Header Ads

Breaking News
recent

پرویز مشرف کا دعویٰ اور زمینی حقائق....



سابق صدر اور آرمی چیف پرویز مشرف کا مستقبل کیا ہے؟ اس بارے میں اَن گنت قیاس کئے جا سکتے ہیں، مگر انہوں نے حال ہی میں ایک چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے بڑی دلیری کے ساتھ یہ کہہ دیا ہے کہ حکومت کو پتہ ہونا چاہئے کہ میری فوج میں کیا اہمیت ہے، اس لئے مجھے معمولی آدمی نہ سمجھا جائے۔ کیا عجیب صورت حال ہے کہ ایک طرف پرویز مشرف سیاست دان بن کر اپنی جماعت چلا رہے ہیں اور دوسری طرف وہ فوج کی چھتری تلے بھی رہنا چاہتے ہیں۔ 

اُسی فوج کی چھتری تلے جو اُن کی رخصتی کے بعد بہت تبدیل ہو چکی ہے اور اُس کی قیادت اب سیاست میں ملوث ہونے کو تیار نہیں اور نہ مُلک میں مارشل لاء لگانا چاہتی ہے، حالانکہ اس دوران بعض اوقات ایسے مواقع بھی آئے جب فوج کو مُلک میں آپریشن اور لاقانونیت کے خلاف اپنا کردار ادا کرنے کی اپیلیں کی گئیں۔ پرویز مشرف کے خلاف حال ہی میں اکبر بگٹی کیس میں فرد جرم بھی عائد کی گئی ہے۔ یہ آرٹیکل 6 کے تحت چلنے والے کیس کے بعد دوسرا سنگین نوعیت کا مقدمہ ہے، جس کا وہ سامنا کر رہے ہیں تاہم انہوں نے کہہ دیا ہے کہ اس مقدمے کا کوئی سر پیر نہیں، پہاڑوں میں اُس وقت کیا ہوا، کس نے اکبر بگٹی کو مارا، اس کی کوئی شہادت ہے اور نہ مقدمے میں کوئی جان، صرف سیاسی مقاصد کے لئے یہ کیس چلایا جا رہا ہے۔

پرویز مشرف پچھلے کچھ عرصے سے خود کو تیسری قوت کا گاڈ فادر ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جب سے مخدوم امین فہیم نے اُن کے ساتھ ملاقات کی ہے، بہت سی افواہیں ہیں، حالانکہ خود امین فہیم اس ملاقات کو صرف ذاتی ملاقات کہہ چکے ہیں، جس کا کسی سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ پرویز مشرف ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان کی کھل کر حمایت کرتے رہے۔ تاہم انہوں نے بڑی ہوشیاری سے یہ بھی کہا ہے کہ عمران خان کو ابھی میچور سیاست دان بننے کے لئے وقت درکار ہے۔ 
گویا دوسرے لفظوں میں وہ یہ چاہتے ہیں کہ اُن کی چھتری تلے موجودہ حکومت کی مخالف تمام سیاسی قوتیں اکٹھی ہو جائیں،اب انہوں نے واضح طور پر یہ پیغام بھی دے دیا ہے کہ فوج کبھی انہیں تنہا نہیں چھوڑے گی۔ مَیں سمجھتا ہوں ان کا ایک چینل پر آ کر ایسا دعویٰ کرنا بہت سے مضمرات کو سامنے لے آیا ہے۔ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ ان پر آرٹیکل 6لگا کر جو کارروائی شروع کی گئی وہ صرف سیاسی ایشو کی حد تک رہے گی، کبھی بغاوت کے مقدمے میں انہیں سزا نہیں ہو سکے گی۔کیا واقعتا دھرنوں اور مختلف حوالوں سے ماض�ئ قریب میں حکومت پر پڑنے والے دباؤ صرف پرویز مشرف کے خلاف شروع کی جانے والی کارروائی کا ردعمل تھے؟

 کیا حکومت سے واقعی غلطی ہوئی تھی کہ اس نے پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل6کے تحت خصوصی کورٹ میں ریفرنس بھیجا،جس کے بعد کھینچا تانی کا ایک طویل عمل شروع ہوا۔ پرویز مشرف نے خصوصی عدالت کے سامنے پیش ہونے سے ہر ممکن انکار کیا، فوجی ہسپتال میں داخل رہے، لیکن بالآخر انہیں مجبور ہونا پڑا۔ شاید فوج انہیں ایک حد تک تحفظ دے سکتی تھی۔ جب معاملہ کسی اور طرف جانے لگا تو انہیں فرد جرم کے لئے عدالت میں پیش ہونا ہی پڑا۔ تاہم اس کے بعد انہیں ہر قسم کا استثنیٰ مل گیا۔

 اب اکبر بگٹی قتل کیس میں انہیں فرد جرم کا سامنا ہے، لیکن یقینِ واثق ہے کہ وہ یہاں بھی ایک آئرن مین کی طرح کسی بھی قسم کی قانونی گرفت سے محفوظ رہیں گے۔ نجانے ہماری سیاسی قیادت نے یہ حماقت کیوں کی کہ ایک سابق آمر کو جو فوج کے چیف آف آرمی سٹاف تھے۔ نشان عبرت بنانے کا فیصلہ کیا۔ ذرا آپ حالات کا یو ٹرن ملاحظہ فرمائیں۔ ایک دور تھا کہ جب پرویز مشرف کو سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے وکلاء تحریک کے ذریعے چاروں شانے چت کر دیا تھا۔ وہ قوم کے ہیرو بن کے ابھرے تھے،مگر جونہی وہ چیف جسٹس کے منصب سے علیحدہ ہوئے ان کا قد کاٹھ کم ہونا شروع ہو گیا۔ 

آج اُن کی یہ حالت ہے کہ انہیں اپنی نیک نامی برقرار رکھنے کے لئے عمران خان پر 20ارب ہرجانے کا مقدمہ کرنا پڑا۔ خیر یہ تو ایسی بات نہیں، اصل بات یہ ہے کہ انہوں نے عدالتی نظام کی آزادی اور مضبوطی کا جو ڈھنڈورا پیٹا تھا،وہ آج اس طرح ملیا میٹ ہو گیا ہے کہ خود پارلیمنٹ نے فوجی عدالتوں کا ترمیمی بل منظور کیا ہے۔کیا دلچسپ حقیقت ہے جو کام پرویز مشرف اپنے اقتدار میں ہونے کے باوجود نہیں کرا سکے وہ اب ہو چکا ہے، اس لئے ان سے جب فوجی عدالتوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ضرور ہونی چاہئیں، کیونکہ ہمارا عدالتی نظام انصاف دینے سے قاصر ہے۔

یہ کہتے ہوئے وہ یہ بھول گئے کہ انہیں انہی عدالتوں نے ریلیف دے رکھا ہے اور انہیں گرفتار نہیں ہونے دیا۔ یہ انہی عدالتوں کی قانونی موشگافیاں ہیں کہ جن سے فائدہ اٹھا کر وہ ہر پیشی پر استثنیٰ لے لیتے ہیں، حالانکہ فوجداری مقدمات میں ملزم کا حاضر ہونا ایک قانونی شرط ہے۔

پاکستان کو جس قسم کے چیلنجوں کا سامنا ہے اس کی وجہ سے فوج کی اہمیت مسلمہ ہے۔ اب یہ دہشت گردی کا مسئلہ ہی دیکھ لیں، ہمارے سول اداروں میں اتنی سکت ہی نہیں کہ وہ اس عفریت سے نمٹ سکیں۔ بجا طور پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ دہشت گردوں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں سنے جانے چاہئیں۔ ہم ہر معاملے میں فوج کی طرف دیکھتے ہیں۔ یقیناًفوج بھی پاکستان کی ہے اور اُس کی طرف مشکل وقت میں دیکھنا چاہئے، مگر سوال یہ ہے کہ جس نظام پر ہم اربوں روپے ہر سال خرچ کرتے ہیں، اُس کی افادیت کیا ہے۔اگر پرویز مشرف آج یہ کہتے ہیں کہ جمہوریت یا آمریت کوئی معنی نہیں رکھتے، اصل چیز گڈ گورننس ہے،جو عوام کو امن و سکون دے سکے تو غلط نہیں کہتے۔ 

جمہوریت اچھی حکومت کا ایک وسیلہ ہے۔ اگر وہ عوام کو اچھی حکمرانی نہیں دے پاتی، تو اس کا مطلب ہے وہ آمریت سے بھی بدتر ہے۔ مَیں خود سالہا سال کے تجربے اور مشاہدے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یہ کہاوت جس نے بھی ایجاد کی کہ بدترین جمہوریت بھی آمریت سے بہتر ہے، وہ کوئی دھوکے باز اور فراڈ آدمی تھا۔ بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ ایک نظام کو جمہوری بھی کہتے ہوں اور وہ بدترین بھی ہو۔ یہ دو عملی تو صرف عوام کو دھوکہ دینے کے لئے اختیار کی جاتی ہے۔ یہ شاید اس دوعملی کا نتیجہ ہے کہ ہمارے ہاں نہ جمہوریت مضبوط ہوئی اور نہ سول ادارے مضبوط ہو سکے۔ 

یہ بحث اپنی جگہ تفصیل طلب ہے کہ پاکستان میں جمہوریت بار بار فوجی مداخلت کی وجہ سے مضبوط نہیں ہوئی یا اس کی وجہ خود سیاست دان ہیں تاہم عوام کے نقط�ۂ نظر سے دیکھا جائے تو وہ جمہوریت میں زیادہ پستے ہیں۔ آمریتوں میں تو انہیں بنیادی جمہوریت کا نظام مل جاتا ہے، جو اُن کے مسائل حل کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے، مگر جمہوریت میں انہیں بلدیاتی نظام سے محروم کر دیا جاتا ہے اور عوامی نمائندے اُن کی دسترس سے باہر ہو جاتے ہیں۔ پرویز مشرف نے ٹھیک کہا ہے کہ اُن کے دور میں پٹرول بحران کبھی پیدا نہیں ہوا اور لوڈشیڈنگ بھی بہت کم تھی۔

سچی بات ہے مجھے ذاتی طور پر پرویز مشرف کا یہ کہنا بہت نامناسب لگا کہ وہ فوج کے چیف رہے ہیں، اس لئے حکومت کو احساس ہونا چاہئے کہ فوج اُن کی پشت پر کھڑی ہے۔ شاید اِسی لئے آصف علی زرداری نے بینظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ فوج واضح کرے وہ پرویز مشرف کو آگے لا رہی ہے یا نہیں۔میرا ذاتی نظریہ یہ ہے کہ اس وقت فوج بڑے بڑے چیلنجوں سے نبرد آزما ہے۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف جرأت مندانہ فیصلے کر رہے ہیں۔ یہ امر تسلیم شدہ ہے کہ فوج مُلک میں فیصلہ سازی سے لاتعلق نہیں، لیکن اسے کوئی مستحق اگر براہ است سیاست میں ملوث کرنے کی بات کرتا ہے تو یہ نامناسب ہے۔ 

پرویز مشرف اب ایک سیاست دان ہیں، انہیں یہ تاثر نہیں دینا چاہئے کہ فوج اُن کے ساتھ ہے۔ اگر وہ خود کو صرف سابق آرمی چیف تک محدود رکھتے تو پھر بھی کوئی جواز بنتا، مگر ایک سیاست دان کی حیثیت سے اگر وہ یہ دعویٰ کریں گے، تو پھر وہ اعتراضات ضرور اٹھیں گے،جن کا آصف علی زرداری نے ذکر کیا تھا۔ البتہ ان کی یہ بات درست ہے کہ انہیں انفرادی طور پر سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ 

حکومت نے اُن پر بغارت کا انفرادی مقدمہ بنا کر جو غلطی کی تھی وہ اس طرح سامنے آ گئی کہ عدالت نے سابق چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور سابق وزیراعظم شوکت عزیز کو بھی بطور شریک ملزم طلب کر رکھا ہے یوں خوامخواہ سابق فوجی قیادت اور سابق سول قیادت کے درمیان امتیازی سلوک روا رکھنے کی، جو مثال قائم کی گئی تھی اور جس کے باعث فوج اور حکومت کے درمیان تناؤ بھی پیدا ہوا تھا، غلط فیصلہ قرار پائی۔ فیصلوں میں اگر مفادات اور تعصبات شامل ہو جائیں تو وہ انفرادی اجتماعی سطح پر نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں، پرویز مشرف کا معاملہ اس کی بہترین مثال ہے۔

نسیم شاہد

No comments:

Powered by Blogger.