Header Ads

Breaking News
recent

فلسطین کی انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کی رکنیت کی منظوری....


اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے فلسطین کی طرف سے انٹرنیشنل کرمنل کورٹ (جرائم کی عالمی عدالت) کی رکنیت حاصل کرنے کی درخواست منظور کر لی ہے جس کے بعد اسرائیل کے خلاف عالمی عدالت میں جنگی جرائم کے مقدمات دائر کیے جانے کا راستہ کھل سکتا ہے۔

بان کی مون کے اس فیصلے سے اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے بھرپور مخالفت کے باوجود ہیگ میں قائم عالمی عدالت یکم اپریل کے بعد سے فلسطینی علاقوں میں مبینہ جنگی جرائم پر مقدمات چلا سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیون یوجرک نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ سیکریٹری جنرل بان کی مون نے اس فیصلے سے آئی سی سی کے رکن ممالک کو منگل کی شام کو آگاہ کر دیا تھا۔

اقوام متحدہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سیکریٹری جنرل نے اس بات کی تصدیق کر لی ہے کہ فلسطین کی طرف سے یہ درخواست قواعد کے مطابق دی گئی تھی۔

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے آئی سی سی اور دیگر 16 عالمی معاہدوں اور دستاویزات پر دستخط 31 دسمبر کو سلامتی کونسل کی طرف سے ان کی ایک قرارداد رد کیے جانے کے ایک دن بعد کیے تھے۔

اسرائیل نے فلسطینی اتھارٹی کے اس اقدام کے رد عمل میں 12 کروڑ سات لاکھ ڈالر کے محصولات روک لیے تھے۔ اس کے علاوہ اسرائیل نے فلسطین کے خلاف اور بھی اقدامات کرنے کی دھمکی دی تھی۔ امریکہ نے فلسطین کی طرف سے آئی سی سی کی رکنیت حاصل کرنے کی درخواست کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس کا منفی اثر ہوگا۔

امریکی کانگریس نےبھی 44 کروڑ ڈالر کی امداد روک لینے کی دھمکی دی ہے۔
فلسطین نے آئی سی سی سے کہا ہے کہ وہ گذشتہ سال غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کشی کے دوران ممکنہ جنگی جرائم کے واقعات کی چھان بین کرے۔
گذشتہ برس 50 دن تک غزہ پر اسرائیل کی فوج کشی کی وجہ سے 2200 فلسطینی ہلاک ہو گئے تھے جن میں چار سو سے زیادہ بچے بھی شامل تھے۔

اقوام متحدہ میں فلسطینی مندوب ریاض منصور کا کہنا ہے کہ فلسطین آئی سی سی میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے برخلاف اسرائیل کی طرف سے فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر کے بارے میں بھی ایک درخواست دائر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اقوام متحدہ نے سنہ 2012 میں فلسطین کی حیثیت مبصر سے بڑھا کر مبصر ملک کی کر دی تھی جس کے بعد فلسطین کو اقوام متحدہ کے مختلف اداروں کی رکنیت حاصل کرنے کا حق حاصل ہو گیا تھا۔

آئی سی سی میں رکنیت حاصل کرنا مسئلہ فلسطین کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی فلسطینی حکام کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

No comments:

Powered by Blogger.