Header Ads

Breaking News
recent

’’چین، روس، بھارت، امریکہ‘‘...پاکستان کہاں ہے؟...

اطلاعات کے مطابق بھارتی وزیر خارجہ چار روزہ دورے پر اس اتوار کو چین پہنچیں گی۔ بھارتی وزیر خارجہ کا یہ دورہ امریکی صدر کے حالیہ دورہ بھارت کے سلسلے میں ہے جس کے متعلق چین نے اپنے سخت تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ اطلاعات یہ ہیں کہ بھارتی وزیرخارجہ ان تحفظات کے بارے میں بھارتی مؤقف پیش کریں گی اور ان تحفظات کو بھی دور کرنے کی کوشش کریں گی۔ 

چین کے ان تحفظات میں سب سے بڑا نقطہ امریکی صدر کے اس مؤقف کے بارے میں ہے جس میں انہوں نے خطے میں بڑھتے ہوئے چین کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے بارے میں بات کی تھی۔ امریکی مؤقف کے جواب میں بھارت نے بھی اس کی حمایت کی تھی۔ بھارت کی اس بے جا حمایت پر چین نے بھارت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور بھارت سے ناراضگی کا بھی اظہار کیا چونکہ چین بھارت میں بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے جس کے متعلق چینی صدر کے ستمبر 2014ء کے بھارتی دورے میں بہت سی یادداشتوں پر دستخط بھی ہوئے تھے۔ ان کے معاملات کھٹائی میں پڑتے دکھائی دے رہے ہیں۔

ان وجوہات کی بنا پر بھارت نے واپس چین سے تعلقات کو مثبت بنانے کے لیے وزیر خارجہ کو چار روزہ دورے پر فوری طور پر بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں اس رائے کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے کہ خود بھارتی وزیراعظم نریندر مودی بھی چین کے دورے کا ارادہ رکھتے ہیں تا کہ چین کے تحفظات کو فوری طور پر دور کیا جائے اور وہ معاملات جو بھارتی وزیراعظم اور چینی صدر کے درمیان طے ہوئے تھے ان کو بلا تعطل آگے بڑھایا جا سکے۔

 چینی صدر کا ستمبر 2014ء کا دورہ بھارت انتہائی اہمیت کا حامل تھا۔ جس میں چین نے بھارت کو تمام سرحدی اختلافات، ماضی کی تلخیاں اور دیگر معاملات کو بالائے طاق رکھ کر ایسے تعاون کی پیش کش کی تھی جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی لیکن اس کے باوجود بھارت نے چین کے ساتھ اس بہترین تعاون کو نظر انداز کرتے ہوئے امریکہ کو اس سلسلے میں ترجیح دی بلکہ امریکہ کی طرف سے چین پر نقطہ چینی اور تنقید کی بھی تائید کی۔ چینی صدر کے دورہ کے موقع پر بھارتی وزیراعظم مودی نے کہا تھا ’’چین اور بھارت اس وقت دنیا کی آبادی کا 35 فیصد ہیں۔ 

اگر یہ دونوں ممالک اکٹھے مل کر کام کرنا شروع کر دیں تو وہ دنیا کے لیے ترقی کے نئے دروازے کھول سکتے ہیں‘‘۔ لیکن اتنے تعلقات جتانے کے باوجود بھارت نے جنوری میں امریکہ کے ساتھ مل کر چین کے طریق کار کو ہدف تنقید بنایا حالانکہ آج بھی بھارت چین کے ساتھ مل کر دو طرفہ طور پر 65 ارب ڈالر کی تجارت کر رہا ہے۔ دونوں ممالک اس امر پر متفق ہیں کہ سال 2015ء میں اس تجار ت کا حجم بڑھا کر 100 ارب ڈالر تک لایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ چین نے بھارت میں اگلے پانچ سال میں 100 ارب ڈالر تک مزید سرمایہ کاری کرنے کی بھی منصوبہ بندی کی ہوئی ہے۔ چین اس وقت اقتصادی لحاظ سے بڑی تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ چین کے پاس 4 کھرب ڈالر کے ریزور ہیں جو کہ اس کی معیشت کی وسعت اور پختگی کا ثبوت ہیں۔

پچھلے کچھ عرصے سے دنیا میں سفارتی سطح پر ملکوں کے تعلقات میں تیزی سے تبدیلیاں واقع ہو رہی ہیں۔ اس سے حالات میں بھی تیزی سے تبدیلی آ رہی ہے۔ اس تبدیلی سے ترقی پذیر ممالک کے لیے نت نئے چیلنجز سامنے آ رہے ہیں۔ سرد جنگ کے بعد امریکہ صرف ایک بڑی طاقت کے طور پر ابھرا لیکن وقت کے ساتھ چین ایک بڑی اقتصادی طاقت کے طور پر ابھر کر سامنے آ گیا ہے جس کی معیشت اب امریکی معیشت سے بھی آگے بڑھ چکی ہے لیکن فوجی طاقت کے اعتبار سے امریکہ ابھی تک دنیا میں واحد ملک ہے جس کا کوئی تقابل نہیں۔ 

اس اعتبار سے ترقی پذیر ممالک کے سامنے بڑی مشکلات ہیں جو کہ ایک طرف معاشی ترقی اور تجارت کے لیے چین کی طرف دیکھتے ہیں اورفوجی طاقت کے لحاظ سے ان کا جھاؤ امریکہ کی طرف ہے۔ خاص طور پر وہ ممالک جہاں مختلف وجوہات کی بنا پر سیاسی تناؤ ہے انہیں اپنی جغرافیائی اور سیاسی وجوہات کی بنا پر اس طرح کا توازن قائم رکھنا مشکل ہو رہا ہے۔

بھارت بھی اس کشمکش میں مبتلا ہے چین اس کا ہمسایہ ہے جس کے ساتھ ہر قسم کے تجارتی اور اقتصادی معاملات ہیں۔ اگرچہ جغرافیائی اور سیاسی لحاظ سے دونوں ممالک میں توازن نہیں ہے لیکن بھارتی جنگی جنون اور سیاسی برتری اسے امریکہ کی طرف کھینچ کر لاتی ہے۔ اس وقت بھارت بعینہٖ اسی کشمکش میں مبتلا ہے۔ پاکستان اور بھارت چونکہ ہمسایہ ممالک ہیں جن کے بہت سے بنیادی مسائل تقسیم ہند سے آج تک حل طلب ہیں جن کے لیے دونوں ممالک میں شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔ اس لیے بھارت کی دوسرے ممالک سے تعلقات کا کوئی بھی سلسلہ پاکستان کے لیے بہت اہم ہے۔ اگرچہ پاکستان نے بھارت کے چین کے ساتھ اقتصادی تعلقات کے حوالے سے کبھی بھی تحفظات کا اظہار نہیں کیا لیکن اس بار امریکی صدر کے دورے کے حوالے سے پاکستان کی طرف سے بھی شدید تحفظات سامنے آئے ۔ 

خاص طور پر افغانستان میں بھارت کو خصوصی کردار دینے کے حوالے سے پاکستان نے تحفظات کا اظہار کیا۔ امریکہ نے جس طرح بھارت کو بین الاقوامی قوانین کو بالائے طاق رکھ کر سول نیو کلیئر ٹیکنالوجی کا معاہدہ کیا اسے بھی بین الاقوامی برادری نے پسند نہیں کیا۔ بلکہ اس پر اعتراضات بھی کیے گئے۔ امریکہ نے اس سے بڑھ کر بھارت کو 4 ارب ڈالر کی پیشکش کر دی جس سے بھارت میں سرمایہ کاری کر کے ترقی کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔ یہ سب اس لیے کیا گیا کہ بھارت چین کے قریب نہ جائے بلکہ بعض مبصرین نے تو براہ راست اسے چینی صدر کے دورہ بھارت کا جوابی نسخہ قرار دیا ہے تا کہ بھارت امریکہ کی لائن پر چل پڑے اور اس کے مفادات کے مطابق کام کرے۔

بھارت امریکی تعاون اور خاص طور پر فوجی تعاون سے پاکستان براہ راست متاثر ہوتا ہے کیونکہ خطے میں اس وقت پاک بھارت تعلقات اتنے اچھے نہیں ہیں۔ سرحدی جھڑپیں، آئے دن کے معاملات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ دونوں اطراف سے معاملات مثبت نہیں ہیں۔ دونوں ممالک میں ہونے والے امن مذاکرات بھی ختم ہو چکے ہیں اور فوی طور پر آگے بڑھنے اور امن کے دیرپا حصول کا کوئی موقع نظر نہیں آ رہا۔ ان حالات میں امریکہ کی طرف سے فوجی تعاون پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ امریکہ اور پاکستان ایک عرصے سے دہشت گردی کی جنگ میں ایک ساتھ ہیں جس میں پاکستان نے نہ صرف امریکہ بلکہ عالمی برادری کا بھرپور طریقے سے ساتھ دیا ہے لیکن اب جنگ پاکستان لڑ رہا ہے اور امریکہ اور اس کے اتحادی میدان جنگ چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

امریکہ اس سلسلے میں کب تک پاکستان کا ساتھ دے گا ۔ اگرچہ پاکستان سرد جنگ سے لے کر آج تک امریکہ کا اتحادی رہا ہے۔ ہاں البتہ چین کی طرف سے پاکستان کو ہمیشہ دست تعاون حاصل رہا ہے۔ پاکستان کے لیے چین کی طرف سے اقتصادی تعاون لازوال دوستی کا حاصل ہے۔ اس کو بڑی تیزی سے پاکستان کو آگے بڑھانا چاہیے اور اس پر کوئی قدغن کسی صورت نہیں آنی چاہیے۔ چین اور پاکستان کی جغرافیائی قربت بھی پاکستان کے لیے اچھے مواقع پیدا کر سکتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ بھارت کی سفارتی، تجارتی ، فوجی اور دیگر معاملات کو ماضی، حال اور مستقبل کے پیرائے میں دیکھنا ضروری ہے۔ اس کے لیے ایک خصوصی تھینک ٹینک قائم کرنے کی ضرورت ہے جو مسلسل اور لمحہ بہ لمحہ اس پر نظر رکھے اور قبل از وقت حکومت کو بتائے کہ اب کس طرح سے آگے بڑھنا ہے۔ پچھلے چار پانچ ماہ میں چین، روس اور امریکی صدور کے دورہ بھارت ہمارے لیے لمحۂ فکریہ ہونے چاہئیں۔

حسن اقبال
"بشکریہ روزنامہ "نئی بات

No comments:

Powered by Blogger.