Header Ads

Breaking News
recent

امریکہ بھارت گتھ جوڑ....

امریکی صدر اوباما نے 25 جنوری سے شروع ہونے والے بھارت کے دوسرے دورے سے قبل بھارت کے جریدے انڈیا ٹو ڈے کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ ’26 نومبر کو ممبئی پر دہشت گردانہ حملوں میں ملوث افراد کو ہر حال میں عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا (ڈان 24 جنوری 015) اس سے قبل برطانیہ اور امریکہ دونوں نے حکومت پاکستان سے ذکی الرحمن لکھوی کی حوالگی کا مطالبہ کیا تھا جبکہ امریکہ کے مسلسل دباؤ پر نواز حکومت نے جماعۃ الدعوۃ اور حقانی قبائل سمیت کئی تنظیموں پر پابندی عائد کردی۔ ساتھ ہی الرشید وقف سمیت دیگر فلاحی اور کرنسی کا کاروبار کرنے والی کمپنیوں پر بھی پابندیاں عائد کردیں۔

 ان میں سے کچھ کمپنیاں اور ادارے پاکستان میں زلزلے سیلاب اور دیگر ارضی و سماوی مصائب میں راحت رسانی کا کام انجام دیتے رہے جہاں تک الرشید ٹرسٹ کا تعلق ہے تو اس پر تو امریکی آقاؤں کے حکم سے پہلے ہی پابندی عائد کرائی گئی تھی یعنی 11 ستمبر کو جارج بش کے صلیبی جنگ کے اعلان کے بعد بنی۔ یہ ادارہ غیرسیاسی، غیرعسکری اور خالص دینی و فلاحی نوعیت کا حامل ہے جس کا جدید خطوط پر منظم شعبہ اکاؤنٹ ہے اور اسے مخیر شہریوں سے موصول ہونے والی رقوم اور ٹرسٹ کی جانب سے کیے گئے اخراجات کا انتہائی شفاف اندراج موجود ہے جو متعلقہ حکام کے معائنے کے لئے ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔

 یہ ٹرسٹ جامعۃ الرشید جیسی معیاری رہائش گاہ قائم کر چکا ہے جہاں جدید علوم و فنون کے ساتھ فقہ اور اسلامیات کی تعلیم دی جاتی ہے اور اس میں سند یافتہ ماہرین تعلیم درس و تدریس کے فرائض انجام دیتے ہیں۔ چنانچہ ایسے ٹرسٹ کے کے کھاتے کو منجمد کرنا علم دشمنی کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے۔

اگر الرشید ٹرسٹ اندرون و بیرون ملک تخریب کاری یا دہشت گردی کی کسی واردات میں ملوث ہے تو اس پر کھلی عدالت میں مقدمہ چلایا جانا چاہیے اگر وہ اس میں ملوث پایا گیا تو اسے قانون کے مطابق سزا دی جانی چاہیے لیکن یہ مہذب دنیا کے کسی بھی ضابطے اور قانون کی رو سے مناسب نہیں ہے، نوکر شاہی اپنے بیرونی آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے ایسے ادارے کے اثاثے ضبط کر لے جو سیلاب، زلزلے اور قحط زدہ ہم وطنوں کو راحت بآسانی فراہم کرتا ہے۔ 

جب الرشید ٹرسٹ کے ساتھ ایسی زیادتی کی جا ری ہے تو ان تمام تنظیموں پر عائد کردہ پابندیاں بھی مشکوک اور غیرشفاف تصور کی جائے گی۔ بات دراصل یہ ہے کہ نوکرشاہی کو ان تنظیموں کی فلاحی سرگرمیوں پر صرف کی گئی رقوم غبن اور خوردبرد کا موقع نہیں ملتا جو انہیں امریکی امداد میں حاصل ہوتا ہے اس لئے سرکاری اہلکار ملک میں ہر بار دہشت گردی کی آڑ میں ان فلاحی اداروں پر پابندیاں عائد کردیتے ہیں، آخر اس وقت پاکستان کی نصف درجن خفیہ ایجنسیاں کہاں سوئی ہوئی تھی جو ان امریکی ایجنٹوں کی نشاندہی نہیں کرسکیں جو 2005ء میں بالاکوٹ اور آزادکشمیر میں زلزلے سے متاثرہ افراد کی راحت رسانی کے بہانے ملک میں گھس آئے تھے۔ 

اس کا انکشاف بھی امریکہ نے ہی کیا تھا دنیا کو یہ دکھانے کے لئے کہ وہ پاکستان کی ایجنسیوں کی آنکھوں میں کس طرح دھول جھونک کر دراندازی کرتا ہے۔ امریکہ نے تو بی سی سی آئی پر کرنسی میں ہیرا پھیری Money Laundering کا الزام لگا کر اس لئے اسے بند کرادیا تھا کہ اس پر اسے شبہ تھا کہ اس نے پاکستان میں جوہری بم سازی کو درکار کل پرزے خرید کر پاکستان سمگل کئے تھے۔

اس زمانے میں مغربی ذرائع ابلاغ پاکستان کے جوہری منصوبے کے خلاف افواہ گردی کی مہم چلائے ہوئے تھے جس کا ہدف ذوالفقار علی بھٹو تھے جن کو Islamic Bomb فلم میں مرکزی کردار کے طور پر پیش کیا گیا تھا اور امریکہ کے یہودی دربار میں ہنری کسنجر نے انہیں نشان عبرت بنانے کی دھمکی دی تھی اگر وہ جوہری بم سازی کے منصوبے سے دستبردار نہیں ہوئے۔ یہ سلسلہ جنرل ضیاء الحق تک جاری رہا اور اب بھی جاری ہے چنانچہ پاکستان کے سابق سپہ سالار جنرل کیانی نے اوباما کی ڈومور کی رٹ سے تنگ آکر مبینہ طور پر اسے ایک طویل مراسلے میں جتا دیا تھا کہ وہ (اوباما) دراصل پاکستان کو اس کے جوی اسلحہ سے محروم کر دینا چاہتا ہے۔

 اوباما جان لے کہ افواج پاکستان صورت حال کی نزاکت کے تحت کبھی کبھار تو شاید اس کے انتہائی نامعقول مطالبات کو مان لیں لیکن اسے یا کسی کو اپنے ایٹمی اسلحہ خانے کے پاس پھٹکنے نہیں دینگی۔ کیا امریکی اور فرانسیسی ایجنسیوں کو یاد نہیں کہ پاکستان کے جانباز کمانڈروں نے اس وقت کے فرانسیسی سفیر کے دانت توڑ دیئے تھے جو آداب سفارت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کہوٹہ کی تجربہ گاہ کے آس پاس مشتبہ حالت میں منڈلا رہا تھا اور بی بی سی کو تو ضرور یاد ہوگا کہ اس کے رپورٹر کرس شرول کا کیا حشر ہوا تھا جو کہوٹہ ریسرچ لیبارٹری کے علاقے میں پاکستان کے جوہری منصوبے کی ٹوہ لے رہا تھا۔ امریکی انتظامیہ نے اپنے جاسوس ڈاکٹر شکیل آفریدی کو پولیو انسداد مہم کی آڑ میں اسامہ بن لادن کا سراغ لگانے کے لئے استعمال کیا تھا۔ 

پھر کس طرح آئی ایس آئی نے اسے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ اوباما ایک تو بھارت کے کہنے پر ذکی الرحمن لکھوی اور حافظ محمد سعید کو قید کرنے کا مطالبہ کرتا ہے لیکن اپنے جاسوس ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی پر اصرار کرتا ہے! اوبابا کو شرم آنی چاہیے کہ وہ ریمنڈ ڈیوس جیسے کرائے کے قاتل کو سفارتکار کہتا ہے اور اسے ویانا کنونشن کے تحت قتل کے جرم سے استثنیٰ دلوانا چاہتا ہے کہ نوجوان سیاہ فام مائیکل براؤن کے قاتل پولیس اہلکار کو رہا کردیا جاتا ہے۔

 جنوری کو نئی دہلی پہنچنے سے قبل اس نے مذکورہ بھارتی جریدے سے کہا کہ امریکہ اور بھارت کے تعلقات پاکستان سے ماورا ہیں۔ امریکہ اور بھارت قدرتی ساجھے دار ہیں کیونکہ ان کی طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔ دونوں ہی نجی سرمائے کی آزادی، تبدیلی، اختراعات، سائنس اور ٹیکنالوجی کے حامل معاشرے ہیں۔ اوباما نے اعلان کیا کہ وہ بھارت کی سلامتی کونسل میں مستقل رکنیت کی حمایت کرتا ہے کیونکہ بھارت ایک اہم عالمی طاقت ہے جسے امریکہ کے اشتراک سے ایشیا بحرالکاہل میں موثر کردار ادا کرنا ہے(ڈان ہفتہ 24 جنوری 015اب پاکستان کے حکمران اور پریم سبھا کا طائفہ دیکھ لیں کہ امریکہ کی نظر میں ان کی کیا اوقات ہے؟ لیکن یہ اوباما کی بھول ہے۔ 

بھارت کشمیر میں اقوام متحدہ کی تحویل میں رائے شماری کرائے بغیر اس ادارے کا رکن نہیں بن سکتا کیونکہ سلامتی کونسل کی قرارداد کی خلاف ورزی کرنے والی کوئی ریاست عالمی تنظیم کی رکنیت کی اہل نہیں ہوسکتی۔ بھارت سے زیادہ افریقی اور لاطینی امریکہ کی ریاستیں مثلاً جنوبی افریقہ اور برازیل اقوام متحدہ کی رکنیت کی مستحق ہیں کیونکہ اس انجمن میں براعظموں کی کوئی نمائندگی نہیں ہے جبکہ ایشیا کی نمائندگی عوامی جمہوریہ چین کرتا ہے جو بھارت سے کہیں زیادہ باوسائل اور طاقتور ریاست ہے۔ دراصل اوباما بھارت کو چین کے خلاف کھڑا کرنا چاہتا ہے، وہ اسے بحرالکاہل میں اپنا کردار ادا کرنے کی دعوت دے رہا ہے جبکہ بھارت بحرہند میں واقع ہے۔

پروفیسر شمیم اختر
"بہ شکریہ روزنامہ "نئی بات


No comments:

Powered by Blogger.