Header Ads

Breaking News
recent

عافیہ : میری چشم تر کی باسی....


عافیہ، بکھری قوم کی بھولی داستان، کوئی معتصم باللہ، محمدبن قاسم عافیہ کے نصیب میں بھی؟ دورہ امریکہ ہو یا امریکی دورہ پاکستان، مقتدر طبقہ کی چہروں پر سجی طمانیت، تمکنت سب اچھے کی رپورٹ دیتی نظر آتی ہیں۔ کاش وزیر اعظم نواز شریف، جب دنیا کے سب سے طاقتور انسان کے سامنے جیبیں پھرول پھرول اپنا مدعا بیان کر رہے تھے، کیا ہی اچھا ہوتا کہ ایک سلپ کی تان قومی بے غیرتی، بے شرمی اور بے حمیتی کا ریفرنس پوائنٹ، ڈاکٹر عافیہ پر توڑ دیتے۔ مگر یہ ہوتا کیسے؟ کیوں ہوتا؟ 

ایک سیاستدان کی ریڑھ کی ہڈی سے پودا پھوٹ پڑا، سجنوں نے تشویش ظاہر کی، تو کمال بے اعتنائی سے جواب آیا کہ’’ فکر کیسا، درخت بن گیا تو مفت کی چھائوں میں بیٹھوں گا‘‘ مملکت خداداد بالائی طبقہ کے تسلط میں، زمین پر رینگنے والے 20 کروڑ حشرات الارض کی ایک ہی التجا، جوتے مارنے والے داروغوں کی تعداد بڑھائی جائے۔اے اہل وطن ایسی جمہوریت بھی دیکھی جہاں عوام الناس اور اشرافیہ کے درمیان ایک قدر بھی مشترک نہ ہو، Total Disconnect ۔قیامت کی اس گھڑی میں حکمران اشرافیہ پستی کی اتھاہ گہرائیوں میں بے فکری، آسودگی، عیش، آسائش ،چین کے ساتھ گزر بسر میں مصروف نظرآتی ہے۔

چار پائوں والا خونخوار، جنگل کا بیسٹ، جبکہ 2 پائوں والا درندہ حضرت انسان کے قبیلے کا حصہ۔ پشاور کے آرمی اسکول پر حملہ کرنے والے بھی درندے اور ہٹلر، اسٹالن، اسرائیل اور امریکہ کی تاریخ بھی درندگی کے زمرے میں۔ دکھ اور تکلیف اتنی، امریکہ کا اصرار کہ ’’ انسانی حقوق اور جمہوریت کا جھومر بدنما چہرے سے نہ ہٹایا جائے‘‘۔ غیر قانونی عقوبت خانوں اور بہیمانہ تشدد میں ریکارڈ بنا چکا پھر بھی انسانی حقوق کی ٹھیکیداری سے دستبرار ہونے پر تیار نہیں۔ اس نوع کے دو ٹانگوں والے جانور کی درندگی، انسانیت کے کس خانے میں فٹ ہوگی۔ سائبیریا اور نازی جرمنی کے اذیتی مراکز کا گوانتانامو بے، بگرام جیل، عراقی جیلوں، کھلے سمندر میں قائم عقوبت خانوں سے مقابلہ کریں، ہیچ نظر آئیں گے۔ اذیتوں کے نت نئے ایسے طریقے دریافت کہ سائنسی ایجادیں پس پشت۔ افغانستان، پاکستان، عراق، سوڈان، لیبیا، مصر، فلسطین، شام، یمن شاید ہی کوئی مسلمان ملک جواینٹ سے اینٹ بجنے سے بچا ہو ۔ 

تعفن اور تفنن کی فقید المثال، 2008 میں منتخب ہونے والے صدر اوباما کو حلف لیے چند ہفتے ہی ہوئے کہ امن کا نوبیل انعام گلے میںلٹکا دیا گیا، آنے والے چھ سالوں نے نوبیل انعام کی ’’توثیق‘‘ ہی کی ۔ جی ہاں! وہی نوبیل انعام جو ہماری بچی ملالہ کے حصے میں بھی آیا۔آخر امن نوبیل انعام کا مستحق اوباما سے بڑھ کر اور ہو بھی کون سکتا تھا۔ پوری دنیا آج میدان جنگ بن چکی۔ میرا وطن زیادہ بدقسمت کہ 4000 کلومیٹر کے لگ بھگ سرحدی لائن، ساری غیر محفوظ،پورا ملک حالت جنگ میں۔ 

ہندوستان کی دس لاکھ فوج پاکستان کی سرحدوں سے چمٹی رالیں ٹپکا رہی ہے۔ افغان جنگ کو امریکہ کامیابی سے پاکستان کے اندر لا چکا ہے،یہ جنگ واقعی ہماری جنگ بن چکی۔ ا ے قوم ؎ ’’اگے تیرے بھاگ لچھیئے‘‘۔

وطن عزیز کے اندر کراچی، بلوچستان، فاٹا اور دیگر حصوں میں افواج پاکستان اور عوام میں دوریاں پیدا کرنے کے لیے، آپس میں الجھا دیا گیا ہے۔ کل ہی بلوچستان میں دہشت گردوں نے فرنٹیر کانسٹیبلری کے 7 جوان شہید کر دئیے۔ نادیدہ قوتوں نے بذریعہ مہرے، مرکزی حکومت کو دانستہ کمزور ، بے دست وپا کر دیا۔ خاکم بدہن عوام الناس اور افواج پاکستان میں خلیج کی کوئی صورت نظر آئی تو استعمار چیرنے پھاڑنے کے لیے تیار۔ 

لیبیا، شام ، فلسطین، عراق، یوگو سلاویہ والا ماڈل پیش نظر۔ مشرقی پاکستان میں جلے پھر بھی قدم پھونک پھونک اٹھانے کو تیار نہیں۔ آج امریکی مداخلت ہر ادارے میں بدرجہ اتم موجود۔ جس حکومت کا وزیراعظم خود اپنی حکومت کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن جائے، حکومتی ناکامی کا برملا اعتراف کرے، سمجھو دشمن پہلی دفاعی لائن توڑنے میں کامیاب ہوچکا۔ ماضی میں دوسری دفاعی لائن جب ٹوٹی تو سانحہ مشرقی پاکستان مقدر بنا۔

چند دن پہلے بذریعہ ای میل ایک جریدے میں ایک پاکستانی جرنلسٹ کا کالم پڑھنے کو ملا۔ پروفیسر ضیاء الرحمٰن نامی جرنلسٹ کس طرح دل پر پتھر رکھ کر داستان الم ضابطہ تحریر میں لائے ۔چند سال پہلے پاکستان میں متعین سابق سفیر ملا عبدالسلام ضعیف کی کتاب My Life with Taliban مارکیٹ میں آئی تو ایک ہی سانس میں پڑھ ڈالی، کاش نہ ہی ملتی۔ چاروں طبق روشن کر گئی۔ پژمردہ ، رنجیدہ بناگئی۔ میرا بیٹا حسان، کالج کے ابتدائی مراحل میں تھا، مجھ سے متقاضی کہ کتاب پڑھنے کے لیے اس کے حوالے کی جائے۔ یقین کیجیے، پڑھنے کے بعد میں نے کتاب چھپا دی کہ ناپختہ ذہن متحمل ہو ہی نہ سکتا تھا۔

چند دن پہلے امریکی سینیٹ میں سی آئی اے کے ہاتھوں ایذار سانی کی تفصیلات سامنے آئیں تو انسانی حقوق کا واویلا کرنے والوں کا بدنما، بھدا چہرہ عیاں رہا۔ پروفیسر ضیاء الرحمٰن کی تحریر نے تکلیف ہی بڑھائی ۔پروفیسر صاحب پچھلے دنوں افغانستان گئے تو وہاں سے صوبہ ’’پاردان‘‘ جا پہنچے، بگرام جیل کے ایک سابقہ قیدی سے ملاقات مطمع نظر تھی۔ 55 سالہ سہراب خان بگرام جیل میں 5 سال ایک ایسے جرم کی پاداش میں گزارآیاجو اس سے کبھی سرزدہی نہ ہوا تھا۔سہراب خان نے پہلے تو اپنی ابتلاء اور آزمائش کا ورد کیا کہ ’’ وہ محو اپنی فراٹے بھرتی کار میں کابل جارہا تھا کہ چارامریکی فوجی گاڑیوں نے روک کر گھیرے میں لے لیا۔سی آئی اے اور امریکی عسکری اہلکارپلک جھپکتے اپنی گاڑیوں سے نکلے، بغیر لفظ بولے، مجھے دبوچا، گھسیٹتے اپنی ایک گاڑی میں ڈالا،لے جاکربگرام جیل کی ایک بیرک (Barack) میں جاٹھونسا‘‘۔ بگرام جیل پہنچنے پر معلوم ہوا کہ ’’ لگڑ بگڑ‘‘ انٹیلی جنس معلومات کی بنا، میرے پر طالبان کے مخبر ہونے کا شبہ تھا۔جیل میں 500 کی بمشکل گنجائش ، مجھ سے پہلے ہی800 سے زائد لوگ انسانی ڈھیری کا نظارہ پیش کررہے تھے ، تکلیف دہ بات کہ اکثریت معصوم اور بے گناہ۔

سنہ 2003 کے آخری حصے میں ہماری بیرک کے آخری حصے میں ایک جوان عورت کا اضافہ ہوا، جو بعد میں عافیہ صدیقی کے نام سے متعارف ہوئی۔ پانچ سال کے میرے جیل دورانیہ میں عافیہ سے میری چار مختصر ملاقاتیں رہیں، ہر ملاقات میں، اپنے تئیں اس کو تسکین، تشفی، دلاسہ دینے کی بھرپور کوشش کرتا رہا‘‘۔
پروفیسر ضیاء الرحمٰن جو پہلے ہی عافیہ کی بیتی سے کما حقہ، واقف اس پر لکھے گئے تحقیقی، تفتیشی رپورٹس، کالم ، نیوز، فیچر، ٹی وی پروگرام غرضیکہ کہ متنازع فیہ مسائل کی چھان بین میں عرق ریزی کر چکے تھے، سہراب خان کی بتائی باتیں ان کے جسم وجان چیرتے ہوئے ، دل ودماغ میں کئی نئے شگاف ڈال گئیں، بلڈ پریشر چھت کو چھو چکا، بمشکل حواس مجتمع رکھے۔ یہ خیال ہی روح فرسا کہ ڈاکٹر عافیہ کو اس کے ہم وطن نے امریکیوں کے ہاتھ فروخت کیا، ایک ایسے سپہ سالار نے، جس نے ارض وطن اور اس کے مکینوں کی جان ومال کی حفاظت کا حلف اٹھا رکھا تھا۔

آج غداری کے مقدمے میں مطلوب ماتھے سے پسینہ خشک کرنا معمول بن چکا، کاش شرم کی چند بوندیں عافیہ کی سپردگی پر بھی نمودار ہوتیں۔ بقول پروفیسر صاحب، سہراب خان عافیہ کی حالت زار بتاتے زار وقطار روتے رہے ۔ سنہ 2005 میں جیل کا ایک واقعہ ’’کچھ امریکی فوجی آئے اور عافیہ کو ایک ہیلی کاپٹر میں لے گئے، 3 دن بعد عافیہ ایک اسٹریچر پر واپس آئی، کئی دن دو پیروں پر کھڑی ہونے سے قاصر رہی۔ ہمیں بتایا گیا کہ وہ کراچی کے قریب سمندر میں تعینات بحری بیڑے پر لے جائی گئی، جہاں اس پربہیمانہ تشدد ہوا ، تین دن کا وحشیانہ جبر اس وقت تک جاری رکھا گیا جب تک عافیہ نیم مردہ نہ ہوچکی۔

لاش کی مانند عافیہ کو لاکر واپس بارک میں جمع کرا دیا گیا۔ ہر رات، تسلسل سے عافیہ پر ہونے والے تشدد اور اس کی چیخ وپکار قیدیوں کو ہراساں اور دہشت زدہ رکھتی، نیندیں اچاٹ رہنا روزمرہ کا معمول‘‘۔ ایوان ریڈلی کئی سال پہلے ہی عافیہ پر بیتی، اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں آشکار کر گئی تھی۔ ’’ایک موقع پر ایک دفعہ حافظہ قرآن عافیہ اونچی آواز میں تلاوت قرآن میں مگن تھی کہ ایک امریکی فوجی نے اس سے خاموش رہنے کو کہا۔ عافیہ نے تلاوت جاری رکھی۔ اس گستاخی پر فوجی نے عافیہ کو بہیمانہ طریقے سے دبوچا اور زنجیروں سے ہاتھ پائوں، کرسی سے باندھ دئیے ۔عافیہ کا منہ زبردستی کھول کر شراب اس کے معدے میں براہ راست انڈیلی گئی۔ یہ عمل اس وقت تک جاری رہا جب تک شراب گلے تک نہ پہنچی اس عمل میں عافیہ کا سانس بند ہو گیا چنانچہ مزید شراب اندر جانے کی گنجائش نہ رہی۔ یہ عمل ہر قیدی کے اعصاب مفلوج کر گیا۔ ساری جیل نے اس شرمناک واقعہ پر بھوک ہڑتال کر دی، بالآخر اس فوجی کو جیل سے ٹرانسفر کر دیا گیا۔

’’سہراب بول رہا تھا اور اب پروفیسر صاحب زار و قطار رو رہے تھے۔ ’’جنوری ہی کی ایک یخ بستہ صبح نور، عافیہ کو جیل کے پتلے لباس میں گھسیٹ کر دلان می ںلا کر پٹخ دیا گیا۔ چیخ وپکار سے سارے قیدی جاگ گئے،عافیہ بلک رہی تھی۔ جانتے ہوئے کہ کیا ہونے والا ہے سلاخوں کے ساتھ لگ کر ذات باری سے ہم لوگ رحم رحم کی بھیک مانگ رہے تھے۔ عافیہ کا پورا جسم آہنی زنجیروں اور بیڑیوں سے جکڑا نظر آیا۔ گرم کپڑوں، موٹی جیکٹوں، لمبے جوتوں، اونی ٹوپیوں سے مزین درجنوں سی آئی اے اور شقی القلب امریکی فوجی درندوں نے عافیہ کو اپنے گھیرے میں لے رکھا تھا۔ آناً فاناً برفانی پانی کی بالٹیاں عافیہ پر انڈیل دی گئیں۔

 ہر قیدی کا دل دھل چکا، روحیں لرز لرز پھڑپھڑا رہیں تھیں۔ ایک گارڈ رائفل کے نچلے حصے سے مسلسل مار رہا تھا، حکم نامہ کہ ’’جیل کے دالان کے چکر لگائو،عافیہ بمشکل اٹھتی اور پھر وہیں ڈھیر ہو جاتی کہ حالت نیم مردہ۔ صدر جارج بش پوچھتے پھرتے تھے کہ "Why do they hate us"۔ بھارتی دانشورارون دھتی رائے کا تبصرہ ’’امریکیو تم جسم کا ایکسرے کرکے جسم کی ہڈیاں گن لو گے مگر تمہارے پاس، تمہارے خلاف نفرت اور حقارت کو ناپنے کا کوئی پیمانہ نہ ہو گا‘‘۔ نوم چومسکی کا کہنا کہ ’’ذہین فطین عافیہ، نظام کو بدلنے کی صلاحیتوں سے مالا مال، امریکیوں کا اس کو ناکارہ بنانا بنتاہے‘‘۔

بے حس حکمرانو، آج جب جان کیری آیا تو حمیت ملی کا کوئی تقاضا بھی پورا ہوا، یا نیلام گھر ہی سجا رہا۔ اے میری قوم، اس جرم میں آپ بھی حکمرانوں کے ساتھ برابر کے شریک۔ قوم کی بیٹی کی تذلیل پر ایسا سناٹا۔ لا وارث قوم کی لا وارث بیٹی کا کوئی پرسان حال بھی۔ ہزاروں میل دور عافیہ بغیر کسی جرم کے درندوں کے قبضہ میں، اللہ کا عذاب ہی، جس کی پکڑ میں میری قوم آ چکی۔

’’عافیہ ‘‘! گو شبنم افشاں آنکھ تیرے غم میں ہے
نغمہ ’’قدرت‘‘ بھی نالہ ماتم میں ہے

"بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

No comments:

Powered by Blogger.