہ اقتصادی ترقی کی رفتار سست روی کا شکار ہے اس لئے چین اب دوسرے ممالک میں سرمایہ کاری پر توجہ دے رہا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ چین پاکستان میں دوطرفہ مفادات کی ترقی کے لئے سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ یہ سرمایہ کاری پاکستان میں انفراسٹرکچر کے منصوبوں کے علاوہ توانائی کے منصوبوں میں کی جائے گی۔ توانائی کے منصوبوں میں 34 ارب ڈالر خرچ ہوں گے۔ ان میں کوئلہ سے بجلی پیدا کرنے کے کارخانے لگائے جائیں گے۔

 اس کے لئے شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کے پروجیکٹ بھی شامل ہیں۔ ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے لئے بھی مدد فراہم کی جائے گی اور خاص طور پر ایٹمی توانائی سے چلنے والے بجلی کے بڑے منصوبے تیار ہوں گے۔ چینی ماہرین کے مطابق جب یہ تمام منصوبے اگلے دو سالوں میں پایہ تکمیل کو پہنچیں گے تو اس وقت تک کی پاکستان کے لئے بجلی کی تمام ضروریات کو پورا کیا جا سکے گا۔ اس کے علاوہ چینی صدر کے اس دورہ کے دوران آبدوزوں کی خریداری کے معاہدے بھی طے پائیں گے جن کی بدولت پاکستان چین سے آٹھ آبدوزیں خریدے گا جن کی مالیت 4 سے 5 ارب ڈالر بتائی جاتی ہے۔ اگرچہ ان معاہدوں پر بڑی دیر سے بات چیت چل رہی تھی لیکن موجودہ حکومت کی مثبت پالیسیوں کے سبب اب یہ معاہدے پایہ تکمیل کو پہنچ رہے ہیں۔ چین اور پاکستان کی دوستی برابر کی بنیاد پر استوار ہے اور انہی اصولوں کے تحت آگے بڑھ رہی ہے۔

چین کے صدر کے اس دورے کے دوران مشہور اقتصادی راہداری کے قیام پر بھی دستخط ہوں گے۔ جس کے تحت گہرے سمندروں پر قائم گوادر بندرگاہ کو چین کے ساتھ منسلک کیا جائے گا۔ اس راستے سے چین کو دنیا کی بڑی منڈیوں سے توانائی کی رسد کے لئے بڑی مدد ملے گی۔چین کراچی اور گوادر کو پاکستان میں موجود اور پہلے سے قائم ریلوے کے نظام کو چین سے منسلک کرنے کا بھی خواہش مند ہے۔ چین اور پاکستان کے حالیہ دور میں اقتصادی تعلقات کے بہتر ہونے کا اس امر سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سال 2007ء میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم 4 ارب ڈالر تھا جو کہ اب بڑھ کر 10 ارب ڈالر سے زائد ہو چکا ہے۔ ان منصوبوں کے قیام اور اقتصادی راہداری کے قیام کے بعد اس تجارت کو مزید فروغ ملے گا۔ 

چین گوادر بندرگاہ کو بہت زیادہ ترقی دینے کا خواہش مند ہے، کیونکہ اس بندرگاہ سے نہ صرف اقتصادی طور پر بلکہ دفاعی طور پر بھی دونوں ممالک کو بے شمار فوائد حاصل ہوں گے۔ اقتصادی راہداری کے سبب خاص طور پر پاکستان کے صوبے بلوچستان کو خصوصی ترقی حاصل ہوگی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اس وقت بین الاقوامی قوتیں بلوچستان میں حالات کو خراب کرنے کے درپے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ بلوچستان میں جاری ایسے منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچنے نہ دیا جائے اور پاکستان سلامتی کے خطرات سے ہی دوچار رہے۔

 حالیہ دنوں میں ہونے والے واقعات انہی منصوبوں کی کڑیاں ہیں لیکن پاکستان نے ان واقعات کا سخت نوٹس لیتے ہوئے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہر حال میں ان منصوبوں پر عملدرآمد کو یقینی بنایاجائے گا۔ ان منصوبوں پر کام کرنے والے چینی ماہرین اور دیگر لوگوں کی حفاظت یقینی بنائی جائے گی۔ اس مقصد کے لئے ایک ڈویژن فورس مختص کر دی گئی ہے جو صرف ان علاقوں میں اقتصادی راہداری اور دیگر ترقیاتی منصوبوں میں کام کرنے والے لوگوں کی حفاظت پر معمور ہوگی۔ حالات و واقعات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت ان کارروائیوں کے پیچھے ہے جو کہ نہ صرف پاکستان میں حالات کی خرابی کا ذمہ دار ہے بلکہ اس کی خواہش ہے کہ چین گوادربندرگاہ سمیت پاکستان میں جو بڑے ترقیاتی منصوبے شروع کرنے جا رہا ہے ان میں رکاوٹیں ڈالی جائیں اس قسم کی رکاوٹیں ماضی میں بھی ڈالی گئیں لیکن چین کے ماہرین اور کارندوں نے بلا خوف و خطر پاکستان میں ہر قسم کے منصوبوں پر کام کرکے انہیں پایہ تکمیل تک پہنچایا۔

چین اور پاکستان کے ماضی کے تعلقات اور چینی صدر کے آج سے شروع ہونے والے دورہ کا تقابل جب پاکستان کے دوسرے ملکوں کے ساتھ تعلقات کے ساتھ کیا جاتا ہے تو اس سے بڑے مختلف حقائق سامنے آتے ہیں۔ ان دو دنوں کے دوران جو معاہدے ہوں گے ان کی تکمیل پر 46 ارب ڈالر خرچ ہوں گے جبکہ امریکہ کی طرف سے پاکستان کو 2009ء سے لے کر اب تک جو امداد مل سکی ہے وہ مجموعی طور پر پانچ ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے لیکن اس کے باوجود امریکی اس دورے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ ہمارے لئے مقابلے کی بات نہیں ہے۔

 ہم صرف پاکستان میں امن، سلامتی اور خوشحالی چاہتے ہیں۔ پاکستان کی سرحدوں پر دہشت گردوں کے جو ٹھکانے ہیں ان سے پوری دنیا کو خطرہ ہے۔ اس لئے ان کو ختم کرنا ہی سب کے لئے بہتر ہے۔دہشت گردی کی اس جنگ میں پاکستان نے جتنا انسانی اور مالی نقصان اٹھایا ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے لیکن اس کے بدلے بین الاقوامی برادری نے ہمیشہ پاکستان سے ’’Do More‘‘کا مطالبہ کیا ہے۔ چین کے صدر کے دورہ پاکستان اور اتنے بڑے اقتصادی، سلامتی اور دفاعی پیکیج پر بڑی بحث جاری ہے۔ خاص طور پر بھارت کی جانب سے بہت منفی ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ 

آبدوزوں کی فراہمی پر تو بھارت نے ہمیشہ کی طرح سے منفی ردعمل کا مظاہرہ کیا ہے۔ شاید بھارت کی حکومت یہ بھول چکی ہے کہ چینی صدر نے پچھلے سال بھارت کا بھی دورہ کیا تھا اور ہر قسم کی اقتصادی اور تجارتی تعاون کا یقین دلایا تھا۔ اس کے علاوہ پچھلے سال ہی امریکی صدر کے دورہ بھارت کے موقع پر بھارت کو سول نیو کلیئر ٹیکنالوجی کی فراہمی کے معاہدے پر بھی دستخط ہوئے تھے۔ ان معاہدوں میں بھارت کو نہ صرف بین الاقوامی روایات کے خلاف سول ایٹمی ٹیکنالوجی فراہم کرنے کا معاہدہ ہوا بلکہ اس میں بہت سی ایسی شقوں کو بھی نرم کیا گیا جن میں معائنے کی گنجائش کو ختم کیا گیا۔ بہرحال حالات بتاتے ہیں کہ چینی صدر کا یہ دورہ پاکستان میں ترقی کے پہیے کو مزید تیز کرنے کا سبب بنے گا اور دفاعی لحاظ سے پاکستان میں مزید اعتماد کا سبب بنے گا اور خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔

 پاک چین دوستی زندہ باد

حسن اقبال


No comments:

Powered by Blogger.