Header Ads

Breaking News
recent

مہنگائی سروے، پاکستان تیسرا سستا ملک...

یہ پاکستان کے شہری خصوصاً راولپنڈی، لاہور اورکراچی کے رہنے والے بڑے ناشکرے ہیں کہ مہنگائی کا رونا روتے رہتے۔ ہر کوئی دہائی دیتا ہے کہ اشیاء ضرورت اور خوردونوش بہت مہنگی ہوگئی ہیں، اسی طرح ٹرانسپورٹ کرایوں کی زیادتی کا بھی شور مچایا جاتا ہے، یہ سب یونہی ہے کہ ایک ویب سائٹ نے جو سروے کیا اس کے مطابق تو پاکستان دنیا میں تیسرے نمبر پر سستا ملک ہے اور اس ملک میں راولپنڈی، لاہور اور کراچی ایسے شہر ہیں جو بتدریج باقی شہروں کی نسبت سستے ہیں۔ 

اس سروے میں بتایا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا کے تمام ممالک میں بھارت سب سے سستا ہے جبکہ نیپال دوسرے اور پاکستان تیسرے نمبر ہے۔ بنگلہ دیش ان سے کہیں مہنگا اور اس کا گیارہواں نمبر ہے۔سوئٹزرلینڈ، ناروے اور وینزویلا کو دنیا کے مہنگے ترین ممالک قرار دیا گیا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے کرایوں کے حوالے سے نیپال کو نمبر ایک اور پاکستان کو دوسرا درجہ دیا گیا ہے یہ سروے رپورٹ بڑی خوش کن ہے، اس خبر کو پڑھ کر تو لوگوں کی بھوک ہی اڑ گئی ہو گی کہ خوامخوا شور مچاتے ہیں، حالانکہ پاکستان کا ایک اپنا مقام ہے اور وہ تیسرا اور دوسرا درجہ ہے ۔

ابھی ایک اور خبر کا ذکر مقصود ہے کہ پٹرول کے حالات بہتر ہوئے اور لاہوریوں کے لئے سی این جی جاری رکھنے کے اقدام کی وجہ سے ایل پی جی کے نرخ بھی کم ہو گئے اور گھریلو سلنڈر پندرہ روپے فی کلو سستا ہو کر 110روپے فی کلو ہو گیا ہے۔اس سے پہلے یہ 125روپے فی کلو بک رہی تھی، یہ بھی اطمینان بخش تھی لیکن کیا کریں جب صبح ہی دفتر آتے وقت ایل پی جی فروخت کرنے والی دکانوں پر نظر ڈالی تو وہاں نرخ ایک سو دس کی بجائے 120روپے فی کلو لکھے ہوئے تھے اور اس طرح یہ خوشی تو آدھی رہ گئی اور آدھی درست بھی ہے کہ گیس دستیاب ہے لیکن 120روپے فی کلو نرخ مقرر کر دیئے گئے ہیں اور پھر جب فروٹ یعنی پھل کی طرف رخ کیا تو معلوم ہوا کہ کینو کے سوا کوئی پھل بھی سستا نہیں ہوا۔ سیب، امرود اور کیلے بدستور انہی نرخوں پر فرخت ہو رہے ہیں جو پٹرولیم کی شکایات سے پہلے تھے دوسرے معنوں میں پھلوں پر کوئی تاثر نہیں بنا، یہی حال کچھ سبزیوں کا ہے کہ موسم اور زیادہ آمد کی وجہ سے مٹر اور گو بھی سستے ہوئے ہیں۔ باقی سبزیوں (آلو اور پیاز سمیت) کے نرخ کم نہیں ہوئے، بلکہ بعض سبزیوں کے نرخ بڑھ گئے اس لئے اس خبر سے تو خوش ہوا جا سکتا ہے۔

خبر میں سروے کے مطابق یہ تو بتایا گیا کہ کون سے ممالک کس حیثیت میں ہیں، لیکن یہ تو بتایا نہیں گیا کہ سستے ممالک کی فی کس آمدنی کتنی اور ان کے مقابلے میں دوسرے ممالک اور شہروں کی کتنی ہے کیونکہ اشیاء ضرورت اور خوردنی بھی تو اسی تناسب سے سستی اور مہنگی محسوس ہوتی ہیں۔ زیادہ آمدنی ہو تو ہر شے سستی لگتی ہے اور اگر آمدنی کم ہو تو ہر چیز مہنگی اور پہنچ سے باہر ہوتی ہے۔

 اس سلسلے مین بنئے کے بارے میں کہی گئی کہاوت زیادہ معنی خیز ہے وہ یوں کہ بنئے کے بچے نے ضد کی اور ہاتھی مانگا جب نرخ دریافت کئے گئے تو سرمایہ کاری کی زبان میں ایک روپیہ بتایا گیا، بنئے صاحب نے بچے کوبہلایا اور بتایا کہ یہ بہت مہنگا ہے، کچھ عرصہ بعد پھر باپ بیٹا بازار سے گزر رہے تھے تو ہاتھی فروخت کرنے والا سامنے آ گیا۔ نرخ پوچھا تو بتایا گیا ہاتھی سو روپے کا ہے۔باپ نے فوری طور پر سو روپے ادا کئے اور ہاتھی لے کر بچے کو دے دیا، بچہ حیران تھا، اس نے باپ سے دریافت کیا کہ جب ہاتھی ایک روپے کا تھا تو آپ نے لے کر نہیں دیا، اب یہ سو روپے کا لے لیا ہے، تاجر باپ نے جواب دیا’’بیٹا جب ہاتھی ایک روپے کا تھا تو میرے پاس کچھ نہیں تھا اور آج اللہ نے مجھے سب کچھ دیا ہے اس وقت ایک روپیہ خرچ کرنا بھی ممکن نہیں تھا اور آج ایک سو روپیہ بھی ادا کیا جا سکتا ہے‘‘۔تو قارئین کرام! بات تو آپ کی استطاعت اور آپ کے ذریعہ آمدنی اور اوسط کی ہے جس سے یہ سب کچھ بھی ناپا جا سکتا ہے۔

اس کے لئے ہم ذرا ماضی میں جھانک لیتے ہیں۔1958ء کے ایوب خان والے ’’انقلاب‘‘ سے قبل بکرے کا گوشت سوا روپے کا سیر اور دیسی گھی چار روپے سیر ملتا تھا، اسی حوالے سے تانگوں اور بسوں کے کرائے تھے، اس سے ذرا آگے بڑھیں 1962ء میں ہماری اپنی ماہوار تنخواہ یا آمدنی سوا پانچ سو روپے تھی اور اس میں بہت ہی آسانی سے گزر اوقات ہوتی تھی۔ یہ تناسب 1970ء تک بھی برقرار رہا، ان دنوں رکشا اور ٹیکسی میٹر پر چلتے تھے، رکشا کا کرایہ آٹھ آنے(پچاس پیسے) فی میل اور تیکسی کا ایک روپیہ چار آنے (پچیس پیسے) فی میل تھا اور یہ میٹر پر چلتے تھے، اگر بچپن یا لڑکپن کے حالات کا ذکر کریں تو ایک آنے کا کلچہ اور اس پر دہی کی ملائی مفت ملتی تھی،

 تو اے قارئین! اب ذرا موجودہ حالات پر غور کریں تو معلوم ہو گا کہ رکشا فی کلو میٹر کم از کم 20روپے چارج کر رہا ہے اور ٹیکسیاں اس سے مہنگی ہیں، اس لئے یہ سروے مشکوک ہوجاتا ہے کہ ابھی تک تو مہنگائی ہی مہنگائی ہے اور لوگ رو بھی رہے ہیں۔

جہاں تک دوسرے ممالک سے تقابل کی بات ہے تو ساتھ ہی فی کس آمدنی کا پتہ کرکے درجہ بندی کئے بغیر صحیح نتیجہ اخذ کرنا ممکن نہیں، اب ذرا کراچی، لاہور اور راولپنڈی کا تقابل کریں تو احساس ہوتا ہے کہ یہی سروے کسی حد تک ٹھیک ہے کہ لاہور اور گردونواح میں حالات معمول پر اور کراچی کی نسبت اکثر اشیاء سستی ہیں، بھارت میں بھی ایسا ممکن ہے لیکن ہم کو سفر کئے زیادہ عرصہ ہو گیا۔ 

اس لئے کوئی رائے تو نہیں دے سکتے ویسے ماضی میں جب بھی گئے کوئی زیادہ فرق نہ نکلا بعض اشیاء جو بھارت یا پاکستان ہی میں ہوتی ہیں تو وہ ایک دوسرے ملک سے ذرا سستی ہوتی ہین، جیسے کاجو بھارت میں اور کپڑا پاکستان میں مقابلتاً سستا ہے۔ پاکستان میں تو اب دالوں کے پرچون نرخ اتنے ہیں کہ غریب آدمی دال بھی کھانے کے لئے دس بار سوچتا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ ویب سروے کو چھوڑ کر خود ہوشیاری سے معلوم کریں تو آپ کے چودہ طبق روشن ہو جائیں گے۔

چوہدری خادم حسین

No comments:

Powered by Blogger.