Header Ads

Breaking News
recent

کشمیر۔ ایک عالمی مسئلہ....


 فروری کو پاکستان اور ساری دنیا میں پاکستانی کشمیریوں کو ان کاغصب کیا گیا حق خودارادیت بازیاب کرانے کے لیے کشمیر سے اظہار یکجہی کا دن منا رہے ہیں۔ یہ دن اب پاکستانی قومی زندگی کا ایک ریگولر فیچر بن چکا ہے، جس میں وہ عہد کرتے ہیں کہ کشمیریوں کواقوا م متحدہ کی منظور قراردادوں اور 16 سال تک بھارت کے پہلے وزیراعظم رہنے والے آنجہانی جواہر لال نہرو کے وعدوں وعید کے مطابق اس سوال پر رائے شماری کا حق دلا کر رہیں گے کہ انہوں نے بھارت کے ساتھ رہنا ہے یا پاکستان کے؟ 

ان کے اس سوال، جو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونے والی رائے شماری کا واحد سوال ہوگا پر ہی کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ ہوگا۔ جیسا کہ جنوبی سوڈان ایسی ہی رائے شماری سے سوڈان سے الگ ہو کر تین سال قبل آزاد ریاست بنا اور کوئی بارہ سال قبل انڈونیشیا کے علاقے ایسٹ تیمور کے عیسائیوں نے ایسے ہی سوال پر مشتمل ریفرنڈم میں ایسٹ تیمور کو انڈونیشیا سے الگ کرنے کی حمایت کر کے اپنے علاقے (ایسٹ تیمور) کو آزاد ریاست بنا لیا۔ چند ماہ قبل اسکاٹ لینڈ میں ہونے والا ریفرنڈم برسوں کے تنازعات کو حق خودارادیت دے کر ختم کرنے کی تازہ ترین مثال ہے جس میں ’’اسکاٹ لینڈ‘‘ میں آبادی کے ایک حصے میں پائی جانے والی اس خواہش کہ اسے برطانیہ عظمیٰ سے الگ کر کے آزاد ریاست بنایا جائے، کو تسلیم کرتے ہوئے ریفرنڈم کرا کر سکاٹ لینڈ اور برطانیہ میں پائے جانے والے عشروں کے تنازع کو اسی طرح حل کر لیا گیا۔

اسکاٹش عوام کی اکثریت نے اپنے خودارادیت کو استعمال کرتے ہوئے برطانیہ کے ساتھ ہی رہنے کا فیصلہ کیا، یوں برطانیہ اور اسکاٹ لینڈ کے درمیان یہ دیرینہ تنازع ختم ہوگیا۔ نہیں ملا تو حق ارادیت کشمیریوں کو نہیں ملا جس کے لئے بھارت نے انتہائی مکاری، عالمی برادری سے مسلسل نظریں چراتے اور پھر مقبوضہ کشمیر میں لاکھوں فوج کی تعیناتی سے عالمی سطح پر تسلیم کئےگئے کشمیریوں کے حق خودارادیت کو دبایا ہوا ہے جبکہ اقوام متحدہ کے ریکارڈ کے مطابق کشمیر فلسطین کی طرح دنیا کے گمبھیر ترین حل طلب تنازعات میں سے ایک ہے۔ واضح رہے کہ کشمیر پر سلامتی کونسل میں دو مرتبہ قراردادیں منظور ہوئیں کہ یہاں رائے شماری کرا کر کشمیریوں کو حق خودارادیت دیا جائے جس میں وہ پاکستان یا بھارت کے ساتھ رہنے کا اپنا حتمی فیصلہ کریں۔ 

عالمی میڈیا اور خود اقوام متحدہ کا ریکارڈ ثابت کرتا ہے کہ بھارت نے اس قرارداد کی ناصرف حقیقت کوتسلیم کیا بلکہ 16 سال تک عہدے پر رہنے والے پہلے بھارتی وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو حالت سازگار ہونے پر بھارت میں رائے شماری کرانے کا وعدہ کرتے رہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان نے سلامتی کونسل کی سیز فائر کی اپیل کو تسلیم کرتے ہوئے اس وقت جنگ روک دی تھی جبکہ پاکستانی افواج اور قبائلی بڑی تیزی سے کشمیر فتح کرتے جارہے تھے، پاکستان سے ملحقہ آزاد کشمیر کو اسی مرحلے پر آزاد کرایا گیا۔ 

پاکستان نے آزاد ہوئے اس خطے کو اب تک اپنے انتظامی کنٹرول میں اسی لئے شامل نہیں کیا کہ جب رائے شماری ہوگی تو آزاد کشمیر اور گلگت، بلتستان سمیت کشمیر کے پورے خطے میں ہوگی۔ اقوام متحدہ اپنی قراردادوں اور بھارتی حکومت اورنہرو حکومت کے وعدوں کے مطابق پورے کشمیر میں رائے شماری کرانے کی آج بھی پابند ہے۔ بھارت کے پاس اس سے انحراف کی کوئی راہ نہیں ہے۔ اس کے بغیر برصغیر میں ہرگز پائیدار امن نہیں ہوگا جیسا کہ امریکی صدر کلنٹن نے اپنے دور میں بھارت اور پاکستان کے دورے کے بعد ’’کشمیر‘‘ کو عالمی سیاست کا ’’فلیش پوائنٹ‘‘ قرار دیا، کشمیر کی یہ خطرناک حیثیت وہاں فوجوں کی تعداد مسلسل بڑھانے یا نئی دہلی میں مودی جیسی ہندو بنیاد پرست حکومت کے برسراقتدار آنے، یا مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت تسلیم کرنے کے حربوں سے کبھی ختم نہ ہوگی۔

امر واقعہ تو یہ ہے کہ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریہ کے دعوے کے ساتھ اس تضاد میں 7 عشروں سے مبتلا ملک ہے جو بندوق کے زور پر جبراً کشمیر کے بڑے اور اہم حصے کو غصب کیے ہوئے ہے۔ اس نے ہزارہا کشمیری نوجوانوں کو راجستھان کی تپتی جیلوں میں برسوں سے قید کر کے اور ہزاروں محترم کشمیری خواتین کو گینگ ریپ جیسی وحشت اور دہشت کا نشانہ بنا کر کشمیریوں کی حق خودارادیت کے حصول کی پرامن لیکن منظم تحریک کو مستقلاً کچلنے کی ناکام کوشش کی ہے۔

 یہ اب ایک زندہ حقیقت ہے کہ بھارت صرف اور صرف 7 لاکھ تعینات فوج کے بل بوتے پر کشمیریوں کے حق خودارادیت کو غصب کئے ہوئے ہے جبکہ پاکستان کی یہ صلاحیت برقرار ہے کہ وہ بھارت کی اس ہٹ دھرمی سے پیدا ہونے والے مسئلہ کشمیر کو ایک عالمی مسئلے کے طور پر زندہ رکھے اور بھارت اسے اپنی سامراجی ذہنیت سے غصب نہ کر پائے۔ تبھی تو سابق صدر کلنٹن نے کشمیر کو ’’فلیش پوائنٹ‘‘ قرار دیا تھا۔

اب بھارتی دورے کے دوران سفارتی مصلحت کے پیش نظر دبائی گئی یہ خبریں بھی باہر نکل کر میڈیا میں جگہ بنا رہی ہیں کہ صدر اوباما نے دورہ بھارت میں وزیراعظم مودی پر پاکستان کے ساتھ کشمیر سمیت تمام مسائل پر بات چیت کرنے کے لئے دبائو ڈالا ہے۔ واشنگٹن پر یہ تیزی سے واضح ہوتا جارہا ہے کہ اسلام آباد، 9/11 جیسے پیدا ہونے والے شدید امریکی سفارتی دبائو سے نکل رہا ہے۔ اس دوران بھی پاکستان نے کشمیر پر اپنے تاریخی موقف سے کوئی دستبرداری تو نہیں کی تھی۔ اب جبکہ دہشت گردی کی ایک پیچیدہ جنگ میں وہ تیزی سے کامیابیاں حاصل کر رہا ہے۔ بھارت اور امریکہ مل کر جتنا بھی گرینڈ گیم پلان تیار کر لیں کشمیر پر پاکستان کا موقف جتنا سچا ہے اتنا ہی اٹل ہے۔ 

یہ امریکہ کے سوچنے کا معاملہ ہے کہ مسئلہ کشمیر ہی خطے میں ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ کا سبب بنا کیونکہ کشمیریوں میں حق خودارادیت کی خواہش اور پاکستان کو اپنے موقف سے ہٹانا، دونوں بھارت کے بس کی بات نہیں، اس کے پاس یہ راستہ تھا کہ وہ اپنی عسکری دھاک سے ہی کشمیر کو غصب کیے رکھے، لیکن پاکستان نے اس دھاک میں بھی توازن پیدا کردیا ہے تو پھر کشمیر جیسا مسئلہ سلگتا ہوا مسئلہ ہی نہیں ہے اب یہ فلیش پوائنٹ ہے، جسے ہر امریکی انتظامیہ جانتی ہے، لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی اور بھارت سے امریکہ کے تجارتی مفادات واشنگٹن کو سچائی سے یکجہتی پر روکتے ہیں اس سے امریکہ کا امیج مسلسل تباہ ہوتا رہا اور ہورہا ہے وہ خود کو سپر پاور سمجھتا رہے لیکن دنیا اب اسے فیئر سپر پاور نہیں سمجھتی۔ سوال یہ ہے کہ 21 ویں صدی میں سپر پاور کا فیئر ہونا لازم بھی ہے کہ نہیں؟

مسئلہ کشمیر پر پاکستانی موقف کی سچائی اور اسی سچائی کی بنیاد پر ایسٹ تیمور، جنوبی سوڈان اور سکاٹ لینڈ کو ملنے والے حق خودارادیت کا تقاضہ ہے کہ ’’یوم کشمیر‘‘ پر پاکستان کی وزارت خارجہ مسئلہ کشمیر پر پاکستانی موقف کے حقیقت پسندانہ موقف اور بھارت کی ہٹ دھرمی اور سامراجی ذہنیت پر ایک کھلا کھلا بیان جاری کرے، جسے تمام اہم ممالک کے صدر ہائے مقام میں پاکستانی سفارتخانے میڈیا کے ذریعے بین الاقوامی برادری میں عام کریں۔

ڈاکٹر مجاہد منصوری

No comments:

Powered by Blogger.