Header Ads

Breaking News
recent

ڈاکٹر عافیہ کی رہائی: قومی جرگہ کی سفارشات.....

سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق جج وجیہہ الدین صدیقی نے عافیہ موومنٹ کے زیراہتمام مزار قائد کے سائے تلے اتوار کو ’’قومی جرگہ‘‘ سے خطاب کرتے ہوئیکہا کہ ’ ہم12برسوں سے قید قوم کی بیٹی کیلئے کچھ بھی نہیں کر سکے، امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس نے ہمارے ملک میں سرعام قتل کئے اور ہم نے اُسے عافیہ کو رہا کرانے کے بجائے محض شرمناک عدالتی کارروائی کے ذریعے بحفاظت امریکہ بھجوا دیا، ہمیں ڈاکٹر عافیہ کیلئے امریکی رائے عامہ کو ہموار کرنا اور اُن کی انٹیلی جنس ایجنسیز کو حقائق بتانا ہوں گے، ہمارے عدالتی نظام کو حرکت میں آجانا چاہیے‘۔جسٹس (ر) وجہیہ الدین احمد صدیقی نے کہا کہ’ قومی جرگہ حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کا دروازہ کھٹکھٹائے، انٹرنیشنل کریمنل کورٹ میں جایا جائے، چیدہ چیدہ لوگ دوبارہ مل بیٹھیں اور عافیہ قومی جرگہ کی سفارشات تیار کرکے حکومت کو پیش کردی جائیں‘۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی جرمِ بے گناہی میں امریکہ میں 86 برس کی قید کاٹ رہی ہیں۔ ان پر بگرام ایئربیس میں جولائی 2008ء میں ایم فور بھاری رائفل کے ذریعے ایف بی آئی کے ایجنٹس اور امریکی فوجیوں پر حملہ آور ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی امریکی عدالت میں اس الزام کی ابتدا ہی سے تردید کرتی رہیں۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو پرویز مشرف دَور میں امریکی حساس اداروں نے بچوں سمیت اغوا کیا تھا۔ بعدازاں انہیں ڈکٹیٹر پرویز مشرف کی حکومت کی رضامندی سے ایشیا کے بدترین ٹارچر سیل بگرام ایئربیس منتقل کر دیا گیا۔ 

بگرام ایئر بیس میں ان پر بہیمانہ تشدد روا رکھا گیا۔ دنیا بھر میں عورتوں پر تشدد کے خلاف آواز اٹھانے کے اکلوتے پرچم بردار امریکہ کے فوجیوں نے انہیں جسمانی، ذہنی اور جنسی تشدد کا نشانہ بنایا۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی اس خطے کی سب سے زیادہ پڑھی لکھی خاتون ہیں۔ نیورو سائنٹسٹ کی حیثیت سے ان کے ممتاز اور منفرد مقام کو امریکی تعلیمی اداروں نے بھی تسلیم کیا۔ یہ امر انتہائی افسوسناک ہے کہ ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے قومی وقار اور ملی غیرت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ذاتی مفادات کے حصول کے لئے سرزمین پاکستان کی قابل فخر تعلیم یافتہ اور باکردار خاتون کو ایف بی آئی کی تحویل میں دے دیا۔ 

طرّہ یہ کہ پرویز مشرف اس شرمناک اقدام پر خفیف اور نادم ہونے کی بجائے فخر محسوس کرتا تھا کہ اس نے امریکہ کو مطلوب پاکستان کی ایک بیٹی کو ایف بی آئی کے حوالے کیا۔ غضب تو یہ ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے بھی 5 سالہ دَور میں مؤثر طریقے سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ نہیں کیا۔ اب اگر وزیر داخلہ نے حتمی سفارشات کی سمری وزیراعظم کو ارسال کر دی ہے تو مجرموں کے تبادلے کا ایسا معاہدہ کیا جائے جس کے تحت کسی امریکی یا پاکستانی سزایافتہ مجرم کو اس کے ملک کے حوالے کیا جا سکے۔ 

اگر امریکہ اپنے ایک شہری ریمنڈ ڈیوس کو جو 3 پاکستانی شہریوں کا قاتل تھارہا کروانے کے لئے تمام ذرائع بروئے کار لا سکتا ہے تو ہماری حکومت کو بھی مایہ ناز دختر پاکستان کی رہائی کے لئے تمام سفارتی اور اخلاقی ذرائع استعمال کرنا چاہئیں اور اب اس معاملے کو کسی بھی طور معرض التواء میں نہیں ڈالنا چاہئے۔ ڈاکٹر عافیہ کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کا یہ شکوہ لائق توجہ ہے کہ ’ حکمرانوں نے بے حسی اور بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر عافیہ کی وطن واپسی کے کئی مواقع کو ضائع کر دیا، اب وقت آگیا ہے کہ عافیہ رہائی تحریک کی صدائیں ہر گھر سے بلند ہوں گی اور اب قوم مزید ذلت و رسوائی برداشت نہیں کرے گی‘۔

No comments:

Powered by Blogger.