Header Ads

Breaking News
recent

کامن سنس ایکٹ 2015ء....وسعت اللہ خان

آئین کو عموماً ایک خشک دستاویز سمجھا جاتا ہے جس میں قانون دانوں، ارکانِ پارلیمان اور بیورو کریٹک اسٹیبلشمنٹ کے لیے دلچسپی کا سامان ہو تو ہو مگر بیشتر عام لوگ اسے کھول کے نہیں پڑھتے۔حالانکہ پاکستان کا آئین مجریہ 1973ء مطالعے کے لیے ایک دلچسپ دستاویز ہے۔ بطور قوم آج پاکستانیوں کو جس بحران کا سامنا ہے اس کے ڈانڈے ڈھونڈنے کے لیے کتابِ آئین کا مطالعہ بہت ضروری ہے۔مثلاً پاکستانی آئین سے یہ تو پتہ چلتا ہے کہ ریاست کا سرکاری مذہب اسلام ہے مگر اسلامی عقائد کی سرکاری تشریح کس فقہ کے حساب سے ہوگی یہ معلوم نہیں ہوتا۔ (ایران اور سعودی عرب کا سرکاری مذہب بھی اسلام ہے تاہم ایران میں اسلامی قوانین کی تشریح فقہء جعفریہ اور سعودی عرب میں حنبلی فقہ کے تحت ہوتی ہے)۔

اس آئین کے تحت مسلمان شہریوں کی انفرادی و اجتماعی زندگی کو شریعت کے مطابق ڈھالنے اور عربی زبان کی ترویج اور قرانِ مجید کی درست طباعت یقینی بنانے کی ذمہ دار ریاست ہے۔تاہم غیر مسلم شہریوں کی انفرادی و اجتماعی زندگی سنوارنے اور ان کی مذہبی زبانوں اور الہامی کتابوں کی ترویج و اشاعت سے ریاست کا کوئی لینا دینا نہیں، حالانکہ آئینِ پاکستان کے تحت قانون کی نگاہ میں تمام شہری برابر ہیں۔نیز ریاست نے اقلیتوں کے جائز حقوق و مفادات کے تحفظ کا بھی تحریری آئینی وعدہ کر رکھا ہے۔

یا اللہ میری رہنمائی فرما‘‘چونکہ پاکستان آئینی لحاظ سے ایک اسلامی نظریاتی ریاست ہے لہذا یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اس ریاست کا صدر جوکہ مسلح افواج کا سپریم کمانڈر بھی ہے اور وزیرِ اعظم جو حکومت کا سربراہ ہے مسلمان ہوگا۔ نیز وفاقی شرعی عدالت کے جج اور ان ججوں کے فیصلوں کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل سننے والا بنچ بھی مسلمان ججوں پر مشتمل ہوگا۔لیکن قومی و صوبائی اسمبلی کا اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر، سینیٹ کا چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے ججوں بشمول چیف جسٹس،گورنر، وزیرِ اعلیٰ، مسلح افواج کے سربراہان، الیکشن کمیشن کے ارکان بشمول چیف الیکشن کمشنر یا کسی اور آئینی عہدے پر تقرر کے لیے مسلمان ہونے کی شرط نہیں۔

فرض کریں کہ سینیٹ کا چیئرمین کوئی غیر مسلم بن جاتا ہے اور صدرِ مملکت کا عہدہ خالی ہوجاتا ہے تو پھر سینیٹ کا غیر مسلم چیئرمین آئین کی روشنی میں مسلمان صدرِ مملکت کی جگہ بطور قائم مقام کیسے لے سکتا ہے؟ اس بارے میں آئین چْپ ہے۔آئین کے تیسرے شیڈول میں مذکورہ تمام آئینی عہدوں کے لیے حلف کی طے شدہ عبارات موجود ہیں۔یہ حلف پڑھے بغیر کوئی شخص اپنا عہدہ نہیں سنبھال سکتا۔وفاقی و صوبائی وزیر، قومی و صوبائی اسمبلیوں کے رکن اور وزیرِ اعلیٰ، اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر، سینیٹ کے رکن، چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین اور صوبائی گورنر کے حلف کی عبارت بسم اللہ سے شروع ہوتی ہے یعنی شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان اور رحم کرنے والا ہے۔

آگے چل کے آئین و اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سالمیت اور اپنے فرائض ایمانداری سے ادا کرنے کے عہد کے بعد یہ جملہ ہے کہ میں اسلامی نظریے کے تحفظ کے لیے کوشاں رہوں گا جو کہ تخلیقِ پاکستان کی بنیاد ہے۔ حلف کی عبارت کا اختتام ان الفاظ ہر ہوتا ہے ’اللہ میری مدد و رہنمائی فرما ( آمین )۔‘حلف کی یہ عبارت پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلیوں کے غیر مسلم ارکان سمیت سب آئینی عہدیداروں کو پڑھنا پڑتی ہے۔

اور پھر میری نگاہ اسی آئین کے باب اوّل کی شق بائیس پر بھی پڑتی ہے جس کے تحت کسی شہری کو کسی بھی تعلیمی ادارے میں ایسی مذہبی تعلیم نہیں دی جائے گی یا اسے کسی ایسی مذہبی تقریب یا عبادت میں حصہ لینے پر مجبور نہیں کیا جائے گا جس کا تعلق کسی اور مذہب سے ہو۔بیشتر دنیا میں آئینی عہدیدار اپنی اپنی الہامی کتابوں پر ہاتھ رکھ کے حلف لیتے ہیں۔کیسا لگے گا اگر کل بھارتی پارلیمنٹ بھی رام راج بل منظور کرلے (جو کہ آر ایس ایس اور اس سے وابستہ تنظیموں کی دلی خواہش ہے ) اور پارلیمنٹ میں قمر الدین، ہدایت اللہ، محمد طفیل بھی حلف اٹھا رہے ہوں کہ

میں ایشور کی شپت لیتا ہوں کہ بھارتیہ راشٹر اور دیش کے سنودھان کا وفادار رہوں گا اور رام راجیہ کی رکھشا کروں گا کہ جس پر بھارتیہ سنسکرتی آدھارت ہے۔ بھگوان میری مدد اور مارک درشن کرے۔‘حلف دل سے اٹھایا جاتا ہے۔ کوئی مسلمان عسائیت کے تحفظ کا عہد کرتے ہوئے خداوند یسوع مسیح سے مدد مانگ کر یا کوئی کرسچن اسلامی نظریے کے تحفظ پر بسم اللہ پڑھ کے اللہ سے مدد مانگتے ہوئے جو حلف اٹھائے گا کیا واقعی وہ حلف ہوگا؟

تو کیا یہ ممکن ہے کہ ان معروضات پر دھیان دیتے ہوئے کامن سنس ایکٹ مجریہ دو ہزار پندرہ کے نام سے آئین کے تھرڈ شیڈول میں کوئی ترمیم لائی جائے تاکہ غیر مسلم ارکانِ پارلیمان اور آئینی عہدیدار بھی اپنے اپنے عقائد کے مطابق ریاستِ پاکستان سے وفاداری اور اس کے آئینی تحفظ کی دل و جان سے قسم کھا سکیں۔

وسعت اللہ خان

No comments:

Powered by Blogger.