Header Ads

Breaking News
recent

عدلیہ پر تیر اندازی کیوں ؟....

پاکستان اس وقت جس صورت حال سے دوچار ہے وہ کسی بھی لحاظ سے باعث اطمینان نہیں ہے۔ تمام اہم ملکی ادارے اس بات کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں کہ ملک 1971 کے بعد سب سے بڑے بحران اور کڑے امتحان سے دوچار ہے۔ 1971کے بحران نے دنیا کے سب سے بڑے اسلامی ملک کو دو لخت کر دیا تھا ۔ آج ملک کو دہشت گردی کا سامنا ہے۔ گزشتہ پندرہ سالوں سے یہ دہشت گردی ہمارا پیچھا کئے ہوئے ہے۔ دہشت گردی کے اس عفریت نے ہماری معاشرتی اور معاشی ترقی کو روک دیا ہے۔ فوج کے تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل عاصم باجوہ کے الفاظ میں بھارت بھی دہشت گردی کے اس کھیل میں ملوث ہے جو بھارت کیوں کر مانے گا۔

 وہ تو الٹا ہی پاکستان کو مورد الزام ٹہراتا ہے۔ لیکن پاکستان میں بھی ایسے نادان موجود ہیں جو بھارت کی بات کو ہی درست تسلیم کرتے ہیں۔ بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف بھی کہتے ہیں کہ پاکستان کے حالات فیصلہ کن مرحلے میں ہے۔ ایسے نازک حالات میں ملک کے تین بڑے ستون انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ کے درمیان کشیدگی کسی طور پر بھی پاکستان کے لئے مناسب تصور نہیں کی جاسکتی ہے۔ اب تو سپریم کورٹ نے بھی کھل کر کہہ دیا ہے کہ فوجی عدالتیں بنانے کی ضرورت نہیں تھی۔

 فوجی عدالتوں کے قیام پر اعلی ترین عدلیہ کے ججوں نے اظہار خیال اس وقت کیا ہے جب پارلیمنٹ آئین میں ترمیم کر چکی ہے لیکن ان جج حضرات کے اعتراضات عمومی نہیں کہ انہیں جھٹک دیا جائے یا خارج کیا جا سکے۔ اگر فوجی عدالتیں وہ کام نہیں کر سکیں جس کے بارے میں فوج یا حکومت نے سوچا ہے تو پھر ہم کہاں کھڑے ہوئے ہوں گے؟ اتفاق رائے سے قبل وزیر اعظم نواز شریف نے عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا ۔

 دوسرے ہی روز انہوں نے وضاحت بھی کی لیکن تاخیر اس لئے ہو چکی تھی کہ اعلی ترین عدلیہ کے ججوں نے ان کے بیان پر ایک مقدمے کی سماعت کے دوران اپنے رد عمل کا اظہار کر دیا تھا۔

پاکستان میں تو سارے ہی حکمران عدلیہ پر اپنے اپنے وقت پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ بعض نے تو ججوں کے ساتھ افسوس ناک سلوک روا رکھنے سے بھی گریز نہیں کیا۔ ایوب، بھٹو، مشرف، مرحومہ بے نظیر اور نواز شریف عدلیہ سے اکثر ناخوش ہی رہے۔ کوئی زیادہ اور کوئی کم۔ سیاسست دانوں، دانشوروں، سیاسی مبصرین اور ہر ایک نے ایک وطیرہ اختیار کر لیا ہے کہ ہر ادارے کی توقیر پر انگلی اٹھا دی جائے سو وہ ایسا کرتے ہی رہتے ہیں۔ یہ آزادی اظہار کی ایک ایسی صنف ہے جس کی مثال دنیا میں بہت کم ملتی ہے۔ 

عدالتوں کے بارے میں معادانہ رویہ نیچے تک سرایت کر گیا ہے۔ بدھ کے روز سندھ اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر حیدرآباد میں تھیں۔ وہ سی پی ایل سی کی جانب سے خواتین کے لئے مرکز شکایت کے قیام کی افتتا حی ٰ تقریب میں مہمان خصوصی تھیں۔ اس میں تقریر کرتے ہوئے محترمہ نے ہائی کورٹ کے ایک فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے ججوں کو ان لوگوں کا جو بقول ان کے اپنی مرضی کی شریعت نافذ کرانا چاہتے ہیں ، سہولت کار قرار دے دیا۔

جب ان سے وضاحت مانگی گئی اور انہیں یہ احساس دلایا گیا کہ آپ نے ججوں کو سہولت کار قرار دے دیا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ججوں کو نہیں کہا بلکہ ہر اس شخص کو کہا ہے جو دباؤ کا شکار ہے یا زیر اثر ہے۔ وہ اس بات پر بھی بضد تھیں کہ انہوں نے ججوں کے کنڈکٹ پر تنقید نہیں کی ہے بلکہ فیصلے پر تنقید کی ہے اور فیصلہ عوام کی ملکیت ہوتا ہے۔ یہ بھی خوب استدلال ہے۔ عدلیہ کا فیصلہ عوام کی ملکیت اس حوالے سے ہوتا ہے کہ حکومت اس پر عمل کرائے اور انتظامیہ کی ناکامی کی صورت میں عوام اس پر دباؤ ڈالیں۔

 اگر کسی کو عدلیہ کا فیصلہ قبول نہیں تو پھر اسے عدالتی طریقہ کار ہی اپنانا ہوتا ہے۔ فیصلے کے خلاف اپیل، فیصلے ہر نظر ثانی کی درخواست دائر کرنے کا حق دیا گیا ہے۔ لیکن اگر عدلیہ کے فیصلوں کو عوام الناس کے درمیان تنقید کا نشانہ بنایا جائے گا تو پھر عدلیہ کی توقیر پر حرف آتا ہے۔ جو کسی بھی حالت میں ملک، عوام اور عدلیہ کے لئے بہتر نہیں قرار دیا جاسکتا۔ ہفتہ کے روز حیدرآباد میں ہی مجلس وحدت المسلمین کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ امین شہیدی نے ایک پریس کانفرنس میں عدلیہ پر اس طرح انگلی اٹھائی کہ ’’پیسے اور سیاسی اثر و نفوذ کی بنیاد پر جن دہشت گردوں کو رہا کیا گیا ہے، حکومت ان کے مقدمات نئے سرے سے فوجی عدالتوں میں پیش کرے‘‘۔ یہ عدالتوں پر عدم اعتماد نہیں تو کیا ہے۔ ؟

ایک مقدمے میں دو رکنی بنچ کے سربراہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے عدالتوں میں زیر التواء مقدمات کے حوالے سے شائع ہونے والے وزیر اعظم کے بیان پر سخت ردعمل اور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ عدالتوں میں مقدمات کے زیر التوا رہنے کی ذمہ دار عدالتیں نہیں خود سرکار ہے۔ حکومت خود کو نااہل قرار دے کر بھی تمام تر الزامات عدالتوں پر تھوپ دیتی ہے۔ ایک طرف سرکار کہتی ہے کہ ان کی اپنی نااہلی ہے کہ وہ موثر قانون سازی نہیں کر سکتی دوسری طرف کہہ رہی ہے کہ عدالتیں اپنا کام نہیں کرتیں، جب ملزمان کیخلاف شہادتیں اکٹھی نہیں ہوں گی، چالان مکمل نہیں ہوں گے ملزمان عدالتوں سے بری ہوتے رہیں گے ۔

 اسی سماعت کے دوران جسٹس سرمد جلال عثمانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فوجی عدالتیں بنانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی ، کیا فوجی عدالتوں میں بیٹھے جج موجودہ اعلی ٰ عدلیہ میں بیٹھے ججوں سے زیادہ ذہین ، فرض شناس اور قابل ہیں کہ وہ سارے مسائل کا خاتمہ کر دیں گے۔ عدالتوں میں عملہ کم ہے انہی عدالتوں میں مسائل ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ عوام الناس کو انصاف فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ عدالتیں اپنا کام کریں یا حکومت کا بھی کام کریں۔

 اگر حکومت نے اپنا کام نہیں کرنا تو عدالت کو ہی حکومت کرنے کا اختیار بھی دے دے۔حکومت عوام کے ساتھ مذاق بند کرے یہ ایک سنجیدہ اور حساس معاملہ ہے۔ جسٹس خواجہ مزید کہتے ہیں کہ عوام پریشان ہیں عوام کو بھی تو پتہ چلنا چاہئے کہ ان کے عدالتوں میں مقدمات کیوں زیر التوا ہیں اور اس کے ذمہ دار کون لوگ ہیں۔ عدالتوں کا کام حقائق کی روشنی میں اور جمع کروائی گئی شہادتوں کو دیکھ کر فیصلہ کرنا ہے۔ عدالتیں کسی کو بے گناہ لٹکا نہیں سکتیں۔ حکومت قانون بنادے کہ غلطی بھی حکومت کی ہو مگر عدالتیں ملزمان کو بری نہ کریں۔

اس تماش گاہ میں واقف کار لوگ آگا ہ ہیں کہ پولس مقدمہ سازی میں کہاں کہاں اور کیوں کیوں کوتاہی کی مرتکب ہوتی ہے جس کی وجہ سے ملزمان رہائی پا لیتے ہیں۔ حکومتوں کو اس کا علاج تلاش کرنا چاہئے ناکہ عدلیہ پر تیر اندازی کی جائے۔ پولس کی نااہلی یا دانستہ کوتاہی خود ایک خطر ناک رجحان پیدا کر رہا ہے۔ ایک پولس افسر نے حال ہی میں مجھ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان کو عدالتوں میں بھیجنے سے بہتر ہے کہ ہم ہی ان کو مٹا دیں۔ یہ رجحان یوں خطرناک ہے کہ معاشرہ ریاستی سطح پر فسطا ئیت کا شکار ہو جائے گا اور اس وقت سول عدالتیں تو کیا، خصوصی یا فوجی عدالتیں بھی کچھ نہیں کر پائیں گی۔ 

معاشرہ جس بری طرح تقسیم ہے اس کا ایک مظاہرہ تو حال ہی میں سامنے آیا۔ فرانسیسی جریدے کے خلاف پاکستان کے کسی بھی شہر میں دس لاکھ انسان اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کے لئے جمع نہیں ہو سکے۔ حیدرآباد میں مظاہرے تو کئے گئے لیکن کیا صحافی، کیا وکلاء ، کیا سیاسی رہنماء اور کارکن اور کیا مذہب کے نام پر سیاست کرنے والی جماعتیں ۔ سب ہی ٹکڑیوں تقسیم تھے یا ٹکڑے ٹکڑے تھے۔ کوئی ایسی شعوری کوشش بھی نہیں کی گئی کہ سب مل کر ایک بہت بڑا مظاہرہ کرتے تاکہ یہ ثابت ہو تا کہ آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام متحد ہیں۔ماسٹر جمیل صاحب سے اسی موضوع پر گفتگو ہو رہی تھی تو انہوں نے واجد سعیدی مرحوم کا بیس یا پچیس سال قبل کہا گیا ایک شعر سنایا ۔

وحدت پرست ٹکڑیوں میں بٹ گئے واجد
ہزاروں پرچموں نے لاج کھو دی ایک پرچم کی

علی حسن

No comments:

Powered by Blogger.